بیدر. یکم جولائی (محمد یوسف رحیم بیدری): کرناٹکا کی کانگریس سرکار اپنے مینیفیسٹو میں کسان،دلت،آدی واسی اور اقلیتوں کے مسائل کو حل کرنے کے واعدے پر اقتدار پر آئی ہے.دیونہلی میں کسانوں کی زمینات پر حکومت کا قبضہ اسے ہٹانے کا بھی وعدہ ہوا،مگر کانگریس اقتدار میں آکر دو سال کا عرصہ گزر گیا،وعدے کو پورا کرنے کے بجائے، 1777یکڑ زمین کو قبضہ کرنے کے لئے  باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ۔اس کے خلاف کسان تنظیموں کے ذمہ داران دیونہلی میں بڑا احتجاج کیا اور اب فریڈم پارک میں دھرنا دے رہے ہیں۔کرناٹکا مسلم متحدہ محاذ کا ایک نمائندہ وفد جناب مسعود عبدالقادر کنوینر کی قیادت میں پارک پہنچ کر کسان تنظیموں کے ذمہ داران سے ملاقات کرتے ہوۓ،محاذ کی حمایت کا اعلان کیا۔
اس موقع پر محمد یوسف کنی سیکریٹری حلقہ جماعت اسلامی ہند کرناٹکا نے حکومت پر زور دیا کہ کسانوں کی زمین بزور اپنی تحویل میں نہ لے،80 فیصد کسان مخالفت کر رہے ہیں تو حکومت کو کیا حق بنتا ہے کہ اس زمیں پر قبضہ کرے۔انہوں نے وزیر اعلی پر زور دیا کہ اس مسٔلہ کو جلد از جلد حل فرمادیں۔مولانا مفتی محمد حسین قاسمی صدر جمیعت علماء کرناٹکا بنگلور نے خطاب کرتے ہوۓ،کسانوں کی اس تحریک کی حمایت کا اعلان کیا۔مسعود عبدالقادر صاحب نے اس تحریک کو منظم اور مفید بنانے کا مشورہ دیتے ہوۓ کرناٹکا مسلم متحدہ محاذ کی حمایت کا اعلان کیا۔آج کے اجلاس میں کسان تنظیموں کے لیڈر بڑگلپور ناگیندرا ،بسوراجپا،وویر سنکھیا،دلت لیڈر ناگراج،گرو پرساد کیریگوڈ،جن شکتی کے نور شری دھر،جمیعت العلماء کے مولانا محمد آدم علی شاہی قاسمی،جناب امتیاز احمد چشتی اور حافظ محمد فاروق صاحب،جمیعت اہل حدیث سے جناب شفیع اللہ خان ،اہل سنت الجماعت کے جناب اللہ بخش ادالآمری ،خدام المسلمین کے جناب  ضیاء اللہ خان،محاذ کے جوائنٹ سیکریٹری جناب اعجاز احمد،سالیڈیارٹی یوتھ مومینٹ کے صدر ڈاکٹر نسیم احمد،آئڈییل ٹیچرز ایسوسی ایشن کرناٹکا کے نائب صدر ڈاکٹر ثناواللہ شریف وفد میں شریک رہے۔ناگیندر بڑگلپور صدر کسان تحریک نے کہا کہ اوقاف یکٹ 2025,کے خلاف ہم مسلمانوں کے قدم بہ قدم چلیں گے۔نور شری دھر نے 4/جولائی کو منعقد ہونے والے پروگرام کو کامیاب بنانے کی اپیل کی۔
جناب محمد یوسف کنی معاون کنوینر محاذ نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ 4/جولائی کو فریڈم پارک میں چلنے والے پروگرام میں شریک ہو کر کامیاب بنائیں،انہوں نے اس موقع پر اس بات کا ذکر کیا مسلمان اور کسان اپنی زمیں کے حق کے لئے اور اسے بچانے کی جد و جہد میں مصروف ہیں، یقیناً ہم ایک دوسرے کی تعاون سے کامیاب ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے