فرقہ وارانہ نفرت، نوجوانوں کی طویل قید، اوروعدوں کی تکمیل میں تاخیر پر شدید اظہارِ تشویش
بنگلورو۔ 4؍جون (محمدیوسف رحیم بیدری): جناب محمدیوسف کنی سکریڑی جماعت اسلامی ہند کرناٹک کی اطلاع کے بموجب کرناٹک مسلم متحدہ محاذ (KMMM) کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے حال ہی میں ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ جناب ڈی کے شیوکمار اور وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وفد نے ریاست میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی، جیلوں میں سالہا سال سے قید بے قصور مسلم نوجوانوں اور انتخابی وعدوں پر عمل درآمد میں تاخیر جیسے سنگین مسائل پر تشویش کا اظہار کیا۔وفد نے دونوں وزراء کو یاد دلایا کہ 2023 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو اقتدار تک پہنچانے میں دلت، آدی واسی، کسان، اقلیتیں اور پسماندہ طبقات نے کلیدی کردار ادا کیا۔ ”ہم نے نفرت، استحصال اور آئینی حقوق کی پامالی کے خلاف ریاست بھر میں بیداری مہم چلائی، لیکن دو سال بعد بھی عوام انہی خدشات سے دوچار ہیں”، وفد نے کہا۔وزیر داخلہ ڈاکٹر پرمیشور سے ملاقات کے دوران وفد نے خاص طور پر منگلورو کے مضافاتی گاؤں میں حالیہ عبد الرحمن قتل کیس کا حوالہ دیتے ہوئے ریاست میں عام شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ”فرقہ وارانہ نفرت کے بڑھتے ہوئے رجحانات ریاست کے امن کو داؤ پر لگا رہے ہیں، اور حکومت کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ ہر شہری کو تحفظ فراہم کرے۔”وزیر داخلہ نے وفد کو بتایا کہ حکومت پہلے ہی فرقہ وارانہ جرائم کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دے چکی ہے اور اس کے لیے یونیفارم اور دیگر تیاریوں کا عمل جاری ہے۔ تاہم، وفد نے اس بات پر زور دیا کہ محض ڈھانچے کی تشکیل کافی نہیں، بلکہ اس ٹاسک فورس اور پولیس محکمہ میں ایسے افراد کو شامل کیا جائے جو سیکولر سوچ رکھتے ہوں اور آئینی اقدار سے وفاداری رکھتے ہوں۔ ”امن و انصاف کے تحفظ کے لیے نظریاتی وابستگی اور انسانی ہمدردی لازمی ہے”، وفد نے واضح کیا۔اس کے ساتھ ساتھ، ایک یادداشت پیش کرتے ہوئے وفد نے ان مسلم نوجوانوں کی رہائی کا مطالبہ کیا جو سالوں سے جیلوں میں بند ہیں لیکن ان کے مقدمات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ”جمہوریت میں بغیر جرم کے سزا کا تصور ناقابلِ قبول ہے۔”نفرت انگیز تقاریر اور جھوٹی خبروں کے ذریعہ سماجی انتشار پھیلانے والوں کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کی بھی اپیل کی گئی۔نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار سے علیحدہ ملاقات میں وفد نے گاؤ کشی قانون کے غلط استعمال پر شدید اعتراض کیا اور کہا کہ اس قانون کی آڑ میں بے گناہ افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ عید الاضحی کے موقع پر ریاست میں امن و امان برقرار رکھنا حکومت اور پولیس کی اولین ذمہ داری ہے۔وفد نے گلبرگہ، بلگاوی، میسور، چنگیری، ناگمنگلا اور منگلور جیسے اضلاع میں جاری فرقہ وارانہ کشیدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ”جب کانگریس اقتدار میں ہے، تب بھی نفرت پھیلانے والے عناصر بے خوف و خطر اپنے ناپاک عزائم میں مصروف ہیں، یہ لمحہئفکریہ ہے۔”وفد نے ریاستی ارکانِ اسمبلی کی خاموشی اور عوامی مسائل سے ان کی لاتعلقی پر بھی سوال اٹھایا۔ ”136 ارکانِ اسمبلی کے باوجود حکومت خاموش کیوں ہے؟ جو وعدے کئے گئے تھے، ان پر عملدرآمد میں تاخیر کیوں ہے؟ خاص طور پر مسلمانوں سے متعلق مسائل پر عدم توجہی ناقابلِ قبول ہے۔ اگر مستقبل میں فرقہ پرست قوتیں دوبارہ اقتدار میں آتی ہیں تو اس کی سیاسی و اخلاقی ذمہ داری کانگریس پر عائد ہوگی۔”دونوں وزراء نے وفد کی باتوں کو غور سے سنا اور ریاست میں امن و ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے اپنے عزم کا اظہار کیا۔وفد میں جناب مسعود عبدالقادر (کنوینر)، جناب محمد یوسف کنی (جماعت اسلامی ہند)، جناب تنویر احمد شریف (جمعیۃ علماء ہند)، جناب منصور احمد قریشی (جمعیت اہل حدیث)، جناب اعجاز احمد بخاری، جناب اعجاز احمد (جوائنٹ سیکریٹریز)، جناب محب اللہ امین (جمعیت علماء کرناٹک)، جناب اللہ بخش ادال آمری (اہل سنت والجماعت)، جناب تفہیم اللہ معروف، جناب شفیق احمد، ڈاکٹر نسیم احمد (صدر سالیڈیارٹی کرناٹک)، جناب جوہر کاشف (سیکریٹری SIO کرناٹک)، جناب محمد طلحہٰ سدی باپا، جناب ضیائاللہ خان اور مولانا زین العابدین رشادی شامل تھے۔

