غزل

اپریل 20, 2025

محمد ضیاء العظیم پٹنہ 

تجھ سے دور ہوتے ہی خود کو تنہا پاتا ہوں

آنسوؤں کی بارش میں روز میں نہاتا ہوں

تیری دید میں ہی ہے میری عید پوشیدہ

تجھ کو دیکھ کر ہی اب عید میں مناتا ہوں

بے بساط دنیا کی عارضی محبت سے

خود کو دور رکھتا ہوں خود کو میں بچاتا ہوں

زندگی کی تلخی اب، کس طرح سے سمجھاؤں

زندگی کی خواہش میں روز جاں گنواتا ہوں

عمر میری کچی ہے، عشق ہے مگر سچا

تیرے پیار میں اپنا، دل و جاں لٹاتا ہوں

آپ کی ان آنکھوں میں، ہے عجب کشش پنہاں

جتنی دور جاؤں میں، اتنا پاس آتا ہوں

کتنے دکھ زمانے کے، اپنوں کے بیگانوں کے

دیکھتا ہوں جب ان کو، خود کا بھول جاتا ہوں

اے ضیا زمانے میں کیا غرور کیا مستی؟

کہ دیا ہے جو اپنا، اس سے دل لگاتا ہوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے