مدرسه جامعه گلشن خیر النساء میں کمپیوٹر لیب کا افتتاح

ظہیر آباد 6 اپریل (مشرقی آوازجدید): موجودہ دور میں دینی و عصری تعلیم کے ساتھ فنی تعلیم اور کمپیوٹر میں مہارت بھی لازمی ہے۔ چونکہ موجودہ دور میں زندگی کا ہر شعبہ انٹرنیٹ سے مربوط ہو چکا ہے۔ اس لحاظ سے کمپیوٹر میں مہارت ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار جناب محمد فیاض لشکری صاحب انڈین جرمن مسلم کمیونیٹی منیجر نے آج مدرسہ جامعہ گلشن خیر النساء میں کمپیوٹر لیاب کی افتتاحی تقریب سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ طالبات کو چاہئے کہ وہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ فنی تعلیم ضرور حاصل کریں۔ اور جس شعبہ میں بھی اپنی خدمات انجام دیں تو وہاں ملت کی خدمت کو اپنا نصب العین بنائیں ۔
محمد زبیر احمد ( ایم بی اے ) سینئر قائد بی آرایس پارٹی نے اس موقع پر طالبات کی معیاری تعلیم تربیت پر مدرسہ کے تمام اساتذہ کی ستائش کی۔ انہوں نے دوٹوک کہا کہ مولانا کی ہمہ جہت خدمات اظہر من الشمس کی طرح ہے۔ محمد نصیر الدین منتظم سن روحی اسپتال نے اپنے خطاب میں کہا کہ تعلیم وتربیت کے اعتبار سے مدرسہ جامعہ گلشن خیر النساء کی کار کردگی مثالی ہے۔ انہوں نے منتظم مدرسہ مولانا عتیق احمد قاسمی جامعہ گلشنِ خیر النساء کی خدمات کی ستائش کی اور ان کے خطاب سے مستفید ہونے کا اعتراف کیا۔ مولانا حمایت صاحب رشادی نے کہا کہ مدرسہ جامعہ گلشن خیر النساء دینی عصری اور تکنیکی تعلیم کا مثلث ہے۔ مدرسہ میں خدمات انجام دینے والے تمام معلمین و معلمات کی خدمات کی ستائش اور ان کے حق میں دعا کی ۔
بعد ازاں مولانا عتیق احمد قاسمی صاحب کی جانب سے تمام مہمانوں کی شالپوشی کی گئی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بیجا نہ ہو گا۔ کمپیوٹر لیاب کے لئے انڈین جرمن مسلم کمیونٹی کی جانب سے کمپیوٹرس کا عطیہ دیا گیا ۔ اس موقع پر مفتی عمر فاروق قاسمی صاحب ، حافظ محمد لئیق احمد، محمد عرفان احمد ، ڈاکٹر محمد محبوب ،محمد محبوب غوری نمائندہ رہنمائے دکن ،محمد فیاض احمد اور شیخ سہیل کے علاوہ طالبات و معلمات کی کثیر تعداد موجود تھی۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے