یاسمین عصمت
فیروزپور بارہ بنکی
بڑے ہی مبارک لمحات اور بڑی ہی قیمتی گھڑیاں چل رہی ہیں جس میں اللہ تعالی کی رحمتوں کی بارش ہورہی ہے۔ رحمت اور مغفرت کا عشرہ گزر گیا، اب یہ تیسرا عشرہ جہنم سے خلاصی کا چل رہا ہے-
اللہ تعالی نے اس امت کو بہت اونچا مقام عطا فرمایا ہے اللہ تعالی نے اپنے قرآن میں اس امت کی تمام امتوں پر فضیلت اور برتری کو ظاہر فرمایا ہے۔كنتم خير امهتہ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنهون عن المنكر(تم بہترین امت ہو)۔ کسی اور امت کو خیر امت کا خطاب نہیں ملا تمہیں وجود دیا گیا لوگوں کی نفع رسائی کے لیے- تمہارا کام اور تمہارا وظیفہ حیات ہے امر بالمعروف اور نہیں عن المنکر- اس امت کے نبی سارے نبیوں سے افضل اور یہ امت ساری امتوں سے بہتر- یہ امت سب سے آخر میں آئی اور سب سے پہلے جنت میں جائے گی- الجنتہ حرمت على الانبياء حتى ادخلها۰ وحرمت على الامم حتى تدخلها امتي( جنت سارے نبیوں پر حرام ہے یہاں تک کہ میں جنت میں داخل نہ ہو جاؤں)
شب قدر کی فضیلت:
اندازہ لگاؤ اللہ تعالی نے اس امت کو کیا عظمت عطا کی ہے اللہ تعالی نے اس امت کو نوازنے کے لیے مختلف مواقع اور گھڑیاں دی ہیں اور مقامات دیے ہیں- رمضان کا یہ مہینہ اس نے امت کو نوازنے کے لیے دیا ہے پھر اس مہینے میں ایک رات مرحمت فرمائی جس میں اللہ تعالی اس امت کے لیے اپنی نوازش کے دہانے کھول دیتا ہے-انا انزلناہ فی لیلۃ القدر لیلۃ القدر( بے شک ہم نے قرآن کو لیلۃ القدر میں اتارا)شب قدر کی فضیلت کے لیے یہی کافی تھا کہ اللہ تعالی نے اپنا کلام اس رات میں اتارا۔اللہ تعالیٰ آگے اس رات کا تعارف کرواتے ہیں’’ آپ کو پتہ ہے کہ لیلۃ القدر کیا ہے اور اس کی شان کیا ہے‘‘ لوگوں تمہارے اوپر ایک مہینہ آرہا ہے جس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے یہ رات جس خوش نصیب کو نصیب ہو جائے اس کی مغفرت ہو جاتی ہے اسکے پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں- لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے یہاں گناہوں سے مراد صغیرہ گناہ ہیں: اس لیے کہ علماء کا اجماع ہے کہ کبیرہ گناہ بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے۔
لیلۃ القدر کی پہلی فضیلت کہ اس میں قران کا نزول ہوا۔ دوسری فضیلت کہ یہ ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔اور تیسری فضیلت یہ ہے کہ اس رات میں فرشتے اور روح القدس اترتے ہیں اپنے رب کے حکم سے-
الفت میں برابر ہے وفا ہو کہ جفا ہو
ہر چیز میں لذت ہے اگر دل میں مزہ ہو
آخری عشرے کی فضیلت پورے سال اگر نہ ہو سکے تو کم از کم رمضان میں تو ضرور اس کا اہتمام کرنا چاہیے خصوصا ًپچھلا پہر اللہ کی عبادت اور دعا و گریہ و زاری میں گزارا جائے اگر پورا رمضان بھی نہ ہو سکے تو کم از کم آخری عشرہ تو ضرور شب بیداری کے ساتھ گزارا جائے۔
احادیث میں اس عشرے کے بڑے فضائل ہیں :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرے میں عبادت وغیرہ کا بڑا اہتمام فرماتے تھے مجاہدہ بڑھا دیتے تھے -حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرے میں عبادت وغیرہ میں وہ مجاہدہ اورمشقت اٹھاتے جو دوسرے دنوں میں نہیں کرتے تھے- ایک روایت میں ہے جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو آپ کمر کس لیتے اور پوری رات جاگتے عبادت وغیرہ میں اور اپنے گھر کے لوگوں کو بھی جگا دیتے -اگر اتنا بھی نہ ہو سکے تو کم از کم آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تو ضرور جاگنے کا اہتمام کرنا چاہیے کہ زیادہ تر آخری عشرے کی انہیں طاق راتوں میں شب قدر ہوتی ہے۔
خاص طور سے رمضان کے آخری عشرے میں جو طاق راتیں آتی ہیں- یہ راتیں اللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضر ہو ہو کر اللہ سے عرض و نیاز کرنے کی راتیں ہیں۔
ان کو فضول کاموں میں گزارنے سے ہر طرح سے پرہیز کرنا چاہیے – یہ عبادت کی رات ہے اس رات کا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرنا چاہیے اس رات میں دعائیں عبادت نماز تلاوت وغیرہ میں اپنے آپ کو مشغول رکھنا چاہیے اس رات کے ایک ایک منٹ کو ہمیں قیمتی سمجھنا چاہیے اور کثرت سے عبادت کرنی چاہیےاور اللہ تعالی سےخوب رو رو کر اپنے گنا ھوں کی معافی مانگی چاہیے۔
بعض لوگ ان راتوں کو عید کی تیاری میں گزار دیتے ہیں بازار کے چکر لگائے جاتے ہیں اور اللہ کی معصیت میں یہ راتیں گزر جاتی ہیں۰ بازار میں کہیں گانا بجانا ہے تو کہیں لڑائی جھگڑا یہ ناقدری ہے۔
اور اس کی مثال ایسی ہے جیسے اللہ تعالی تو آسمان سے سونا برسا رہا ہے اور بندہ کہتا ہے کہ مجھے یہ سونا نہیں چاہیے بلکہ زمین پر کنکر پڑے ہوئے ہیں میں ان کو لوں گااللہ تعالی ہم سب کو ان مبارک گھڑیوں کی قدردانی کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان مبارک ساعت کے انوار وفیوض سے مستفیض فرمائے آمین۔
عید کی تیاری اپنی وسعت کے مطابق کریں:
عید کے دن اچھا لباس پہننا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اچھا لباس پہننے کا مطلب یہ ہے۔ کہ اپنی استطاعت کے مطابق جو بھی میسر ائے اسے پہن لیا جائے۔لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ قرض لے کر یا رشوت لے کر یا حرام کی آمدنی کے ذریعے اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا لباس تیار کیا جائے -اس لیے اگر کوئی اپنی آمدنی کے دائرے میں رہ کر عید کے لیے جو بھی تیاری کر سکتا ہے اس کی اس کو اجازت ہے -اور اللہ اس میں برکت اور نور عطا فرمائیں گے۔
عید کے دن حق تعالی شانہ کا فرشتوں سے فرمان :
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب عید کا دن ہوتا ہے تو اللہ تعالی فرشتوں سے فرماتا ہے۔کہ انہوں نے میرا فرض ادا کیا پھر دعا کے لیے نکلے ہیں
میری عزت و جلال اور کرم و شان اور بلندی کی قسم میں ضرور ان کی دعا قبول کروں گا اور انکو بخش دوںگا۔پھر فرماتا ہے کہ واپس جاؤ میں نے تم کو بخش دیا اور تمہاری برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دیا- پس وہ بخشے بخشائے واپس آتے ہیں۔
اے مسلمانو ذرا رب کی غلامی کر لو
روح پچھتائے گی رمضان چلا جائے گا
