اب اُنھیں ڈھُونڈ چراغِ رُخِ زیبا لے کر
سہارنپور(احمد رضا): عالم دین خادم القران  مولانا محمد غلام وستانوی کے لئے دعاؤں اور قرآن خوانی کا سلسلہ مستقل جاری ہے آج حلقۂ احباب میں یہ خبر  ایک صاعقہ بن کر گری کہ خادم قوم و ملت، محبوب المشائخ، خادم القرآن وعامر المساجد، رئیس الجامعہ اشاعت العلوم اکل کوا، رکن شوری ازہر ہند دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا غلام محمد وستانوی صاحب طویل علالت ضعیف العمری کے بعد اپنے ربّ حقیقی سے جاملے "انا للہ وانا الیہ راجعون”۔ جامعۃ الشیخ عبد السّتار نانکہ گندیوڈہ چھٹملپور سہارنپور کے مہتمم عارف باللہ حافظ جمیل احمد نا نکو ی کے صاحبزادہ و جانشین الحاج فضل الرحمان رحیمی نانکو ی نے گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ عالم دین مولانا محمد غلام وستانوی کی رحلت دردناک المیہ ہے آپ نے فرمایا کہ یہ  جدائی ملت اسلامیہ کے لئے ناقابل تلافی خسارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں اعلی مقام نصیب فرمائے آمین!
ہم نے چاہا تھا کہ نہ ہو کوئی صبح فراق
موت کا جب وقت آتا ہے تو ٹلتا نہیں
مولانا مرحوم کی علمی و عملی، سیاسی و سماجی، دینی و عصری، رفاعی سرگرمیاں زمانہ تا ابد یاد‌ رکھے گا۔
آپنے عنفوانِ شباب سے دور حیات کے آخری لمحوں تک ملت کی خیر خواہی و رہنمائی فرمائی آپنے جہاں ملک کے طول وعرض میں مختلف مساجد و مکاتب کی تاسیس فرمائی، وہی خدمت قرآن کی گراں قدر خدمات انجام دی آپ ان اہل نظر اور اصحابِ بصیرت اشخاص میں سے تھے کہ جو پیرانہ سالی اور عمر کی آخری ساعتوں میں بھی جہد مسلسل، فلاحِ خلق، کو اپنا فریضہ سمجھتے، عظیم المرتبت ہستی کا اچانک چلے جانا ایک عہد کا خاتمہ اور امت کے لیے ایک عظیم سانحہ ہے، امت مسلمہ کے روشن مستقبل کی خاطر جدید علوم کے مختلف کالجز کے ذریعے امت مسلمہ کو ایجوکیشنل سوسائٹی فراہم کرنا آپکا مشن تھا آپ کی ضیافت و سخاوت، صفت ابراہیمی، اخلاق و رواداری،خندہ پیشانی، شائستگی و شگفتگی، عوام خاص میں مشہور مقبول تھی۔ ناظم جمعیت علماء ضلع سہارنپور مولانا مفتی عطاءالرحمن جمیل قاسمی نانکوی نے مولانا کی خدمات جلیلہ کو یاد کرتے ہوئے جامعہ اکل کواں کی حاضری کو یاد کرتے ہوئے کہا مولانا مرحوم کا قوم ملت کی فلاح و بہبودگی کے لیے سرگرم خدمات کا اکثر تذکرہ سنتا تو آپ سے استفادہ و انتساب کی خواہش انگڑائی لیتی تھی بالاآخر جنوری, 2019  کو اشتياقِ دید کی خاطر اور آرزوئے دراز کی تکمیل کے لئے میں سفر پر نکل پڑا آپ سے ملکر جو فرحت و انبساط سکون و طمانیت حاصل ہوئی اس بابرکت صحبت ملاقات کا ذکر نہیں کیا جا سکتا ہے
موت اس کی ہے کہ جس کا زمانہ کرے افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کیلئے
  اللہ تعالی حضرت کی بال بال مغفرت فرمائیں درجات بلند فرمائے اعلی علیین میں جگہ عنایت فرمائے شاگردان  و پسماندگان کو صبرِ جمیل اور حوصلہ عطاء فرمائے نیز ہم سب کو آپ کی خلا پر کرتے ہوئے آپ کا نعم البدل عطا فرمائے  آمین یارب العالمین۔
جامعہ الطیبات میں تعزیتی اجلاس کا انعقاد * !سہارنپور  ریاست کے مشہور و معروف علمی اور فکری ادارہ جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کنواں مہاراشٹر  کے ناظم حضرت مولانا غلام محمد وستانوی کے انتقال پر جامعۃ الطیبات حبیب گڑھ میں ایک تعزیتی نشست منعقد ہوئی جس کی صدارت آل انڈیا دینی مدارس بورڈ کے چیئرمین مولانا محمد یعقوب بلند شہری نے کی۔ اس موقع پر مولانا محمد یعقوب بلند شہری نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خادم قرآن حضرت مولانا غلام محمد وستانوی صاحب کا سانحہ ارتحال ملت کے لئے بہت بڑا خسارہ ہے جس کا پُر ہونا بظاہر ناممکن  ہونا نظر آتا ہے۔ مولانا وستانوی رحمت اللہ علیہ نے ہزاروں مساجد اور مدارس کے قیام کے ساتھ ساتھ عصری اداروں کو بھی پروان چڑھا کر نوجوانان ملت کو دین و دنیا میں آگے بڑھنے کے جذبے کو فروغ دیا،مولانا وستانوی رحمت اللہ علیہ کو مسابقہ قرآن کرانے کا بڑا شوق تھا جس سے نہ صرف طلباء میں قرآن کریم کو اچھے انداز میں پڑھنے اور یاد کرنے اور قران کریم کی مہارت میں کمال حاصل کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا تھا بلکہ ذمہ داران مدارس کے اندر بھی قرآن کریم کی تعلیم کو اچھے سے اچھی کرانے اور اس میں نکھار لانے کا شوق وہ جذبہ پیدا ہوتا تھا۔ مولانا غلام وستانوی رحمۃ اللہ علیہ کی اس قربانی کو تا قیامت یاد رکھا جائے گا اس موقع پر جامعۃ الطیبات و مدرسہ معارف القرآن کے طلباء و طالبات کے ذریعے قرآن خوانی کر کے مولانا مرحوم کے لیے ایصال ثواب کیا گیا۔
مولانا بلند شہری نے حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے لیے جنت الفردوس میں درجات بلندی اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کرائی اور ملت کے لیے حضرت والا کے نعم البدل کی دعا کرائی نشست میں مفتی مجیب الرحمن مظاہری، مولانا محمد ذاکر مظاہری، مولانا سعود الظفر مظاہری، قاری شاہجہاں، مولانا محمود الظفر ندوی،قاری عبدالسبحان رحمانی، مولانا مسعود الظفر مظاہری، مولانا اشرف مظاہری، قاری عبدالاحد، وغیرہ حضرات شریک رہے!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے