مسلم آبادی کو دبانے کچلنے اور پھنسانے کی سازشیں شروع!
سہارنپور(احمد رضا): پہلگام سانحہ کے خلاف مسلم افراد جلسوں میں پاکستان مردآباد کے نعرے لگانے میں سرگرم ہیں ” وہیں ہندو شدت پسند افراد، وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل اور گئو رکشہ دل کے لوگ مسلمان غدّار، کشمیری عوام غدّار اور مسلمانوں دیش سے نکلو” کے زہر سے بھرے نعرے سڑکوں پر بلند کر رہا ہے۔ ہندو شدت پسند تنظیموں کے لوگ لگاتار اس سازش میں سرگرم رہتے ہیں کہ کوئی کمی ہاتھ میں آئے تو ہم مسلمانوں پر حملہ شروع کئے جائیں۔ آپ اس طرح کے شرمناک مسلم طبقہ کے خلاف ویڈیوز سوشل میڈیا پر پل پل دیکھ سکتے ہیں۔ مسلم آبادی کے خلاف دشمنی کے نتیجہ میں صرف اور صرف اتراکھنڈ سرکار ہی کے ذریعہ رات کی تاریکی میں آج تک 6 سو سے زائد مزارات، مساجد اور مدارس اسلامیہ پر بلڈوزروں سے لگاتار حملہ کئے جا چکے ہیں۔ صدی پرانی مسجدیں اور مزارات رات کے اندھیرے میں نیست و نابود کر دئیے گئے۔ سیکڑوں مدرسہ سیل ہو چکے ہیں۔ قابل احترام سپریم کورٹ کے حکم امتناعی کے بعد بھی بھاجپا کی قیادت والی سرکاروں میں بلڈوزر ایکشن زور و شور سے جاری ہے، دوسری جانب لگاتار 4 روز سے پہلگام کے دردناک سانحہ کو لیکر ہم انڈین مسلم افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سرکار اور سرکاری مشینری مسلم افراد پر ہونے والے حملوں کو کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے۔ دہلی، امبالہ، گڑگاؤں، فرید آباد، دہرادون، لکھنؤ، کشی نگر، سنبھل، میرٹھ، غازی آباد، ہلدوانی اور مظفرنگر کے بیشتر علاقوں میں جہاں کشمیری نوجوان اور بوڑھے دکانداروں پر حملہ کئے گئے وہیں مسلم افراد کے خلاف بھی خوب زہر اگلا گیا اور دارالعلوم دیوبند کو بھی۔ دس دن میں خالی کرانے کی اعلانیہ دھمکیاں سڑکوں پر دی گئی پورا ملک سوشل پر ہندو دہشت پسند افراد کے بیانات اور ویڈیوز دیکھ رہا ہے مگر ہندو شدت پسند افراد کے خلاف آواز اٹھانے کی کسی میں بھی ہمت نہیں ہے۔ سیدھا سا مطلب ہے کہ یہ سب کچھ ایک سازش کے تحت یہاں کیا جا رہا ہے تاکہ ملک کے 30 کروڑ مسلم افراد کو ڈرایا دھمکایا اور خائف کیا گیا جا سکے پہلگام کا کسی کو رنج وغم نہی کھلے عام سیاست کی جا رہی ہے جے مندر میں تیز آواز سے صبح شام آرتی ہوگی سڑکوں پر تیز آواز سے بھجن کیرتن ہوگا سرکاری مشینری کو کچھ درد دکھ نہی ہو گا اگر مسجد سے آزان کی آواز بلند ہوگی تو نمازی گرفتار ہوں گے امام صاحب کو بھی گرفتار کر لیا جائیگا یہ سب اس لئے ہوگا کیونکہ اس شرمناک عمل سے ہندو شدت پسند خوش ہوں گے مسلم آبادی سے نفرت اور حسد کرنے والوں کو چین سکون ملیگا ! مسلسل مساجد اور مدارس اسلامیہ کے ساتھ ساتھ مقدس مزارات پر بھی انگلیاں اٹھنے کے بعد کچھ عرصہ قبل ناظم امارت شرعیہ بہار ، اڈیشہ اور جھارکھنڈ عالم دین مولانا ثناء الہدی نے سخت دل سے اپنے اہم مگر پر مغز خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ۔۔۔۔۔۔ بابری مسجد کے سلسلے میں غیر آئینی واقعات اور دلائل سے بھر پور عاری فیصلے نے فرقہ پرستوں کے حوصلے اس قدر بلند کردئے ہیں کہ وہ بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں مسجد، مزارات اور دوسرے آثار قدیمہ پر تابڑ توڑ مقدمات اور ذاتی حملہ کر رہے ہیں اور ہر پرانے سے پرانے مقدس مقام کو کسی نہ کسی مندر کا نام دے کر یا پھر اسلامک مقدس مقامات کو مندر بتاکر عدالتوں سے ان مقدس مقامات کے سروے کروانے کے احکام جاری کروا کر مندر ثابت کر نے کے لئے کسی بھی نچلی سطح پر پہنچ گئے ہیں، سہی معنوں میں یہ دو سو سال پرانی ہندو شدت پسند افراد کی گھنو نی سازش ہے اب پانی حد سے تجاوز کر گیا ہے ملت اسلامیہ کو بیدار رہنے کی سخت ضرورت ہے! سنبھل کے ممبر لوک سبھا ضیاء الرحمن برق نے مسلمانوں کے قتل کے لئے پولیس کو زمہ دار ما نا ہے تب سے سنبھل والوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں دنیا مسلم افراد کی تباہی کا تما شہ دیکھ رہی ہے ہر طرف مسلم افراد کو ڈرانے اور کچلنے کا کھیل عروج پر ہے لا تعداد شرمناک حرکتیں کرنے کے بعد بھی جب سرکاری مشینری کا کلیجہ ٹھنڈا نہی ہوا تو سنبھل کی مسجد میں تیز آواز سے آزان دینے کے جرم میں مسجد کے امام صاحب کو ہی پولیس افسران نے گرفتار کر لیا یعنی کہ حسد نفرت اور مسلمانوں سے دشمنی کی اس سی سطحی اور گری ہوئی حرکت کیا ہو سکتی ہے؟ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد بھی مسلم آبادی پر بلڈوزر کا قہر جاری ہے ممبر لوک سبھا ضیاء الرحمن برق کو اپنی نفرت اور طاقت کا مظاہرہ کراتے ہوئے سرکاری مشینری نے صبح سویرے سنبھل میں بلڈوزر چلا کر جہاں مسلم آبادی کو انکی اوقات دکھانے کی ناکام کوشش کی وہیں اپنی جلن کا اظہار کرتے ہوئے غریب مسلمانوں کی روزی روٹی پر حملہ کرتے ہوئے انکے گھروں دکانوں پر بلڈوزر گھما ڈالا ملک میں بھاجپا قیادت والی سرکاروں میں آج کل مسلم آبادی سے دشمنی کے واقعات عروج پر ہیں مگر سرکاری مشینری کے ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کرنے کے لئے کوئی بھی تیار نہی ہے عدالت کے اسٹے کے بعد بھی مسجدوں پر بلڈوزر لگاتار جاری ہے عدالتیں بھی سرکار کے ذریعہ مسلم افراد کے خلاف کی جانے والی کاروائی دیکھ کر خا موش ہے نفرت اور حسد کی علامت بلڈوزر ایکشن پر اگر وقت رہتے روک نہی لگی تو حالات کبھی بھی بیحد خطرناک موڑ لے سکتے ہیں !ہمکو اپنے بزرگوں اپنے اکابرین اور علمائے کرام پر فخر ہے کہ دھیرے دھیرے ہی سہی مگر حق کے لئے آواز بلند کرنے لگے ہیں اگر بابری مسجد ایشو پر یہ آواز بلند ہو جاتی تو ہزاروں مساجد شہید ہو نے سے بچ سکتی تھیں! بہار کے ممتاز مسلم اسکالر اور عالم دین نے خوب کہا ہے کہ "حالاں کہ بابری مسجد قضیہ کے وقت ہی 1991ء میں تحفظ عبادت گاہ قانون بن گیا تھا، جس کا خلاصہ تھا کہ 15/اگست1947ء میں جس عمارت کی جو حیثیت عرفی تھی اور جو استعمال تھا، اس کو بدلا نہیں جاسکے گا، پہلے بابری مسجد عدالتی فیصلے کے نتیجے میں گئی، اس کے بعد گیان واپی مسجد، دھار مسجد، متھرا کی شاہی عیدگاہ، جامع مسجد سنبھل کا نمبر آیا، جامع مسجد سنبھل کے سروے کے حکم پر جو وہاں پولیس نے یک طرفہ کارروائی کی اور فرقہ پرستوں نے جو ننگا ناچ کیا، اس کی وجہ سے سات نوجوان شہید ہوگیے، سر کار اور اس کی مشینری کا عتاب جو سنبھل کے مسلم طبقہ پر گرایا گیا سبھی کے سامنے ہیں واضع رہے کہ جامع مسجد سنبھل کا قضیہ1878ء میں انگریز دور حکومت میں اٹھا تھا، چھیدا سنگھ نامی ایک ہندو نے جامع مسجد کے ذمہ دار محمد افضل پر مقدمہ کیا تھا، ہائی کورٹ نے اس مقدمہ کی سماعت کی تھی اور ہندو فریق کے دعویٰ کو یہ کہتے ہوئے خارج کردیا تھا، سر اسٹوراٹ چیف جسٹس نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ ”اس پر کثیر شواہد ہیں کہ یہ عمارت طویل زمانہ سے بطور اسلامی مسجد کے استعمال کی جاری ہے یہ کہنا ناقابل توجیہ حد تک لغو ہے کہ بوقت ضرورت اسے ہندو بھی استعمال کرتے رہے ہیں اس لیے مع کلی اخراجات عدالت ہم اسے (ہندو فریق کے دعوے کو) خارج کرتے ہیں“ اب آپ نظر دوڑائیں کہ اہل ایمان ان مخصوص نظیروں اور فیصلوں کو عدالتوں کے سامنے لانے اور طویل عدالتی لڑائی لڑ نے سے کیوں پیچھے ہٹ رہے ہیں اسی کمزوری اور مایوسی کے سبب بابری مسجد کی شھادت کے بعد سے آج تک دس ہزار سے زائد مساجد اور مدارس اسلامیہ کے ساتھ ساتھ مقدس مزارات بھی زمین بوس کر دیئے گئے ہیں مگر یاد رکھیں حاکم الحاکمین یعنی کہ کائنات کے خالق حقیقی ربِ العالمیں کا فیصلہ ضرور آئیگا تب دودھ اور پانی کا فرق صاف نظر آئے گا مساجد اور مدارس اسلامیہ کے ساتھ ساتھ مزارات پر بلڈوزر ایکشن شدت پسند افراد کی تباہی کی علامت ہے!
تازہ تنازعہ سپریم کورٹ کے وکیل وشنو شنکر جین اور کلکی دیوی مندر سنبھل کے مہنت رشی راج گری سمیت آٹھ افراد کا کھڑا کیاہوا ہے، ان لوگوں نے 19/ نومبر 2024ء کو سول جج آدتیہ سنگھ کی عدالت میں ایک درخواست دی تھی اور جامع مسجد کے مندر ہونے کا دعویٰ کیا تھا، جج صاحب کوبھی جلدی تھی، تین گھنٹے سماعت ہوئی، کمشنر سروے کے لیے مقرر ہوا اور آنن فانن میں قطعی غیر قانونی اور غیر آئینی طور پر سروے بھی ہوگیا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسجدوں کے نیچے مندر تلاش نے میں شدت پسند ہندو افراد کے ساتھ چھوٹی عدالتیں، ریا ستی پولیس اور سرکاری مشینری منظم ڈھنگ سے قدم بہ قدم ساتھ ساتھ ہے تبھی تو 1991 پلیس آف ورشپ ایکٹ کو عام آدمی کے ذریعہ کھلم کھلا چیلنج کیا جا رہا ہے اعلیٰ ترین عدلیہ تماشائی بنی ہوئی ہے مرکز سرکار اور ریاستی سرکا ر کی کرنی اور کتھنی ایک ہوتی تو آج حالات ہی کچھ اور ہوتی مگر یہاں تو ہندوتوا طبقہ کو مسلم آبادی کے خلاف متحد کرنے کی گھنونی سازش بچھلے دس سالوں سے ملک بھر میں مسلسل جاری ہے جو ہندوستان کے امن و سکون کے لئے بڑا خطرہ ہے ؟
