میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک
اِس گَلے میں جد ابھری ہوگی
دردمند اک صدا بھری ہوگی
دیکھئے گا عطا بھری ہوگی
محسنوں کی دُعا بھری ہوگی
حق تو یہ ہے کہ ثانی کوئی نہیں
حسن ِ حق کی ندابھری ہوگی
میں جو تعریف اُس کی کرتاہوں
اُس نے مجھ میں ثنابھری ہوگی
سراُٹھانے کا جذبہ ہے شاباش
سرکٹانے، اَنا بھری ہوگی
یاد رہتاہے شکر کرنا ادا
روحِ تن میں جزا بھری ہوگی
خودکشی کو یہ لوگ کہتے ہیں حل
ذہنوں میںکیا ہوابھری ہوگی
شوہر ِ نامدار سے ہے عشق
اُس کی ماں نے وفا بھری ہوگی
اس لئے باقی رہ گئے ہم میرؔ
جسم وجاں میں بقا بھری ہوگی
