بیدر۔ یکم جون (محمدیوسف رحیم بیدری): مجھے خوشی ہے CBSE نے مادری زبان میں تعلیم کی اہمیت کو سمجھا۔ کئی سال سے میں نے بار بار اس تعلق سے کہا ہے اور لکھا بھی ہے، انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں۔ ہمارے بچوں کی مادری زبان میں تعلیم نہ ہونا ہی ہندوستان کو عالمی سطح پر ترقی سے روکے ہوئے ہے۔ والدین اور سربراہانِ تعلیمی ادارے اس اہم بات کو محسوس کریں۔ میں سمجھتا ہوں اب وقت آگیا ہے کہ انگریزی میڈیم اسکولوں کی اندھی تقلید کو چھوڑ کر مادری زبان میں ذریعہ ء تعلیم کی طرف متوجہ ہوں۔ ہاں! بیرون ملکی غیر مادری زبانوں کو بحیثیتِ ایک مضمون، تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔ دوسری اہم بات غیر ملکی اجنبی زبان کی درس و تدریس عمر کے اُس حصے میں دی جانی چاہئے، جب طلبہ اپنی مادری زبان پر اچھی طرح عبور حاصل کرلیتے ہیں، یعنی کوئی پانچویں یا چھٹی جماعت میں۔ یہ وہ عمر ہوتی ہے جب بچے مادری زبان کے مرکزِتکلم (speech center) سے دوسری زبانوں کو سمجھنے اور بولنے کی صلاحیت پیدا کرلیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر بیرون ممالک زبانوں کو اچھی طرح سیکھنا ہو تو پہلے طلبہ کو مادری زبان پر عبور حاصل کرنا چاہئے۔واضح رہے کہ ڈاکٹر قاضی سراج اظہر ایک دانشور ہیں اور ان کی یہ تحریر ایک واٹس ایپ گروپ سے لی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے