اعداد: محمد وسيم راعين
اللہ کے فضل و کرم سے ١٤٤٦ ہجری موافق ٢٠٢٥ عیسوی کا حج بحسن و خوبی اختتام کو پہنچا ۔ یہ اللہ کا فضل وکرم اور اس کی توفیق کے بعد سعودی حکومت کی حسن تدبیر ، ہر قسم کی توانائی کو صرف کرنے اور مختلف امکانیات کو بروئے کار لانےکے سبب ممکن ہو پایا ہے۔
اللہ سبحانہ وتعالی نے حرمین کی خدمت کا شرف سعودی حکومت کے حصہ میں ذخیرہ کر رکھا تھا اور انہیں توفیق بخشی کہ حجاج کی خدمت کے لئے حتی الوسع سارے امکانیات کو بروئے کار لائے نتیجے میں ہر سال کا حج پہلے کے بالمقابل بحسن وخوبی اختتام پذیر ہوتا ہے۔
سعودی جنرل اتھارٹی برائےشماریات کے مطابق اس سال 16 لاکھ 73 ہزار 230 افراد نے فریضہ حج ادا کیا۔جن میں بیرون مملکت سے 15 لاکھ 6 ہزار 576 حجاج سعودی عرب آئے جبکہ داخلی حجاج کی تعداد ایک لاکھ 66 ہزار 654 رہی ہے۔
حجاج کرام دنیاکے گوشہ گوشہ سے بری ،بحری اور ہوائی راستوں سےجب پہنچتے ہیں تو ان کا شاندار استقبال کیا جاتا ہے ۔انہیں وہ عزت دی جاتی ہے جو اکثریت کی زندگی میں حاصل نہیں ہوتی ہے۔
امسال کا حج استثنائی طور پہ کامیاب رہا شیخ عبد الرحمن سدیس حفظہ اللہ کا بیان ہے کہ امسال کا موسم حج جس کامیابی سے اختتام پذیر ہوا ہے اس طرح حرمین کی خدمت کے چالیس سال کے دوران میں نے نہیں دیکھا۔
حج کی کامیابی میں اللہ کے فضل و کرم اور اس کی توفیق کے بعد مختلف امور نے کلیدی کردار ادا کیا ہے جیسے کہ مضبوط ومستحکم مسبق منصوبہ بندی ،حکام کی رہنمائی اور مسلسل نگہداشت و متابعت، جہات امنیہ کی استثنائی کوشش ، جدید ٹکنالوجی کا استعمال جیسےروبوٹ، ڈرونز،مصنوعی ذہانت وغیرہ، بھیڑ کی عمدہ تنظیم وتنسیق ،مختلف موقع ومناسبت سےتعلیمات و ارشادات اور حجاج ومعتمرین کا قوانین کا پاس ولحاظ رکھنا ایسے امور ہیں جن کی مدد سے یہ حج استثنائی طور پہ کامیاب رہا۔اسی طرح سے بغیر تصریح کے حج کی ممانعت کی مہم اور چھپ چھپاکر مکہ پہنچ جانے والے کی پولس اور ڈرونز وغیرہ کے ذریعے کڑی نگرانی اور مخالفت کرنے والوں کو سخت سزا کے اعلان نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس سے حج کے دوران نظم و ضبط کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
حج کی کامیابی میں اہم کردار مختلف قسم کے خدمت گزاروں کا بھی ہوتا ہے جو مختلف قسم کی خدمت پہ مامور ہوتے ہیں، جن میں طبی ، سیکیورٹی عملہ، ہزاروں رضاکار مرد وخواتین، اسکاؤٹس اور دیگر خدمات انجام دینے والے شامل تھے ایک اندازہ کے مطابق خدمت گزاروں کی مجموعی تعداد 420070 تھی۔
سعودی حکومت حجاج کی سہولت کے لئے مختلف تجربہ کرتی ہے جس سے بھی حجاج کو بہت آسانی ہوتی ہے انہیں آرام و راحت ملتی ہے جیسے کہ انہیں کہ ملک میں ہوتے ہوئے ہی کاروائی کی تکمیل، حجاج کے لئے اسمارٹ کارڈ جس میں تمام معلومات درج ہوتے ہیں، چہرہ پہچاننے والا کیمرہ ،ربڑ والے لچکدار سڑکوں کا تجربہ، مختلف مقاصد کے لئے ڈرونز کا استعمال،اڑنے والی ٹیکسی وغیرہ مختلف خدمات ہیں ۔
حجاج کی خدمت کے لئے حکومتی جہات کے ساتھ سعودی شعب بھی اپنابھر پور کردار ادا کرتی ہے اور حسب توفیق واستطاعت حجاج کی خدمت رضائے الہی اور اپنے حکام کی اطاعت وفرمابرداری ان کی توجیہات کو سر اور آنکھوں پہ رکھ ان کی خدمت اپنے لئے باعث شرف سمجھتی ہے ۔
مکہ مکرمہ کے نائب گورنر نے اپنی تقریر میں واضح کیا ہے کہ اس سال کے حج کی کامیابی میں پیشگی اور درست منصوبہ بندی کا کلیدی کردار رہا ہے ، ساتھ ہی ساتھ یہ بھی اعلان کیا کہ اگلے سال کے حج کی تیاریاں ابھی سے شروع ہو چکی ہیں، اس سے واضح ہوتا ہے کہ حجاج کی خدمت اور حج کو بہتر سے بہتر بنانے کے لئے کس قدر پہلے سے تیاری کی جاتی ہے اور کتنی کوشش اور محنت صرف ہوتی ہے ۔
اللہ تعالی شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان حفظہما اللہ کو جزائے خیر دے ، سعودی حکومت کی حفاظت فرمائے اور ہر قسم کے شر سے انہیں محفوظ رکھے اور اسلام و مسلمان کی خدمت کی مزید توفیق دے آمین۔
