إنا لله وإنا إليه راجعون
ڈاکٹر عبد الغنی القوفی
(استاد جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈا نگر وصدر عمومی راشٹریہ مدرسہ سنگھ نیپال)
جامعہ سلفیہ بنارس کے صدر جناب مولانا شاہد جنید سلفی رحمہ اللہ کا سانحہ ارتحال نہ صرف ہمارے لیے، جامعہ کے لیے، بلکہ پوری جمعیت و جماعت کے لیے ایک دلدوز سانحہ ہے۔ ایک ایسا غم جو الفاظ سے بیان نہیں ہو سکتا، ایک ایسا خلا جو شاید طویل عرصے تک پُر نہ ہو سکے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، لغزشوں سے درگزر کرے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور لواحقین و محبین کو صبر جمیل عطا فرمائے، آمین۔
نسب و خانوادہ کی شرافت:
موصوف کا تعلق بنارس کے ایک معزز اور معروف خاندان سے تھا۔ "تاجا بیوپاری” کے نام سے ان کے خاندان کی شہرت بنارس بھر میں تھی۔ اہلِ مدنپورہ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ خانوادہ تجارت میں نہایت کامیاب اور دیانت دار مانا جاتا رہا ہے۔
تعلیم و فہم و فراست:
مولانا شاہد جنید سلفی نے جامعہ سلفیہ بنارس ہی سے اپنی تعلیم مکمل کی۔ طالب علمی کے زمانے میں ہی ان کی فہم و فراست اور ذہانت کا چرچا تھا۔ ان کے ہم درس، اساتذہ اور خصوصاً شیخ عزیر شمس رحمہ اللہ جیسے علما ان کی ذہانت کے قصے بڑے فخر سے سنایا کرتے تھے۔ فراغت کے بعد اگرچہ انہوں نے اعلیٰ تعلیم کا سلسلہ جاری نہ رکھا اور آبائی پیشے تجارت کو اختیار کیا، تاہم خداداد صلاحیت ایسی تھی کہ عرب مہمانوں سے براہ راست عربی میں گفتگو کرتے، اور بڑی روانی و سلاست سے ما فی الضمیر ادا فرماتے۔ ان کی زبان، لب و لہجہ اور اندازِ بیان ہمیشہ متأثر کن ہوا کرتا تھا۔
سخاوت و مہمان نوازی:
اللہ تعالیٰ نے انہیں خاندانی رئیس بنایا تھا، اور اس کے ساتھ سخاوت کی بے پناہ صفات بھی عطا فرمائی تھیں۔ آپ اور آپ کے بھائی الحاج سالم دا مرحوم جامعہ کے طلبہ کے لیے ہر سال للہ پورہ واقع اپنے مکان پر پرتکلف دعوت کا اہتمام کرتے۔ یہ دعوت صرف ضیافت نہیں ہوتی تھی بلکہ محبت، اپنائیت اور خلوص کا ایک حسین مظہر ہوا کرتی تھی۔ نوے کی دہائی میں، جب ہم جیسے طالب علم جامعہ میں تھے، ان دعوتوں کا سال بھر انتظار رہتا۔ اس زمانے میں "بفر سسٹم” نئی چیز تھی، لیکن ان کے یہاں اس کا اہتمام پہلے ہی سے تھا۔ ریوڑی تالاب سے لگژری بسوں میں بچوں کو لے جایا جاتا، اور بعد از دعوت و سیر وتفریح اسی شان سے واپس لایا جاتا۔
جامعہ سے والہانہ تعلق:
موصوف کا جامعہ سلفیہ بنارس سے تعلق محض رسمی نہیں بلکہ قلبی، مخلصانہ اور عملی تھا۔ کاروباری مصروفیات کے باوجود جامعہ کے تعلیمی، تنظیمی اور فلاحی امور میں گہری دلچسپی لیتے۔ وکیل الجامعہ ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ اور موجودہ ناظم مولانا عبد اللہ سعود صاحب حفظہ اللہ کے ساتھ علمی و انتظامی مشوروں میں برابر شریک رہتے۔ ہر نازک مرحلے پر ان کی بصیرت، متانت اور باوقار موجودگی سے پیچیدہ معاملات آسان ہو جاتے۔
ناظم جامعہ اکثر حساس مواقع پر انہیں آگے کر دیتے، اور وہ اپنی باوقار، پُراثر اور خندہ پیشانی سے ہر مسئلے کو نہایت خوبی سے حل فرما لیا کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی شخصیت کو ایسا قبول عام عطا فرمایا تھا کہ ان کی بات کو ٹالنے کی جرأت کوئی نہیں کرتا تھا۔ بظاہر متواضع اور نرم خو نظر آنے والی ان کی شخصیت حقیقت میں بے حد پُر وقار، مؤثر اور رعب دار تھی۔
مدینہ منورہ کا ایک یادگار لمحہ:
مدینہ طیبہ میں ان سے میری ملاقات میرے تعلیمی سفر کے ایک اہم موڑ پر ہوئی۔ اس وقت ناظم جامعہ مولانا عبد اللہ سعود صاحب بھی ہمراہ تھے۔ مجھے مدینہ یونیورسٹی سے فراغت کے بعد جامعہ میں خدمات کی دعوت دی جا رہی تھی۔ مولانا شاہد جنید صاحب نے مسجد نبوی میں دیر تک میرے ساتھ بیٹھ کر شفقت، اخلاص اور بصیرت کے ساتھ گفتگو فرمائی۔ ہندوستان میں تعیناتی کے سلسلے میں جو پیچیدگیاں تھیں، انہیں سمجھتے ہوئے انہوں نے نہ صرف تسلی دی بلکہ خود ریاض جا کر ادارہ سے بات کرنے کی پیش کش فرمائی۔ یہ ان کی شخصیت کا اثر تھا کہ میں نے اس وقت ہر اندیشے کو بالائے طاق رکھ دیا، اگرچہ بعد میں مشورے سے کچھ تبدیلی آئی۔ اور نیپال آنے کا فیصلہ لینا پڑا۔
عربی لب و لہجہ اور طبیعت کی نفاست:
عربی زبان سے انہیں غیر معمولی شغف تھا، اور گفتگو کے وقت لہجہ بھی عربوں جیسا اپناتے تھے۔ ان کی طبیعت میں جو نفاست تھی، وہ اہلِ مدنپورہ کا امتیاز بھی ہے، لیکن ان میں یہ خوبی خاص انداز میں نمایاں تھی۔
آخری وداع: ایک ناقابل فراموش جدائی:
تقریباً 75 برس کی عمر میں وہ ہم سے جدا ہو گئے۔ بظاہر عمر مناسب تھی، لیکن دل یہی کہتا ہے کہ وہ بہت جلد رخصت ہو گئے۔ ان کا مسکراتا چہرہ، ان کی مشفق گفتگو، ان کا بلند وقار آج بھی ذہن میں تازہ ہے۔ ان کی جدائی دل پر ایک بوجھ سی بن کر رہ گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، ان کی خدمات کو شرف قبولیت بخشے، جامعہ سلفیہ بنارس کو ان کا نعم البدل عطا کرے، اور لواحقین و تمام محبین کو صبر جمیل دے۔ آمین یا رب العالمین۔

