غزل

جولائی 21, 2025

عبدالرحمن راشد عمری

 

مسلسل جنگ تو جاری رہے گی

صداقت جھوٹ پر بھاری رہے گی

نظر آئے گی یہ دنیا بھی جنت

اگر مخلوق سے یاری رہے گی

کہاں امن وسکوں ان کو ملے گا

دلوں میں جن کے عیاری رہےگی

ملے گی اس کو  منزل اک نہ اک دن

اگر پہلے سے تیاری رہے گی

سرور و کیف  سے  خالی  رہیں گے

جگر میں جن کے بیماری رہے گی

کبھی وہ سچ نہ کہہ پائیں گے راشد

طبیعت جن کی درباری رہے گی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے