محمدیوسف رحیم بیدری
بیدر،کرناٹک ۔ بھارت ۔
ماہنامہ قندیل ادب انٹرنیشنل لندن میگزین کاماہ اگست 2025ء کاشمارہنمبر 152 منظر عام پر آچکاہے۔ جس میں مضطر عارفی ، عبدالکریم خالد ،جمیل الرحمان، طفیل عامر ، ظفرخان ، عبدالشکورکلیولینڈ، فوزی بٹ ، امتہ الباری ناصر، ذکر طاری بارہ بنکوی، چودھری عانیت اللہ احمدی ، نعیم اللہ باجوہ ، منیرباجوہ ، جبیں نازاں ، طاہرہ مسعو ، اظہر فراغ ، ڈاکٹر فرزانہ فرحت ، ڈاکٹر طارق انور باجوہ جیسے شعراء وشاعرات کے علاوہ اردو ادب کے معروف ومعتبر شعراء جیسے ناصر کاظمی، سلیم کوثر، ندافاضلی ، تابش دہلوی، پروین شاکر ، راحت اندوری ، اقبال ساجد اور نئی مگر بہت زیادہ معروف ہوتی ہوئی پاکستانی شاعرہ کومل جوئیہ کی غزلیں شامل ہیں۔
ادبی الف لیلیٰ کی انتیسویں قسط پسند آئی۔ ڈاکٹر عرفان احمد خان اور صلاح الدین غازی کاشکریہ۔ قدسیہ رضا ساوریؔ کا’’لال عشق‘‘ میں ایک مقام پر نذرانہ کونظرانہ لکھاہے۔ظاہر ہے غلط لکھاہے۔ موضوع خوب ہے۔ نبھایا بھی گیاہے۔ آسٹریلیاکے نعیم اللہ باجوہ کادینی مضمون ’’جب اعمال بولیں گے من ربک؟‘‘ اچھاہے۔کافی مائیکرو اسکوپک جائزہ ہمارے اعمال کالیاگیاہے ۔ مبارک۔ خاموش غازی پوری کامعروف شعر ؎
عمر جلووں میں بسر ہویہ ضروری تونہیں
ہر شب غم کی سحر ہو یہ ضروری تو نہیں
دودودفعہ شائع ہوئی ہے۔ یوایس کے ناصر جمیل کاجائزہ ’’واہ جی واہ ، بہت شکریہ‘‘ متاثر کرتاہے۔ شکیب جلالی اور اقبال ساجد پر ان کی باتیں زیادہ تو نہیں لیکن متاثر ضرور کرتی ہیں۔ مبشر شہزاد گلاسکو، سکاٹ لینڈ کاموٹی ویشنل مضمون ’’کون ہے یارِ جانی؟‘‘ کوخاصے کی چیز کہہ سکتے ہیں۔ ایسی ایسی باتیں جمع کی ہیں ، پڑھتے ہوئے نئے جہانوں کی سیر کرسکتے ہیں۔ بہت سے مقامات پر عمدہ باتیں ہیں ۔ ایک مقام پردرج یہ بات ملاحظہ کیجئے ’’کسی نے ایک عالم سے پوچھا بادشاہ آپ کو دوست کیوں نہیں رکھتا۔ اس نے جواب دیا۔ بادشاہوں کی عادت ہوگی ہے کہ وہ بڑوں کودوست نہیں رکھتے ‘‘موصوف نے اس مضمون کو اسلامیات سے مزین کررکھاہے۔ پڑھے جانے اور تبلیغ کئے جانے لائق مضمون ہے۔ شکریہ جناب مبشر شہزاد صاحب۔نیویارک میںمقیم محترمہ قدسیہ ساوری کی غزل پر ڈاکٹر منوراحمد کنڈے انگلینڈ کا تبصرہ خوب ہے۔غزلوں پر اس طرح کے تبصرے (یاتجزیے) ادب کو زندہ رکھیں گے۔ اس فن کی اشاعت بھی ہواور قدر بھی۔ رئیس احمد کمارقاضی گنڈ کشمیر کاپرویز شہر یار کے نظموں کامجموعہ ’’امن کی تلاش میں‘‘ لکھاہوا مضمون رئیس احمدکمار کی قابلیت کامظہر ہے۔ ’’میراجی کی تین معروف نظموں کاادراکی تنقیدی مطالعہ‘‘ فرحت عباس شاہ نے کیاہے۔ مضطر عارفی کی غزل کامطلع ؎
یہ خلش سی جو آبلے میں ہے
کس سزامیں ہے کسی صلے میں ہے
لفظ ’کسی‘ کو کس ہونا چاہیے تھا۔ کمپیوٹرآپریٹر کی غلطی ہے۔ عبدالکریم خالد کی غزل کاآخری شعر کچھ یوں ہے ؎
اس سنگدل سے مجھ کو یہ امید ہی نہ تھی
حیراں ہوا ہوں گریہ خوں ناب دیکھ کر
’’گریہ ‘‘نہیں بلکہ’’ گریہ ء ‘‘لازمی ہے ورنہ شعر بحر سے خارج ہوجائے گا۔ جمیل الرحمان(غنیم سرپر ہے ) اور طفیل عامر ، ظفر خان ، عبدالشکور کلیولینڈ،عبدالصبورسومرو، کی غزلیں متوجہ کرتی ہیں۔ ناصر کاظمی کی غزل کامطلع دودفعہ شائع ہواہے۔ اسی طرح جمیل الرحمان کی ایک تخلیق دودفعہ (صفحہ 5اور 6پر) شائع ہوئی ہے۔ راحت اندوری کی غزل ؎
لوگ ہرموڑ پہ رک رک کے سنبھلتے کیوں ہیں
اتناڈرتے ہیںتوپھر گھر سے نکلتے کیوں ہیں
کاشاعر ’’نامعلوم‘‘ بتایاگیاہے۔ (صفحہ 6)
30؍جون 2025ء کی ادبی نشست ناروے کی رپورٹ عاصی صحرائی لندن نے تحریر کی ہے۔کاش کہ شاعروں کا ایک ایک شعر رپورٹ کیاجاتا۔ ’’زیرسرپرستی‘‘ لکھنے کے بعد ’’میں‘‘ نہیں آناچاہیے۔ رجل خوشاب کا ’’اگر آپ نے ۔۔۔‘‘ ہم جیسے ہندوستانیوں کے لئے مشکل سے پڑھاجائے گا اس لئے کہ انھوں نے جو زبان استعمال کی ہے اس میں مقامی (یاپنجابی ) لفظیات کی بھرمار ہے۔ آپ کے خطوط کالم میں ،صفحہ 7 اور 13پرطفیل عامر، صفحہ 9پر منور احمدکنڈے ، صفحہ 12پر بابابلھے شاہ ؒ،کی پنجابی تخلیقات (دیگر صفحات پر بھی)دی گئی ہیں۔ خاکسار کی گذارش ہے کہ دکنی تخلیق بھی اس انٹرنیشنل میگزین میںدی جانی چاہیے کیو ں کہ دکنی اور اردو زبان میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ اور اس طرف دکنی قلمکاروں کی توجہ ضروری ہے۔ مجموعی طورپر ماہنامہ’’ قندیل ادب انٹرنیشنل ‘‘لندن ایک ادب بیان ، ادب نواز ، ادب شجر میگزین ہے ۔ جس کے مدیررانا عبدالرزاق خان ہیں۔ اس شمارے کی ای ۔ میگزین سب کے لئے مفت ہے لیکن جو اس کی کاپی چاہتے ہیں ان کے لئے ماہانہ’’ قندیل ادب انٹرنیشنل ‘‘میگزین (44 رنگین صفحات )کاسالانہ چندہ 25برطانوی پونڈ رکھاگیا ہے۔ www.qindeel-e-adub.co.ukپر شمارہ دیکھاجاسکتاہے۔

