قرآنی تعلیمات پر غیر مسلموں کے مثبت اور حوصلہ افزا تاثرات
غیر مسلم قائدین و تنظیموں کا قرآن پروچن کے انعقاد میں کلیدی تعاون
موجودہ حالات میں تو بظاہر یہ معلوم ہوتا کہ وطن عزیز میں مذہبی منافرت اور فسطائی طاقتوں کی تخریب کاری زوروں پر ہے. ایسے ماحول میں قومی یکجہتی اور مخلوط سماج میں مل جل کر تعمیری کام انجام دینا مشکل سا نظر آتا ہے. لیکن کسی قطعی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے اگر ہم شہر سندھنور کی عمومی صورت حال پر نظر ڈالیں تو ایک خوشگوار حقیقت سامنے آئے گی. یہاں ہندو مسلم اتحاد صرف ایک نعرہ نہیں، بلکہ ایک جیتی جاگتی حقیقت کے طور پر اپنی مثال آپ ہے۔ شہر کی فضا باہمی احترام، تعاون اور اخوت سے معمور دکھائی دیتی ہے، جو موجودہ دور میں یقیناً قابل تقلید ہے۔
یہ موقع ہے جماعت اسلامی ہند شہر سندھنور کی
جانب سے منعقدہ سہ روزہ قرآن پروچن (عوامی درس قرآن) کا. جس کے پہلے دن کی حاضری 7 ہزار، دوسرے دن 8 ہزار اور تیسرے دن 12 ہزار مرد و خواتین شریک رہے. جن میں برادران وطن کی تعداد تقریباً %40 رہی.
اگرچہ اس عوامی درسِ قرآن کے پروگرام کا باضابطہ اہتمام جماعت اسلامی کی جانب سے کیا گیا، تاہم اس کے نظم و نسق میں غیر مسلموں کا تعاون بڑا قابلِ تحسین رہا۔ استقبالیہ کمیٹی میں غیر مسلم شخصیات کی شمولیت ایک خوش آئند پہلو تھا، اور کمیٹی کی صدارت بھی معروف سماجی شخصیت جناب ایس شرنے گوڑا نے انجام دی۔ ان کی سرپرستی میں 2 تا 4 مئی 2025، شہر کے معروف آر جی ایم اسکول گراؤنڈ میں روزانہ نمازِ مغرب کے بعد تا رات 10 بجے تک یہ روحانی اجتماع جاری رہا۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ہر دن کے اختتام پر اظہارِ تشکر کی سعادت بھی غیر مسلم معززین نے حاصل کی، جو اس پروگرام کی بین المذاہب ہم آہنگی اور باہمی رواداری کی عملی مثال ہے۔
قرآن پروچن کی روح پرور مجلس میں درس کی ذمہ داری جماعت اسلامی ہند، کرناٹک کے سکریٹری اور شیریں بیاں مقرر جناب محمد کنہی صاحب کی تھی، جنہوں نے اپنے مخصوص دلنشین انداز میں کنڑا زبان میں قرآن کا درس پیش کیا۔ تین روزہ اس سلسلے میں ہر دن ایک منفرد اور اہم موضوع کو منتخب کیا گیا۔
پہلے دن، جمعہ 2 مئی کو "اخلاق اقدار اور معاشرہ” کے عنوان پر سورۃ التین کی روشنی میں خطاب کیا، جس میں انسانی فطرت، اخلاقی اقدار اور ایک صالح سماج کی تشکیل پر زور دیا گیا۔
دوسرے دن، ہفتہ 3 مئی کو "مذہب اور انسانی تعلقات” کے موضوع پر سورۃ الماعون کی تفسیر بیان کی گئی، جہاں مذہبی فرائض کے علاوہ سماجی ذمہ داریوں اور آپسی تعلقات کی نوعیت پر بلیغ انداز میں روشنی ڈالی گئی۔

اختتامی دن، اتوار 4 مئی کو "مقصدِ حیات” کے نہایت اہم موضوع پر سورۃ التکاثر کے ذریعے قرآن کی بصیرت انگیز تعلیمات پیش کی گئیں، اور واضح کیا گیا کہ زندگی کا مقصد، موت کی تیاری اور بعد موت کی زندگی کو کامیاب بنانے میں اہم رول ادا کرتا ہے.
اس پروچن کی خاص بات یہ رہی کہ ہر دن شہر اور اطراف کے سرکردہ سوامی حضرات ، شہر کے ایم ایل اے، ایم پی، دیگر سیاسی و سماجی قائدین بنفس نفیس شریک رہے، پورا درس بڑی توجہ سے سنا اور اپنے دلی تاثرات کا اظہار کیا.
ہر دن پروگرام کے اختتام کے بعد حاضرین سے تاثرات حاصل کرنے کا خصوصی اہتمام کیا گیا. غیر مسلم مرد و خواتین نے اس کوشش کو خوب سراہا. کہا کہ ایسے پروگرام ہر سطح پر بڑے پیمانے پر ہونے چاہیے. ان کے تاثرات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام کی بے انتہا تاثیر ہے. یہ کلام انسانی قلب کو اندرون سے بدل کر رکھ دیتا ہے. اس کلام کو سننے اور سنانے سے وہ نفرت اور تعصب بھرا ماحول یکلخت دور ہوجاتا ہے جس کو بنانے میں فسطائی طاقتیں بڑی منظم کوشش کرتی آرہی ہیں.
اس سہ روزہ پروگرام کے موقع سے قرآن ایکسپو کا اہتمام کیا گیا. جس میں شہر کے اسکولوں نے قرآن مجید کی اخلاقی تعلیمات، والدین کے حقوق، خواتین کا مقام و مرتبہ اور ذمہ داریاں، انسانی جان کا احترام، گھریلو تشدد، نشہ اور شراب جیسی لعنت سے متعلق قرآنی تعلیمات اور احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی روشنی میں ماڈلز اور پوسٹرز پیش کئے. یہ قرآنی نمائش روزانہ بعد عصر تا مغرب اور پروگرام کے اختتام کے بعد ایک گھنٹے تک زائرین کے لیے کھلی رہی. ہزاروں افراد نے قرآنی ماڈلز کا مشاہدہ کیا اس کی حیات بخش اور انسانیت نواز تعلیمات سے واقفیت حاصل کی. اس نمائش میں حصہ لینے والے تمام طلبہ کو تمغے اور اسناد سے نوازا گیا. جبکہ جوہر اسکول نے اول، سن شائن اسکول نے دوم اور اقرا پبلک اسکول نے سوم انعامات حاصل کئے.
ہر دن پروگرام کے اختتام کے بعد تمام حاضرین کے لئے طعام کا نظم کیا گیا تھا.
واضح رہے اس عوامی درس قرآن کی تیاری تین ماہ قبل ہی سے شروع ہوئی تھی. اس دوران استقبالیہ کمیٹی کی تشکیل اور برادران وطن کے ہمراہ شہر، بیرون شہر اور اطراف کے دیہاتوں میں انفرادی اور اجتماعی ملاقاتوں کے ذریعہ دعوت و تشہیر کا نظم کیا گیا.
اس کامیاب عوامی تجربہ سے معلوم ہوتا ہے نفرت و تعصب کی فضا ختم کرنے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور پرامن ماحول بنائے رکھنے کے لئے قرآن و سنت کی بنیاد پر برادران وطن سے تعلقات بنائے رکھنا چاہیے. اور صرف اللہ واسطے اسلام کی حیات بخش تعلیمات کو اس کے بندوں تک پہنچانے کی بے لوث کوشش کرنی چاہیے.
سہ روزہ قرآن پروچن کے آخری دن امیر مقامی جماعت اسلامی ہند سندھنور محمد حسین صاحب کے صاحبزادے محمد عمیر کا نکاح ہوا اور بعد پروگرام تمام حاضرین کے لئے ولیمہ کی ضیافت کا نظم کیا گیا.
اس پروگرام کے کامیاب انعقاد پر امیر مقامی سندھنور اور تمام رفقاء نے بارگاہ رب العزت میں شکر بجالاتے ہوئے تمام شہریان سندھنور، سرکردہ مذہبی شخصیات، غیر مسلم تنظیموں اور اداروں کے علاوہ محکمہ پولیس اور بلدیہ کا شکریہ ادا کیا جن کے بھرپور تعاون سے شہر سندھنور میں ایک تاریخی اور مثالی پروگرام پائے تکمیل کو پہنچا.
