مفتی نذیر احمد حسامی،ظہیرآباد کا بیان

 ظہیرآباد 10/ جولائی(مشرقی آواز جدید): جناب مفتی نذیر احمد حسامی امام و خطیب فردوس مسجد شانتی نگر ظہیرآباد نے ایک بیان میں بتایا کہ جوں ہی محرم کا چاند طلوع ہوتا ہے تو دل کی فضا سوگوار ہو جاتی ہے۔ امام حسینؓ کی قربانی کا تذکرہ ہر زبان پر جاری ہو جاتا ہے، جو ہونا بھی چاہیے، کہ ان کی شہادت قیامت تک جبر کے خلاف آواز بن کر باقی رہے گی۔ لیکن سوال یہ ہے: کیا نواسۂ رسول ﷺ صرف ایک ہی تھے؟ کیا دین کی سربلندی کے لیے صرف تلوار اٹھانا ہی قربانی کہلاتی ہے؟ اور کیا امت کی خیر خواہی صرف میدانِ کربلا میں جان دینے سے وابستہ ہے، یا صلح، حلم، درگزر، اور خاموش حکمت سے بھی دین محفوظ کیا جا سکتا ہے؟ حضرت حسنؓ کی زندگی ہمیں انہی سوالات کے جواب عطا کرتی ہے۔ وہ جن کی ولادت مدینہ منورہ کی پاک سرزمین پر 15 رمضان 3 ہجری کو ہوئی، جن کے کان میں اذان خود رسول اللہ ﷺ نے دی، جن کا عقیقہ آپ ﷺ نے فرمایا، اور جنہیں "حسن” کا نام دیا، جو عرب معاشرے میں اس سے قبل سنا ہی نہ گیا تھا۔ وہ جن کی تربیت رسول اللہ ﷺ، حضرت علیؓ، اور سیدہ فاطمہؓ جیسے مقدس نفوس نے کی، وہ کیسے معمولی ہو سکتے ہیں؟ وہ تو حلم، سخاوت، عفت، فہم، شرافت، اور عبادت کا مجسمہ تھے، وہ تو نبوت کے گھرانے کی خاموش روشنی تھے، جنہوں نے خون کے بجائے اخلاق سے دل جیتے، جنہوں نے امت کو جوڑا، ٹکڑے ہونے سے بچایا، اور قیادت کا وہ معیار چھوڑا، جو رہتی دنیا تک امت کے لیے مشعلِ راہ ہے،نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: "حسنؓ اور حسینؓ جنتی جوانوں کے سردار ہیں”، اور "اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت کر”۔ اور وہ عظیم پیش گوئی جو تاریخ کا دھارا موڑنے والی تھی: "میرا یہ بیٹا (حسنؓ) سردار ہے، اللہ اس کے ذریعے امت کے دو بڑے گروہوں میں صلح کروائے گا”۔ یہ حدیث فقط بشارت نہ تھی، بلکہ ایک خاموش اعلان تھا کہ خلافت کے ایوانوں میں جو طوفان آنے والا ہے، وہ صرف تلوار سے نہیں، حسنؓ کے حلم سے رکے گا۔

   حضرت حسنؓ عبادت میں ایسے پگھلتے کہ وضو کے وقت چہرہ زرد ہو جاتا، اور نماز میں کھڑے ہوتے تو جسم لرزنے لگتا، فرماتے: "اب اُس رب کے سامنے کھڑا ہوں جو زمین و آسمان کا مالک ہے”۔ ان کے قدموں نے پچیس حج پیدل کیے۔ جب پوچھا گیا تو فرمایا: "اللہ کے گھر کی زیارت میں سواری پر جانا، اللہ کے حضور جانے کی شرم ہے”۔ یہ وہ روح تھی جو خشیت سے لرزتی تھی، اور وہ عجز جس میں عظمت چھپی تھی۔

    ان کے اخلاق وہ آئینہ تھے، جس میں رحم، عدل، نرمی، اور درگزر جھلکتا تھا۔ ایک شامی شخص، تعصب اور نفرت کے ساتھ مدینہ آیا اور حضرت حسنؓ کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا۔ مگر امام نے نہ غصہ کیا، نہ سخت لہجہ اپنایا، بس اتنا فرمایا: "اگر تم مسافر ہو تو ہمارے مہمان بنو، اگر بھوکے ہو تو ہم کھلائیں گے، اور اگر محتاج ہو تو تمہیں دیں گے”۔ وہی شخص، جو زبان سے زہر اگل رہا تھا، آنکھوں سے آنسو بہانے لگا، اور پکار اٹھا: "اللہ بہتر جانتا ہے کہ نبوت کہاں رکھنی ہے،ایک غلام سے کھانے کی پلیٹ گر گئی، شرمندگی سے کانپنے لگا، امام نے نہ صرف معاف کیا بلکہ آزاد بھی کر دیا، اور فرمایا: "تمہاری خطا پر سزا کا حقدار ہوں، مگر میں چاہتا ہوں اللہ بھی میری خطا کو معاف کر دے”۔ ان کے حلم کی انتہا دیکھیے کہ جب انہیں زہر دیا گیا، تو بھی قاتل کا نام نہ لیا۔ صرف اتنا کہا: "اگر قاتل کا علم ہو تو اللہ کے سپرد کرتا ہوں، اور اگر نہ ہو تو تم بدلہ مت لینا”۔ یہ وہ مقام ہے جہاں حلم خون پر غالب آتا ہے، اور معافی انتقام کو شرمندہ کر دیتی ہے۔

   حضرت حسنؓ کی سخاوت ایسی تھی کہ دو مرتبہ اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں دے دیا، اور تین مرتبہ آدھا مال صدقہ کر دیا۔ ان کے نکاحوں کو بعض روایات نے غیر مناسب انداز میں بیان کیا، مگر تحقیق بتاتی ہے کہ وہ قبائلی اور سیاسی اتحاد کے لیے تھے، جن سے امت کی وحدت مقصود تھی، نہ کہ دنیاوی لذت۔

   ان کی شہادت خود ایک خاموش کربلا تھی۔ جعدہ بنت اشعث نے لالچ میں آ کر انہیں زہر دے دیا۔ جب زہر کا اثر جسم کے اندرونی اعضا کو چیرتا ہوا باہر نکالنے لگا، تو بھی امام حسنؓ کی زبان پر اف تک نہ آئی۔ نہ فریاد، نہ انتقام، بس صبر، استقامت اور اخلاقی عظمت کا مینار۔

   حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد جب اہل عراق نے حضرت حسنؓ کی بیعت کی، تو فتنہ خانہ جنگی سر اٹھا رہا تھا۔ آپ نے امت کے مفاد میں خلافت حضرت معاویہؓ کے حوالے کی، لیکن وہ شرائط رکھیں جن سے دین و ملت کا تحفظ ممکن ہو سکا۔ یہ وہی لمحہ تھا جسے نبی کریم ﷺ نے "دو عظیم گروہوں کے درمیان صلح” قرار دیا تھا۔ گویا اگر حسینؓ نے خون دے کر دین کو زندہ کیا، تو حسنؓ نے خون روک کر امت کو باقی رکھا۔

   آج تاریخ نے حضرت حسنؓ کو جس حد تک نظر انداز کیا ہے، وہ امت کے فکری زوال کی علامت ہے۔ محرم آتا ہے تو ہر زبان پر ایک نواسہ آ جاتا ہے، دوسرا نواسہ خاموشی کی مٹی میں دفن کر دیا جاتا ہے۔ ایک نواسہ نیزے پر سر دے کر تاریخ کا نشان بن گیا، اور دوسرا زہر پی کر حلم و صبر کا پہاڑ بن کر تاریخ کے ضمیر کو جگا گیا۔

   کیا امت صرف تلوار کو قربانی مانے گی؟ کیا خنجر کی دھار ہی دین کی حفاظت ہے؟ کیا ہم صرف شہادت کو یاد رکھیں گے اور صلح کو فراموش کر دیں گے؟ حضرت حسنؓ ہمیں سکھاتے ہیں کہ دین صرف جوش کا نہیں، ہوش کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ بعض اوقات خاموش رہ کر، صبر کر کے، درگزر سے، امت کو بکھرنے سے بچایا جا سکتا ہے۔ اور یہی سب سے بڑی فتح ہے۔

  ہمیں حضرت حسنؓ کو یاد رکھنا ہے، اس لیے کہ وہ نبی کے نواسے تھے، وہ امت کی وحدت کے معمار تھے، حلم کے پہاڑ تھے، اور اخلاق کی وہ روشنی تھے، جس میں آج بھی امت کا راستہ روشن ہو سکتا ہے۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے