از قلم مفتی عبیدالرحمن قاسمی ظہیرآبادی
استاذ حدیث جامعہ حنفیہ للبنات ظہیرآباد
اسلام ایک ہمہ گیر وآفاقی مذہب ہے اس کی تعلیمات شعبہ ہائے زندگی کو محیط ہے اور ہر اعتبار سے کامل اور مکمل دین ہے جس نے دنیائے انسانیت کوجہالت و ظلالت کی تاریکیوں سے نکالا اور ایسا صاف وشفاف دین مبین عطاء فرمایا جس میں بدعقیدگی وبد شگونی اور بدفالی کا کوئ تصور نہیں جس کے بتائے ہوئے طریقے کےمطابق زندگی گذارنے سے بندہ دونوں جہاں کی امن وسلامتی خیر وخوبی کو بآسانی حاصل کرسکتا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانی زندگی کو قیمتی بنانے اور عبادات کو وقت مقررہ پر انجام دینے کے لئےاوردینی و دنیاوی کاموں کو ایک نظامکے ساتھ چلانےکے لئے دنوں اور مہینوں کا نظام مقرفرمایا جنمیں سے ایک مہینہ صفر کا مہینہ ہے
ماہ صفر اور وجہ تسمیہ
ماہ صفر اسلامی سال کا دوسرا مہینہ کہلاتا ہے اور صفر عربی زبان کالفظ ہے اس مہینہ کا نامصفر رکھنے کی مختلف وجوہات ذکر کی گئ ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے کہ صفر کا ایک معنی خالی ہونے کے ہیں اس اسلسلے میں چوں کہ مشہور ہے کہ عرب کے لوگ زمانہ جاہلیت میں (یعنی اسلام سے پہلے)تین مہینے(ذی قعدہ ذی الحجہ محرم)مسلسل ان کی حرمت وعظمت کی وجہ سے جنگ وجدال سے باز رہتے تھے، اس لئے جیسے ہی ماہ صفر کا آغاز ہوتا تو فوراجنگ وجدال کے لئے اپنے گھروں سے نکل جاتے اور گھروں کو خالی چھوڑ دیتے تھے ، لہذا اسی مناسبت سے اس ماہ کو صفر(خالی ہونا) کہا جانے لگا
ماہ صفر کے متعلق لوگوں کے نظریات
ماہ سفر کے سلسلے میں عوام الناس کے غلط عقائد اور باطل نظریات زمانے جاہلیت یعنی اسلام سے پہلے سے ہی چلتے ہوئے آرہے ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی جہاں علم علماء اور دینی و شرعی رہبری کرنے والے خدام دین کی کوئی کمی نہیں مسلم معاشرے میں کچھ لوگ ایسے بھی موجود ہیں جو اس ماہ کی تئیں بدعقیدہ و بدشگونی کا شکار ہے خصوصا اس مہینے کو منحوس سمجھتے ہیں زمانہ جاہلیت کی طرح ایک خیال رکھتے ہیں کہ یہ مہینہ آسمانوں سے بلائیں اور آفتیں نازل ہونے والا مہینہ ہے اور اس مہینے میں کوئی خوشی کا کام شادی بیاہ تقریبات وغیرہ انجام دینے سے دور رہتے ہیں اور یہ نظریہ نسل در نسل آج تک چلا آرہا ہے حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت ہی صاف اور واضح الفاظ میں اس مہینے اور اس کے علاوہ قیامت تک پائے جانے والی توہمات اور باطل نظریات کی نفی اور تردید فرما دی ہے اور علی الاعلان یہ ارشاد فرمایا:
عن أبی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم لا عدوی ولا طیرۃ ولا ھامۃ ولا صفر (بخاری)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کے حکم کے بغیر ایک شخص کی بیماری دوسرے کو خود بخود لگ جانے کا عقیدہ غلط ہے اور ماہ صفر کے سلسلے میں نحو ست کا عقیدہ رکھنا یہ بھی غلط ہے اور ایک مخصوص پرندے کی بدشگونی کا عقیدہ یہ سب بے اصل ہیں ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اس حدیث پاک سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام میں اس قسم کے باطل خیالات و نظریات کی کوئی گنجائش نہیں ہے کوئی دن کوئی مہینہ اور کوئی سال منحوس نہیں ہے سب اللہ کے بنائے ہوئے ہیں غور کرنے کی بات ہے کہ اگر اس ماہ میں ہمارے گھر کوئی اولاد ہو جائے توکیا اسے منحوس سمجھیں گے اگر اس ماہ میں ہمارے والدین عزیز و اقارب فوت ہو جائیں تو کیا انہیں منحوس سمجھیں گے تو پھر ہم اس ماہ کو منحوس کیوں سمجھتے ہیں اصل حقیقت میں نحوست ہوگی تو وہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرنے میں ہوگی۔
ماہ صفر کے آخری چہار شنبہ کی حقیقت
ایسے ہی جہاں کچھ لوگ اس مہینے کی منحوسیت کے قائل ہیں وہیں کچھ لوگ من گھڑت احادیث کا سہارا لے کر چند مخصوص اعمال کے کرنےکو لازم سمجھتے ہیں اور اسے دین سمجھ کر انجام دیتے ہیں جیسا کہ صفر کے مہینے کے آخری چہار شنبہ کو خصوصیت کے ساتھ نفلی روزہ رکھا جاتا ہے اور شام کو کھانا کھلایا جاتا ہے اور کھلانے کو ثواب کا کام تصور کیا جاتا ہے اور اس دن خصوصی نماز کا اہتمام کیا جاتا ہے اور ان کاموں کی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ماہ صفر کے آخری چہارشنبہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض سے شفا ملی تھی اس لیے خوشی میں اعمال انجام دیے جا رہے ہیں حالانکہ مؤرخین نے لکھا ہے کہ سفر کے آخری ایام میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض میں زیادتی ہوئی اور اسی دن سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی امامت کی ذمہ داری حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دی اگر بالفرض مان بھی لیا جائے تو کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نے اس کا حکم دیا ہے کیا صحابہ نے یہ عمل کیا ہے کیا تابعین نے اس ہفتے کا اہتمام کیا ہے ہرگز نہیں تاریخ میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا بلکہ جو اس طرح دین کے نام پر نئی باتیں ایجاد کرتے ہیں ان پر لعنت بھیجی گئی
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةٌ لَعَنْتُهُمْ وَلَعَنَهُمُ اللَّهُ وَكُلُّ نَبِيٍّ يُجَابُ: الزَّائِدُ فِي كِتَابِ اللَّهِ
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاچھ انسان ایسے ہیں جن پر میں لعنت بھیجتا ہوں اور ان پر اللہ بھی لعنت بھیجتا ہے جب کہ ہر پیغمبر مستجاب الدعوات ہوتا ہے۔ (۱) اللہ کی کتاب میں زیادتی کرنے والا ( مشکوۃ)
ایسے ہی ایک اور حدیث میں
من عمل عملا لیس علیہ امرنا فھو رد.(صحیح مسلم) جس نے کوئ ایسا کام کیا جو ہمارے دین میں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے ۔
ماہنامہ صفر تو اسلامی غزوات کا مہینہ ہے
یہ مہینہ بھی دیگر مہینوں کی طرح خیر و بھلائی کا مہینہ ہے اور اس مہینے کو بابرکت سمجھنا چاہیے کیونکہ اسلام کا سب سے پہلا غزوہ جسے غزوہ ابواء اور غزوہ ودان کہا جاتا ہے اسی مہینے میں پیش آیا ہے یہاں یہ بات سمجھنا چاہیے کہ جہاد فی سبیل اللہ کا عملی آغاز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے سات ماہ بعد ہی ہو گیا تھا غزوہ اس جہاد کو کہتے ہیں جس میں مسلمانوں کے لشکر کی کمان خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنبھالی ہو ایسے ہی اس ماہ میں بئر مؤونہ کا واقعہ پیش آیا ہے ماہ سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری فوجی مہم ترتیب دی گئی جس کے سپہ سالار اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ مقرر کیے گئے اسی ماہ میں قبیلہ عضل اور وقارہ کے لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر مشرف با اسلام ہوئے ان واقعات کی وجہ سے اس ماہ کے تاریخی و اہمیت اور افادیت ہے البتہ شریعت اسلامیہ کی جانب سے کوئی خاص فضیلت اور کوئی خاص عمل ثابت نہیں ہے
ماہ صفر سے متعلق ایک منگھڑت حدیث
اس ماہ کی فضیلت کو ثابت کرنے کے لیے ایک حدیث کو پیش کیا جاتا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: مَنْ بَشَّرَنِیْ بِخُرُوْجِ صَفَرَ بَشَّرْتُہُ بِالجَنَّۃِجو شخص مجھے صفر کے مہینے کے ختم ہونے کی خوش خبری دیگا،میں اسے جنت کی خوشخبری دوں گا یہ ایک موضوع من گھڑک حدیث ہے جس کی کوئی اصل نہیں ملا علی قاری رحمہ اللہ نے الموضوعات الکبری میں اس کو نقل کیا ہے
صفر المظفر کا مطلب کامیابی والا مہینہ
خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن کریم کی کسی بھی آیت یا نبی اکرم ﷺ کے کسی بھی فرمان میں یہ نہیں آیا ہے کہ ماہ صفر میں نحوست ہے یا اس مہینہ میں مصیبتیں اور آفتیں نازل ہوتی جبکہ سیرت نبوی کے متعدد واقعات، بعض صحابیات کی شادیاں اور متعدد صحابیوں کا قبول اسلام بھی اسی ماہ میں ہوا ہے۔ اور عقل سے بھی سوچیں کہ مہینہ یا زمانہ یا وقت کیسے اور کیوں منحوس ہوسکتا ہے؟ بلکہ ماہ صفر میں تو نحوست کا شبہ بھی نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس کا نام صفر المظفر ہے جس کے معنی ہی ہیں ’’کامیابی کا مہینہ‘‘۔ جس مہینہ کے نام میں ہی خیر اور کامیابی کے معنی پوشیدہ ہوں وہ کیسے نحوست کا مہینہ ہوسکتاہے۔
