میربیدری، بیدر،کرناٹک
اچھی روحوں کا پتلا ہوں
کیوںکر خود میں،میںجھانکا ہوں
سوچ رہاہوں جانے کب سے
کس کی آنکھوںکاسجداہوں
ہے تسبیح پہ اس کی بڑائی
میں کہ تصور کا منکا ہوں
اس کو بالکل چھوڑ دیاہے
بالکل ہی نہیں میں ٹوٹا ہوں
جس کو دنیا کہتی ہے دنیا
اس کا شباب بھی میں توڑا ہوں
میرے پیچھے وہ بیٹھا ہے
اپنے آگے میں بیٹھا ہوں
اس کی باتیں فتنے کی جڑ
کل کو کہہ دے گا میں خدا ہوں
میں نہیں ہوں کسی کے بھی حق میں
سمجھو میر فقط نوٹا ہوں

