غزل

جولائی 19, 2025

میربیدری، بیدر،کرناٹک

میں لیکن ہوں کہ ڈرکر بیٹھتاہوں
دِلوں میں سب کے گھرکربیٹھتاہوں

منور یاد تیری جب بھی آئے
نگاہیں اپنی ترکر بیٹھتاہوں

مری ہمت کودینا داد یارو
سہاراگھاس چر کر بیٹھتاہوں

مجھے معنی جو بھی معلوم ہوں گے
وہ استعمال کرکر بیٹھتاہوں

پتہ تجھ کو بھی ہے ،معمول ہے یہ
ترے آگے میں بھرکر بیٹھتاہوں

سجیں چہرے ، جیبنوں پر ہوسجدہ
دِلوں میںمیر در کر بیٹھتاہوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے