از: ڈاکٹر منتظر قائمی
شعبۂ اردو 
فخرالدین علی احمد گورنمنٹ پی جی کالج، محمودآباد
لبرلائزیشن، گلوبلائزیشن اور لوکلائزیشن سے عبارت دور میں اردو زبان و ادب کے حصے میں سر سید کے خوابوں کی تعبیر گاہ سے ایک ایسا تابناک ہیرا دریافت ہوا جس کی چمک سے ادب کے تنقیدی، تفہیمی، تشریحی اور بین لسانی باب روشن ہوگئے۔ پروفیسر شافع قدوائی یوں تو عمر بھر صحافت کے پیشے سے لے کر شعبے سے وابستہ رہے اور کیوں نہ ہوں جن کو علم و ادب، تہذیب و ثقافت اور قدر و منزلت وراثت میں ملی ہو۔ آپ کے نانا مولانا عبد الماجد دریا بادی کی قدر و منزلت اور علمی و ادبی معیار کا قدر دان کون نہیں ہے۔ ہندوستان و بیرون ملک کے سر کردہ انگریزی روزناموں میں اکثر اردو زبان کے ادیبوں، شاعروں، ناقدوں کی کتابوں سے لے کر ان کی شخصیت اور فن کو متعارف کروانے کا ذمہ انھیں کے سر جاتاہے۔ وہ جتنا اردو داں حلقے میں محبوب اور مقبول ہیں اس ذرہ برابر بھی کم انگریزی میں مقبول نہیں ہیں۔ابھی چند روز قبل وہ اپنی درس و تدریس کی وابستگی سے سبکدوش تو ہو گئے مگر بقول مشتاق احمد یوسفی ایک شخص اگر ایک دفعہ پروفیسر ہوگیا تو وہ عمر بھر پروفیسر ہی رہتا ہے۔ لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ ادیب و شاعر بھی اگر انسان زندگی میں ایک بار ہو گیا تو بھی وہ زندگی بھر بناہ کرتا ہے۔
علی گڑھ کے متعلق مجاز کے اس قول کی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ
ہر شام ہے شامِ مصر یہاں ہر شب ہے شبِ شیراز یہاں
سے بے نیاز وہ اپنی ادھن میں مست و مگن رہنے والے درویش صفت انسان ہیں۔ ظاہری جاہ و حشم، علمی و ادبی تمکنت، بے جا غرور و تکبر اور شخصیت پرستی سے کوسوں دور ایک نہایت ہی سادہ، آسان اور عام فہم قسم کی دستار سے انھوں نے خود کو سجا رکھا ہے۔ اس خاکسار نے 2004سے تاحال ان کی شخصیت اور مزاج میں سادگی ہی سادگی دیکھی۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی نئی دہلی میں پہلی مرتبہ وہ میرے ایم فل کے وائیوا میں تشریف لائے تب سے شافع صاحب سے اس خاکسار کے ایسے تعلقات ہوگئے کہ مجھے جس قسم کے ایک معنوی استاد کی تلاش تھی وہ مکمل ہوگئی۔ چونکہ ایم فل میں میرا مضوع اردو کے روایتی موضوعات سے قدرے مختلف تھا یعنی "فلم اور ناول میں پیش کش کے مسائل” ( بحوالہ امراؤجان ادا اور ایک چادر میلی سی)  کی وجہ سے اردو کے کسی روایتی پروفیسر کے بجائے ماس کمیونیکیشن اور فلم و ٹی وی سے وابستہ شخصیت کو بطور ایکسپرٹ بلایا گیا۔ جس میں پروفیسر شافع قدوائی اور پونے فلم اور جامعہ ملیہ کے ماس کمیونیکیشن شعبہ سے ایک اور ایکسپرٹ آئے تھے۔ پھرجب دو ہزار دس میں میری پی ایچ ڈی کے وائیوا ہوا اس وقت بھی آپ کو بطور ایکسپرٹ بلایا گیا جس کا موضوع "اردو فلموں میں تہذیب اودھ کی عکاسی” تھا۔ بعد میں جب یہ موضوع ذرا وسعت پا کر کتابی شکل میں "ہندوستانی فلموں میں تہذیب اودھ کی عکاسی” بن کر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے مالی تعاون سے شائع ہوا تو اس میں میری کتاب پر پروفیسر شافع قدوائی صاحب نے ایک مقدمہ تحریر فرمایا جو کتاب کے تفہیمی اور ادبی نکات کی وضاحت اورترجمانی کرتا ہے۔
پھر ایک دن میرے پاس جب دنیا کے کئی ممالک سے فون، ای میل اور میسیج آنے لگے تو پتہ چلا کہ اس حقیر فقیر کی کتاب پر انھوں نے روزنامہ ” دی ہندو” میں ایک چوتھائی صفحہ پر انگریزی میں تبصرہ شائع ہوا ہے جس پر میں حیرت سے دنگ رہ گیا۔ بیشتر قارئین کو لگا یہ کتاب انگریزی زبان میں شائع ہوئی ہے۔ یہ شافع صاحب کی دین تھی۔ جیسے جیسے ان کے علمی و ادبی اعتراف و اعزازات کا سلسلہ پروان چڑھ رہا ہے ان میں خاکساری، انکساری اور بے نیازی بھی اسی رفتار سے جاری ہے۔ گیان پیٹھ کی رکنیت، ساہیتہ اکادمی کی رکنیت، ساہتیہ اکادمی ایوارڈ، اقبال سمان وغیرہ نے ان کی خاکساری و انکساری اور درویشی میں اضافہ کیا ہے۔ وہ ہندوستان اور بیرون ممالک منعقد ہونے والے تمام سرکردہ لٹریری فیسٹیولز، کانفرنسیز، سیمینارز اور لیکچرز میں اپنی علمی، ادبی اور تنقیدی استعداد کا لوہا منوا چکے ہیں۔ جن میں لکھنؤ، بنارس، جے پور، اڑیسہ، بنگلور، چینئی، کیرالا، کراچی، دوبئی، قطر، دوحہ وغیرہ شامل ہیں۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں علم، ادب اور فن سے وابستہ شخصیات سے اہل علم و ادب اور اہل ذوق و شوق کو روبرو ہونے کے متعدد مواقع فراہم کئے جن میں معروف فلم ساز، مکالمہ نگار، نغمہ نگار، افسانہ نگار اور شاعر گلزار اور جاوید اختر کے علاوہ مظفر علی جیسی اہم اور معتبر شخصیات شامل ہیں۔ Cementing ethics with Modernity جیسی کتاب م اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں شائع ہو کر اہل ادب میں پذیرائی حاصل کر چکی ہے یہ کتاب Routledge Publications سے شائع شدہ ہے جہاں سے شائع ہونا ہی اک اعزاز ہے۔ اردو فکشن پر ایک کتاب ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس سے شائع ہوئی ہے۔
ہندوستان و بیرون ملک کے سرکردہ نیوز چینلز میں شافع قدوائی صاحب کے شاگردان اپنی پوری شدت اور لگن کے ساتھ صحافیانہ ذمہ داریاں اور فرائض منصبی انجام دے رہے ہیں ان میں آج تک، اے بی سی، این ڈی ٹی وی جیسے الکٹرانک میڈیا کے چینلز اور دی ہندو، ٹائمس آف انڈیا، ہندوستان ٹائمس، انڈین ایکسپریس اور ہندی زبان کے سرکردہ اخبارات شامل ہیں۔
ابھی حال میں فروری کے ماہ میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کی جانب سے منعقدہ سہہ روزہ عالمی اردو کانفرنس کے ایک اجلاس جس کا عنوان اردو کے کاز کو آگے بڑھانے میں انفوٹینمنٹ کا رول جیسے اہم موضوع پر ایک اجلاس میں شاندار مقالہ پیش کیا جو کہ بعد میں انڈین ایکسپریس میں شائع ہوا۔ اس میں انھوں نے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارم، ڈیجیٹل پلیٹ فارم سمیت پرنٹ و الکٹرانک میڈیا نیز انٹرنیٹ کی سرعت و حرکت کا جائزہ اور محاکمہ پیش کیا جس میں یہ خاکسار بھی شامل تھا۔ اس سیشن کی صدارت معروف فلم ساز مظفر علی اور ڈراما نگار سلیم عارف کے علاوہ مقالہ نگاروں میں کینیڈا سے جاوید دانش اور جشن بہار ٹرسٹ کی بانی و منتظم محترمہ کامنا پرساد صاحبہ شامل تھیں۔ مقالہ پر اظہار خیال کے لیے صحافت کی دنیا سے وابستہ شخصیات جیسے معصوم مرادآبادی، مرزا عبدالباقی بیگ اور تحسین منور جیسی ہستیاں شامل تھیں۔
اردو زبان و ادب کی آبیاری کرنے میں اردو کے علاوہ ایسی ہستیاں جنھوں نے اردو کو غیر اردو حلقوں میں متعارف کرایا ان میں بلا شبہہ پروفیسر شافع قدوائی صاحب کی تحریریں اور مضامین شامل ہیں جو اردو زبان و ادب کو فروغ دے رہی ہیں۔ خدائے برحق کی بارگاہ میں دعا ہے کہ الله تعالٰی ان کو صحت سلامتی اور تخلیقی قوت عطاء فرمائے تاکہ وہ زبان و ادب کی خدمت اسی تندہی سے کرتے رہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے