ذکی طارق بارہ بنکوی
سعادتگنج، بارہ بنکی یوپی، انڈیا
ہے تجسس اس میں ہی انجام کا
گر نہ ہو شدت تو غم کس کام کا
زندگی میں اپنی جب ہیں شب ہی شب
کیا کروں آئینۂ ایام کا
خط میں لکھا کچھ نہ تھا تھا داغ اک
طرز یہ بھی اس کے تھا پیغام کا
ہنستی آنکھوں سے چھلک جانا وہ اشک
کچھ تو مطلب ہوگا اس ابہام کا
عشق کو دنیا سمجھ پائی نہ جو
فن ہے یہ دیوانۂ گلفام کا
کامیابی کی طلب میں ڈوب کر
بھول بیٹھا نام ہی آرام کا
دیکھ اخبار و رسائل تو کبھی
نام کتنا ہے ترے بدنام کا
آہ زاری کر کے سینہ پیٹ کے
کیوں تماشہ میں کروں آلام کا
تیرا ہونے کی سزائیں کاٹ لیں
مستحق ہوں اب ترے انعام کا
ابتدائے عشق جس میں تھی ہوئی
ذائقہ کچھ اور تھا اس شام کا
