بیدر۔ 13؍مئی (محمدیوسف رحیم بیدری): سابق مرکزی وزیرمسٹر بھگونت کھوبا نے ایک ای میل کے ذریعے ضلع پولیس کے سربراہ (ایس پی بیدر)کو خبردار کیا ہے کہ اگر مجھے، میرے خاندان یا میرے عملے کو کوئی پریشانی ہوتی ہے تو اس کا ذمہ دار محکمہ پولیس ہوگا۔میں نے گزشتہ 10 سال سے بیدر لوک سبھا حلقہ سے ایم پی اور 3 سال تک مرکزی وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دی ہیں۔ پچھلے کچھ سال سے میں نے اس ضلع میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے یا سماج دشمن قوتوں کے خلاف بلا جھجک آواز اٹھائی ہے، میں آگے بھی آواز اٹھاتا رہوں گا۔ جس کی وجہ سے مجھ پر پہلے بھی کئی بار حملہ کرنے کی کوشش کی جا چکی ہے اور مجھے طعنے(اوردھمکی) بھی دئے گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے گزشتہ 4 سال سے میرے گھر اور ہوم آفس کو پولیس سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔گزشتہ سال جولائی سے بیدر ضلع میں دن دہاڑے قتل، ڈکیتی، چوری، بے گناہ لوگوں کے خلاف بدمعاشی، مٹکا، گانجہ کا نقل و حمل، بائیو ڈیزل کی فروخت، کرانہ کی دکانوں میں شراب کی فروخت وغیرہ جیسے مقدمات درج ہوئے ہیں، جن کے خلاف میں نے احتجاج کیاہے ۔ پریس کانفرنسوں میں ضلع انتظامیہ کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ اس وقت بیدر ضلع میں جو غیر قانونی کام چل رہے ہیں ان لوگوں کے ذہنوں، نظروں اوران کی سازشوں میں میرا نام سب سے پہلے آ رہا ہے۔ یہ کس حد تک درست ہے کہ آپ بحیثیت ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، اس طرح کے سماج دشمن واقعات کے خلاف کام کرنے کے بجائے، ایسے ہنگامہ خیز وقت میں میرے خلاف دشمنی کو ہوا دے رہے ہیں؟ اس کے علاوہ میرے نوٹس میں لائے بغیر، مجھے ایک بھی خط دیے بغیر، گزشتہ ماہ کی 27 تاریخ کو اچانک پولیس سیکیورٹی واپس لینے کے پیچھے آپ کا کیا مقصد ہے؟ مجھے لگتا ہے کہ آپ مجھے سیکورٹی فراہم کرنے کے بجائے سماج دشمن عناصر کی مدد کرنے جارہے ہیں،یہ بات میں نے ایس پی بیدر سے پوچھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بننے کے بعد قاتلوں اور چوروں کو پکڑنا ان کے بس کی بات نہیں ہے تاہم ہمیں یہ سمجھ نہیں آرہی ہے کہ انہیں کٹ آؤٹ کے ذریعے شہر میں مبارکباد دی جارہی ہے گویا انہوں نے ضلع میں کچھ مفاد پرستوں کی وجہ سے کچھ نہ کرنے کے باوجود بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
سابق مرکزی وزیر نے مطالبہ کیا کہ میرے نوٹس میں لائے بغیر میرے گھر اور میرے ہوم آفس کو فراہم کی گئی سیکیورٹی واپس لینے کی وجہ سے مجھے بھی آگاہ کیا جائے، ، انہوں نے متنبہ کیا کہ مجھے، میرے اہل خانہ اور میرے ہوم آفس کے عملے کو ہونے والی کسی بھی پریشانی کا براہ راست ذمہ دار ان کا محکمہ پولیس ہوگا۔مذکورہ معلومات ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ، وزیرداخلہ، ڈائرکٹر جنرل آف پولیس، انسپکٹر جنرل آف پولیس، نارتھ ایسٹرن ریجن، کلبرگی، پولیس سپرنٹنڈنٹ/ڈپٹی ڈائرکٹر، انٹیلی جنس ڈپارٹمنٹ کو بھی ای میل کے توسط سے بھیجی گئی ہے۔یہ بات ایک پریس نوٹ جاری کرکے سابق مرکزی وزیر بھگونت کھوبا کے ذاتی معاون نے پریس کے حوالے کی ہیں۔

