چوتھی اکیڈمک کونسل میٹنگ کا کامیاب انعقاد
حیدرآباد12/ اپریل(نمائندہ خصوصی): اندرا پریہ درشنی گورنمنٹ ڈگری کالج فار ویمن (اے)، نامپلی، حیدرآباد کی چوتھی اکیڈمک کونسل میٹنگ تعلیمی سال 2024-2025 کے لیے نہایت کامیابی کے ساتھ مورخہ ١٢ اپریل بروز ہفتہ دوپہر 2:30 بجے RUSA (راشٹریہ اُچتر شکشا ابھیان) پرمائسز میں منعقد ہوئی۔ اس اہم اجلاس کا بنیادی مقصد کالج کے 28 انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ شعبہ جات سے متعلق بورڈ آف اسٹڈیز کی سفارشات کو منظوری دینا اور تعلیمی ترقی کے لیے رہنما اصول مرتب کرنا تھا۔
اجلاس کا آغاز کالج کی پرنسپل، پروفیسر چندرہ مکھرجی نے مہمانانِ گرامی کے استقبال سے کیا۔ انہوں نے کالج کی سالانہ کارکردگی پر مبنی ایک جامع پریزنٹیشن پیش کی، جس میں تعلیمی، غیر نصابی، اور تحقیقی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ادارے کے انفراسٹرکچر میں کی جانے والی ترقی کو اجاگر کیا گیا۔ انہوں نے طالبات کی کامیابیوں اور اساتذہ کی تدریسی و تحقیقی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کالج کے تعلیمی معیار میں ہونے والی بہتری کو نمایاں کیا۔
اس اجلاس میں عثمانیہ یونیورسٹی کے معزز اساتذہ نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی، جن میں پروفیسر ڈی۔ کرونہ ساگر (ڈین آف سائنسز)، پروفیسر سیدہ طلعت سلطانہ (ڈین آف آرٹس)، پروفیسر سی۔ ارونا جیوتی (ڈین آف سوشیال سائنسز)، پروفیسر بی۔ بھیمہ (سابق پرنسپل، نظام کالج)، اور ڈاکٹر وینکٹ نرساہ (سینئر سائنٹسٹ، CSIR-IICT) شامل تھے۔
مہمانانِ گرامی نے اکیڈمک کونسل کے ایجنڈے پر تفصیلی گفتگو کی، بورڈ آف اسٹڈیز کی سفارشات کا جائزہ لیا، اور متفقہ طور پر منظوری دی۔ اس دوران تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے اور آئندہ دہائی کے تعلیمی تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے درج ذیل اہم تجاویز پیش کی گئیں:
1. نصاب میں 20 فیصد خودمختاری: ہر شعبہ کو نصاب میں 20 فیصد خودمختاری دی جائے تاکہ جدید رجحانات اور مقامی ضروریات کو شامل کیا جا سکے۔
2. تدریسی انداز میں جدت: اساتذہ کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے لیکچرز کو منفرد اور جدید انداز میں پیش کریں تاکہ طالبات کی دلچسپی برقرار رہے اور سیکھنے کے عمل میں بہتری آئے۔
3. مہمان لیکچرز کا انعقاد: مختلف علمی میدانوں سے ماہرین کو مدعو کر کے طالبات کو مختلف زاویوں سے روشناس کرانے پر زور دیا گیا۔
4. ڈیجیٹل ذرائع کا استعمال: گوگل اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو تدریس میں بطور معاون اوزار استعمال کرنے کی تجویز دی گئی، تاہم اس بات پر زور دیا گیا کہ ٹیکنالوجی استاد کا متبادل نہیں بن سکتی۔
5. نئے سرٹیفکیٹ کورسز: طالبات کی ہنر مندی میں اضافہ کے لیے نئے سرٹیفکیٹ کورسز متعارف کروانے کی سفارش کی گئی۔
6. علمی تقاریب کا انعقاد: کالج میں سیمینارز، ورکشاپس، اور کانفرنسز کے باقاعدہ انعقاد کو فروغ دینے کی تجویز پیش کی گئی تاکہ طالبات اور اساتذہ کو تحقیق و گورنمنٹ ڈگری کالج فار ویمن (اے) کو ایک ماڈل تعلیمی ادارہ بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔۔۔
