مسجد بلال مدرسہ مفتاح العلوم میں باوقار ویادگار تقریب کا انعقاد، کثیرتعدادمیں مخلتف اضلاع سے علماء کرام نے شرکت کی۔ مقررین نے مفتی محمد جنیدقاسمی کو مبارک بادپیش کی ۔ 

اناؤ(نامہ نگار) ۲۶؍اپریل: گزشتہ روز مدرسہ عربیہ مفتاح العلوم گنج مرادآباد میں مولانا شاہ فضل رحمن گنج مرادآبادیؒ کی حیات وخدمات پرمبنی کتاب کا اجراہوا، جس میں معروف علماء کرام نے شرکت کی۔ تفصیلات کے مطابق مشہور صوفی بزرگ مولانا شاہ فضل رحمن گنج مرادآبادی کے احوال وآثار اور ان کی تعلمات وملفوظات پر مبنی کی رسم اجرا کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں مولانا افضال الرحمن قاسمی شیخ الحدیث مدرسہ اشرف المدارس ہردوئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا مولانا فضل رحمن سے میرا جو تعلق ہے وہ کئی حیثیتوں سے ہے، سب سے پہلی حیثیت یہ ہے کہ مولانا شاہ فضل رحمن اصلا ضلع ہردوئی کے رہنے والے ہیں، علمی اعتبار سے مولانا فضل رحمن کا بہت بڑا مقام ہے، متعدد دینی شخصیات میں مولانا فضل رحمن بھی ہیں، اور میرا تعلق  بھی ہردوئی سے ہے، دوسرا تعلق یہ ہے کہ مولانا فضل رحمن نقشبندی سلسلے کے ہیں، اور میرے والے ماجد اصلا نقشبندی سلسلے کے ہیں اور ان کی تربیت اسی لائن سے ہوئی ہے، تیسرا تعلق علم حدیث میں سند کے اعتبار سے۔ مولانا فضل رحمن کی سند عالی ہے۔
قبل ازیں مولانا عبدالجبارقاسمی صدر جمعیۃ علماء ضلع ہردوئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہم نے اس مجموعہ کے بیشتر مضامین سے استفادہ کیا،، انداز بیان سادہ ہے، مگر عقیدت ومحبت کی آمیزش نے سادگی میں عجیب دلکشی پیدا کردی ہے، اکابر کی نگارشات وعلمی آثار کی ترتیب واشاعت علم پروری کی دلیل اوراہل علم کو بہترین خراج تحسین ہے، جس پر عزیزالقدر مفتی محمد جنید صاحب قاسمی اور ان کے جملہ معاونین بجا طور پر قدر افزائی اور شکریہ کے مستحق ہیں۔
مولانا سفیان جامعی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مفتی محمد جنیدقاسمی نے جو کام کیا ہے وہ لائق تحسین ہے، مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نائب صدر جمعیۃ علماء اترپردیش نے خطاب کرتے ہوئے مرتب کتاب مفتی محمدجنید قاسمی گنج مراد آبادی ایک نہایت مستعد اور فعال شخصیت کے مالک ہیں، تلاش وجستجومیں اہل علم سے رابطہ اور دوڑ بھاگ کرلینا ان کے لیے آسان ہے۔ اس موقع پر کتاب کے مرتب مفتی محمد جنید قاسمی نے کتاب کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ کام حضرت مولانا شاہ فضل رحمن گنج مرادآبادی رحمۃاللہ علیہ کی عظیم الشان خدمات کے شایانِ شان ہرگزنہیں ہے، مگر پھر بھی عرصے سے میری دیرینہ تمناتھی کہ حضرت مولانا رحمۃاللہ علیہ پرکام کروں، حضرت مولانارحمۃاللہ علیہ پر بہت طویل اور مبسوط کام ہواہے، البتہ وہ سب منتشر اور پردۂ خفامیں تھا، فقط ایک کتاب ’تذکرہ ٔفضل رحمن‘مفکراسلام حضرت مولاناسید ابوالحسن علی میاں ندوی رحمۃاللہ کی دستیاب تھی، بقیہ کتابیں کمیاب تھیں، جس سے بہت سی باتیں ،جو اہم تھی وہ معلومات کی دسترس سے دورتھیں ۔ میری جتنی بساط تھی اور جس قدر محدود وسائل مجھے حاصل تھے،ان کے مطابق جوکچھ بھی کرسکتاتھا ،اس میں، میں نے پوری کوشش کی، ان سب کے باوجوداگر کتاب میں کوئی کمی ،کوتاہی ،یاخامی نظرآئے تو اس کو میری بشری معذوری خیال کیاجائے،انہوں نے مزید کہا کہ ابھی اس کتاب کی صرف دوجلدیں شائع ہوئی ہیں، مزید اس کی اور جلدیں آنا باقی ہیں، ۔ تقریب کے مہمان خصوصی مولانا انعام احمد قاسمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا شاہ فضل رحمن گنج مرادآبادی کو نسبت حدیث میں وہ اپنے ہم عصروں پر شرف تقدم رکھتے تھے کہ وہ براہِ راست حضرت شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی ؒکے شاگرد تھے،بلاشبہ وہ   اپنے دورمیں بقیۃ السلف تھے،اس لیے جس طرح کی سادہ اوربے لوث زندگی انہوں نے گذاری اورلوگوں سے ملنے جلنے کاجو ان کااندازتھا اورجیسی مرجعیت ومقبولیت ان کو حاصل ہوئی اورہر طبقے کے لوگوں نے ان سے فائدہ اٹھایا، وہ آپ کی شانِ سلف کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح کشف وکرامات کے واقعات اتنی کثرت سے آپ سے منسوب ہیں کہ بقول صاحب نزھۃ الخواطر حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒکے علاوہ تاریخ میں اور کوئی مثال نہیں ملتی۔ حافظ محمد فرقان مہتمم مدرسہ عربیہ مفتاح العلوم گنج مرادآباد نے حاضرین کا شکریہ اداکیا ۔ تقریب اجرا کا آغاز قاری محمد شعیب کی تلاوت سے ہوا، جبکہ نعت کا نذرانہ مولانا ذکوان قاسمی، مولانا حذیفہ ثاقبی، حافظ قاسم نے مشترکہ طور پر پیش کیا۔ اس موقع پرمولانا مختارعالم مظاہری صدر جمعیۃ علماء ضلع اناؤ، مفتی عبدالتواب، مولانا غفران، مولانا سلیم، مولانا  کلیم قنوج،، مولانا سفیان مظاہری، مولانا مبین الحق مظاہری، مفتی سہیل جامعی، مولانا حسان مظاہری،مولاناعبدالباری قاسمی، مولانا شمش تبریزندوی،مولانا حبیب ندوی،مفتی وقارالدین قاسمی، حافظ فخرالدین مولانا فخرالدین ، مفتی عامل قاسمی،مفتی ضیاء الدین قاسمی،حافظ ظہیرالدین اناؤ، مولانا معروف اناؤ، مولانا ابصار ،حافظ جاوید، مولوی شفاعت علی، حافظ بلال، حافظ شکیل جامعی،مولانا شعیب مبین مظاہری، مولانا حافظ افشان، حافظ مفضال،حافظ مصباح الدین، مولانا شاہدجامعی، حافظ نعمان ، حافظ عدنان، حافظ مرسلین، منشی اکرام ، حافظ محمد سعید، مولانا مفیض، حافظ غفران ، حافظ اشفاق،زاہد حسن، رئیس عرف آزاد، ذاوالفقارعلی،حاجی حفیظ الرحمن،حافظ توقیر اور ان کے علاوہ کثیرتعدادمیں علماء وحفاظ نے شرکت کی ، مولانا انعام احمد قاسمی کی دعاء پر تقریب کا اختتام ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے