ابو احمد مہراج گنج
دارالعلوم دیوبند کے دار جدید کے کمرہ نمبر 55 میں ایک لڑکے سے ملاقات ہوئی، سال کوئی 2001 رہا ہوگا ۔یہ ملاقات اس وقت رسمی ہی رہی مگر وقت کے ساتھ ہم ایک دوسرے سے قریب ہوۓ، مزاج و فکر میں یکسانیت تھی۔ جدید مواصلاتی آلات کے استعمال پر قدرت اور درک حاصل کرنے کی کوشش نے ہم دونوں کو بہت ہی قریب کردیا۔ یہاں تک کہ دو دو تین تین گھنٹے ہم ساتھ ساتھ رہتے پڑھتے لکھتے مجھے یاد آتا ہے۔ وہ مجھے کمپیوٹر ہارڈویئر سکھاتے اور میں انھیں کمپیوٹر سافٹ ویئر بتاتا تھا کیوں کہ وہ ہارڈ ویئر کی کلاس کرتے تھے اور میں سافٹ ویئر کی ۔
وقت گزرتا رہا اور ہم دونوں درس نظامی کی تکمیل کے بعد اپنے اپنے علاقوں میں آگئے، موبائل فون کی ریچ ابھی ہم تک نہیں تھی تو لینڈ لائن کے ذریعے سے رابطہ رہتا تھا۔ خیر ہم دونوں اپنے ابتدائی دنوں میں ملازمت اختیار کئے ہوئے تھے۔ مگر یہ پابند سلاسل ہونا زیادہ دنوں تک برقرار نہ رہ سکا اور وہ آزاد فضا میں اپنے بازو کھول کر اڑان بھرنے لگے۔
اور بحمد اللہ آج بھی وہ اسی آن بان شان کے ساتھ آزادانہ طور پر عیال اللہ کی خدمت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالئے ہیں جس طرح وہ زمانہ طالب علمی میں کمپیوٹر ہارڈویئر اور سافٹ ویئر، سی ڈی روم، کی بورڈ، ماؤس، مانیٹر اور پرنٹر کے بیچ رہا کرتے تھے۔
15/02/1980 وہ بہت مبارک ساعت رہی ہوگی جب الحاج مولانا غلام اللہ صاحب مدظلہ العالی کے دولت خانہ میں ایک بیش قیمتی ہیرے کا اضافہ ہوا تھا، یعنی مولانا عبدالحلیم قاسمی کی شکل میں انسانیت کے ایک فرشتے نے جنم لیا تھا۔
کسے معلوم تھا کہ ایک ماں کی آنکھوں کا نور ہزاروں ماؤں کی آنکھیں روشن کرے گا۔ کسے معلوم تھا کہ دو بہنوں کا بھائی دو ہزار بہنوں کا دست و بازوں بنے گا ۔کسے معلوم تھا کہ اپنے والدین کی واحد نرینہ اولاد سیکڑوں والدین کا منھ بولا بیٹا بن جاۓ گا۔
بیواؤں، یتمیوں، بے کسوں، کس مپرسوں کی خبر گیری اس کی زندگی کا نصب العین بن جاۓ گا۔ کمپیوٹر کے کی بورڈ پر ہاتھ چلانے والا یہ شخص بائک اور فور ویلر کا ڈرائیور بن کر بوڑھی ماؤں، بیوہ بہنوں، یتیم بچوں کو راشن، پانی، علاج اور وظیفہ ان کی دہلیز تک پہنچاۓ گا۔
وقت پر بچیوں کا رشتہ نہ ہونے کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار ہو رہے والدین کی خدمت میں رشتے پہنچانے کا انتظام کرنے والے مولانا عبد الحلیم قاسمی کا بنایا ہوا "ضرورت رشتہ گروپ اتر پردیش” سے اب تک محتاط اندازے کے مطابق پانچ ہزار سے زائد نکاح انجام پاۓ ہیں۔ سن دو ہزار بیس میں جب "ضرورت رشتہ گروپ اتر پردیش” واٹس ایپ گروپ بنایا گیا تو کسے اندازہ تھا کہ یہ پودا ایک دن نخل ثمر آور بن کر ہزاروں ہزار کی تعداد میں رشتہ کی تکمیل کا ذریعہ بنے گا۔ کسے معلوم تھا کہ رشتہ گروپ کے پلیٹ فارم پر ایسے زندہ دل، روشن ضمیر اور فراخ دلی کا مظاہرہ کرنے والے احباب مل جائیں گے جن کے مختصر مگر مخلصانہ تعاون سے تیس سے زائد، بوڑھی ماؤں، بیوہ بہنوں کی ماہانہ امداد کا ذریعہ بن جائے گا۔ آج مولانا عبد الحلیم صاحب کا "ضرورت رشتہ گروپ اتر پردیش” کے ذریعہ تیس سے زائد بیوہ اور یتیم بچیوں کو ماہانہ وظیفہ دیا جاتا ہے اور چالیس بچیوں کو جامعات میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے مکمل کفالت کی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ وقتا فوقتاً، غریب، محتاج، بیمار، لاچار، افراد کی فریاد رسی کے ساتھ ساتھ، مفلس، نادار، بچیوں کے نکاح کے لئے ہونے والے لازمی اخراجات کی بھی تکمیل کی جاتی ہے۔ فالحمد للہ علی ذلک ۔
میرے لئے سعادت کی بات یہ ہے کہ مولانا عبد الحلیم قاسمی صاحب سے میرے جو دیرینہ تعلقات ہیں وہ گزرتے وقت کے ساتھ اور بھی مضبوط ہوتے جارہے ہیں ۔
میں ان کے اس مشن کی خوب حوصلہ افزائی کرتا ہوں اور ان سے اپنے مراسم ہونے پر فخر بھی کرتا ہوں ۔
ان کی بے لوث خدمات کے اعتراف میں انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہنا چاہتا ہوں:
یہ جو جگنوں ہیں یا ستارے ہیں
ہم میں روشن ہیں یہ ہمارے ہیں
اللہ تعالیٰ خوب ترقیات سے نوازے آمین ۔
