کشیدگی کے درمیان حُسنِ سلوک کا رویہ:

ترتیب وپیشکش
ڈاکٹر عبد الغنی القوفی

جون 2025 میں دو روز قبل مشرقِ وسطیٰ کی فضا ایک بار پھر اس وقت اضطراب کا شکار ہوئی، جب اسرائیل نے ایران کے حساس عسکری اور جوہری مقامات پر حملے کر کے کئی اہم ایرانی شخصیات کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں سے ایران کے اندر نہ صرف سیاسی اور سلامتی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوئی بلکہ خطے کے استحکام پر بھی خطرے کی گھنٹی بجی۔

ایسے نازک وقت میں سعودی عرب کی قیادت نے انتہائی حکمت اور توازن سے کام لیتے ہوئے، جہاں ان حملوں کی برملا مذمت کی، وہیں سعودی عرب میں موجود ایرانی حجاج کے لیے ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کا اعلان کر کے ایک بار پھر اپنی صلح پسندی، اعتدال اور انسان دوستی کا عملی ثبوت دیا۔

✦ اسرائیلی حملے اور علاقائی فضا:

اسرائیلی فضائی حملے، جن میں ایرانی فوجی اور جوہری ماہرین ہلاک ہوئے، ایک ایسے وقت میں سامنے آئے جب حج 1446ھ کی ادائیگی مکمل ہو چکی تھی اور لاکھوں حجاج اپنے اپنے وطنوں کو واپس لوٹ چکے تھے۔ ان حملوں نے ایران کے داخلی استحکام کو مزید کمزور کیا، اور وہاں کے عام شہریوں، خصوصاً بیرونِ ملک موجود ایرانیوں کو اضطراب میں مبتلا کر دیا۔

✦ سعودی عرب کا مدبرانہ ردِ عمل:

سعودی وزارتِ خارجہ نے فوری طور پر ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے خطے میں عدم استحکام کا موجب قرار دیا، اور تمام فریقین کو تحمل، حکمت اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی تلقین کی۔ یہ وہی روش ہے جو سعودی عرب نے ہمیشہ اختیار کی ہے—انتقامی یا اشتعال انگیز بیانات کے بجائے امن، توازن اور سفارت کو ترجیح دینا۔

✦ ایرانی حجاج کے لیے سعودی سرزمین پر سہولیات:

سب سے نمایاں اور قابلِ تحسین قدم وہ تھا جو خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی پیشکش پر اٹھایا:
وزارتِ حج و عمرہ کو ہدایت دی گئی کہ سعودی عرب میں موجود تمام ایرانی حجاج کو مکمل سہولیات، تحفظ، طبی امداد، رہائش اور ضروری خدمات فراہم کی جائیں، تا وقتیکہ ان کے لیے وطن واپسی کے حالات سازگار ہو جائیں۔

یہ فیصلہ صرف انتظامی نوعیت کا نہیں، بلکہ اس میں انسان دوستی، اسلامی بھائی چارہ، اور مشترکہ اقدار کا گہرا عکس موجود ہے۔

✦ دیرینہ پالیسی کا تسلسل:

ایران کے ساتھ اختلافات کے باوجود سعودی عرب نے ہمیشہ اعتدال، برداشت اور دور اندیشی کی پالیسی اپنائی ہے۔ چاہے سفارتی تعلقات کی بحالی ہو یا حج اور عمرہ کے انتظامات—سعودی قیادت نے ایران کے ساتھ کسی بھی بحران کے دوران افراط و تفریط سے گریز کیا۔
2023 میں چین کی ثالثی سے تعلقات کی بحالی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے باوجود سفارتی نرمی اور تعاون کی فضا قائم رہی، اور حالیہ فیصلے نے اس تسلسل کو مزید تقویت دی ہے۔

✦ عالمی سطح پر سعودی قیادت کا پیغام:

سعودی وژن 2030 کے تحت ملک جہاں اندرونی ترقی کی راہ پر گامزن ہے، وہیں بین الاقوامی سطح پر ایک متوازن، پُرامن اور مثبت کردار بھی ادا کر رہا ہے۔
فلسطین کے مسئلے پر واضح مؤقف، یمن میں سیاسی حل کی حمایت، اور ایران جیسے حریف ملک کے شہریوں کے ساتھ ہمدردانہ رویہ—یہ سب اس حقیقت کی غمازی کرتے ہیں کہ سعودی قیادت امن، انسانیت اور اسلامی اخوت کو اپنی پالیسی کی بنیاد سمجھتی ہے۔

موجودہ عالمی حالات میں جب قومیں اپنے مفادات کے خول میں بند ہو چکی ہیں، سعودی عرب نے ایران جیسے حساس معاملے میں حکمت، انسان دوستی اور اسلامی اخوت کا مظاہرہ کر کے ایک اعلیٰ مثال قائم کی ہے۔
ایرانی حجاج کو سعودی سرزمین پر مکمل سہولتوں کی فراہمی کا فیصلہ یہ بتاتا ہے کہ قیادت کا اصل جوہر صرف سیاست نہیں، بلکہ اخلاق، ظرف اور ذمہ داری میں پوشیدہ ہوتا ہے۔

یہ اقدام ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ سعودی عرب مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کا داعی ہے—ایسا ملک جو اختلافات کے باوجود انسانیت کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے