عید گاہ میدان میں مفتی نذیر احمد حسامی کا خطاب
ظہیرآباد 7جون (مشرقی آواز جدید): ماہ ذی الحج عظیم مہینہ ہے اور اسلامی سال کا اخری مہینہ ہے اسلامی سال کی ابتدا محرم الحرام سے ہوتی ہے اور اختتام ماہ ذی الحج پر ہوتا ہے ماہ محرم الحرام بھی قربانی کا سبق دیتا ہے اور ماہ ذوالحج بھی قربانی کا درس دیتا ہے ، اسی مہینہ میں حج جیسی عظیم الشان عبادت انجام دی جاتی ہے، عید الاضحی حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کی قربانیوں کی یادگار ہے، سب سے پہلے اپنے باپ کو ایمان کی دعوت دی پھر اس کے بعد اپنی قوم کو ایمان کی دعوت دی، قوم آپ کی دشمن ہو گئی آپ کو اگ کے اندر ڈالا گیا ، لیکن اللہ تعالی نے آپ کی حفاظت فرمائی ، مگر اس معجزے کو دیکھ کر کسی نے ایمان قبول نہیں کیا پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام فلسطین ہجرت کر گئے، پھر وہاں پر اللہ تعالی نے اپ کو حضرت اسماعیل جیسا بیٹا عطا فرمایا، اور ساتھ میں امتحان بھی لیا، اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے اور بیوی کو جنگل اور صحرا میں چھوڑ دیا، پھر جب حضرت اسماعیل 13 سال کے ہوئے تو اللہ تعالی نے خواب میں اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا، یہی ذی الحج کی دسویں تاریخ تھی اللہ تعالی کے حکم کو پورا کرنے کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل کو میدان میں لٹا کر گلے پر چھری چلا دیا ، مگر اللہ تعالی نے حضرت اسماعیل کی جگہ جنت کے دنبے کو رکھ دیا اور وہ دنبہ قربان ہو گیا ، یہ عید حضرت ابراہیم اور اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کی اسی قربانی کی یادگار ہے اور قربانی صرف جانور کو ذبح کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ اپنی خواہشات کی قربانی کا نام قربانی ہے، نہ صرف ہم جانوروں کو ذبح کریں بلکہ اپنے اندر بھی ایک جانور ہے تکبر کا انانیت کا غرور کا کینہ کپٹ اورحسد کا اصل میں اس جانور کو قربان کرنا یہی اس عید کا پیغام ہے، ان خیالات کا اظہار مفتی نذیر احمد حسامی نے عید گاہ ظہیرآباد کے ایک کثیر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا، قاضی ضیاء الدین نے امامت کی، اور قاضی معز نے جماعت کا اعلان کیا۔
اس موقع پر عید گاہ کمیٹی ظہیرآباد محمد ماجد عنایت بھائی وسیم ٹیچر حافظ محمد اکبر فصیح بھائی محمد ایوب نے انتظامات میں حصہ لیا اور بلدیہ پولیس اور نوجوانوں کا شکریہ ادا کیا، اس موقع پر محمد تنویر خواجہ بھائی سابقہ وائیس چیئرمین چیئرمین محمد عظمت سابقہ وائس چیئرمین قدیر سیٹھ محمد معیز الدین، محمد فاروق، محمد یوسف و دیگر موجود تھے۔۔۔۔
