تحریر: مفتی عبدالصبور قاسمی ظہیرآباد
عالمی سطح پر تیزی سے پروان چڑھنے والا ایک نیا مذہبی تصور "ماڈرن دینِ ابراہیمی” (Modern Abrahamic Religion) بظاہر بین المذاہب ہم آہنگی اور عالمی امن کا داعی نظر آتا ہے، لیکن گہرائی میں یہ اسلام کی انفرادیت، ختم نبوت کے اٹوٹ عقیدے، اور امت مسلمہ کی نظریاتی اساس پر ایک منظم حملہ ہے
"ماڈرن دینِ ابراہیمی” کا بنیادی خیال یہ ہے کہ اسلام، یہودیت اور عیسائیت تینوں مذاہب حضرت ابراہیم علیہ السلام سے منسوب ہونے کی بنا پر ایک ہی "دینی وحدت” کا حصہ ہیں۔ اس تصور کو عملی شکل دینے کے لیے ابوظہبی (متحدہ عرب امارات) میں 2020 میں "ابراہیمی فیملی ہاؤس” قائم کیا گیا، جہاں ایک ہی کمپاؤنڈ میں مسجد، چرچ اور یہودی معبد موجود ہیں۔ اسے "روحانی اشتراک” کی علامت قرار دیا جاتا ہے، لیکن مفتی صاحب بجا طور پر اسے "عقیدہ کی تحلیل” کا مرکز گردانتے ہیں۔
یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اگرچہ تینوں مذاہب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایک مشترکہ نبی تسلیم کرتے ہیں، مگر ان کے عقائد، شریعت، اور نجات کے تصورات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یہ فرق سطحی مماثلتوں کے پیچھے چھپایا نہیں جا سکتا۔ اسلام یہودیت اور عیسائیت کے موجودہ स्वरूप کو ان کی اصل شکل میں تسلیم نہیں کرتا، بلکہ اسے تحریف شدہ مانتا ہے۔
اسلام کا دوٹوک مؤقف: دین واحد اور اس کی عالمگیریت
اسلام کا اس بابت مؤقف نہایت واضح اور غیر مبہم ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
"إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ” (آل عمران: 19)
ترجمہ: "بیشک اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔”
"وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ” (آل عمران: 85)
ترجمہ: "اور جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی اور دین چاہے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔”
یہ آیات اس بات کا قطعی فیصلہ کرتی ہیں کہ اسلام ہی واحد مقبول دین ہے اور اس کے علاوہ کوئی بھی مذہب یا طرز زندگی اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں۔ اسلام نہ صرف مکمل دین ہے بلکہ آخری اور عالمگیر دین بھی ہے۔ یہ صرف ایک مخصوص قوم یا زمانے کے لیے نہیں، بلکہ تمام انسانیت اور ہر زمانے کے لیے ہے۔
عقیدہ ختم نبوت پر حملہ: ایمان کی بنیاد کو کمزور کرنا
عقیدہ ختم نبوت اسلام کا ایک بنیادی ستون ہے، جس پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہو سکتا۔ یہ عقیدہ ہے کہ نبی اکرم محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں، اور آپ کے بعد کسی قسم کا کوئی نبی نہیں آئے گا۔ آپ کی نبوت عالمی اور دائمی ہے، اور آپ کا پیغام تمام انسانیت کے لیے ہے۔
"ماڈرن دینِ ابراہیمی” اس عقیدے کو کئی طریقوں سے کمزور کرتا ہے:
عالمگیر نبوت کی نفی: یہ نظریہ نبی اکرم ﷺ کو صرف مسلمانوں کا آخری نبی قرار دیتا ہے، جبکہ یہودی اور عیسائی اپنے انبیاء کی تعلیمات پر قائم رہ کر بھی نجات حاصل کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہ ختم نبوت کے عالمگیر مفہوم کی نفی ہے۔ قرآن مجید میں واضح ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے:
"تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا” (الفرقان: 1)
"بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان (قرآن) نازل کیا تاکہ وہ تمام جہانوں کے لیے ڈرانے والا ہو۔”
"قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا” (الاعراف: 158)
"کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔”
احادیث مبارکہ بھی اس پر صریح گواہی دیتی ہیں: "لَا نَبِيَّ بَعْدِي” (صحیح بخاری) اور "وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي” (سنن ترمذی)۔
ایمان کی بنیاد میں خلل: یہ نظریہ مسلمانوں کے دلوں میں اپنے دین کی حقانیت اور عالمگیریت کے بارے میں شبہ پیدا کر کے ختم نبوت کے عقیدے کو متزلزل کرتا ہے۔
نبوت کے تصور کی تحریف: "ماڈرن دینِ ابراہیمی” یہ کہہ کر نبوت کے تصور کو مبہم کرتا ہے کہ سب مذاہب سچے ہیں، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ تمام انبیاء کی تعلیمات (اپنی تحریف شدہ شکل میں بھی) برابر ہیں، اور کسی ایک کی اتباع لازمی نہیں۔ یہ نبی اکرم ﷺ کی شریعتِ کاملہ کی نفی ہے جو پچھلی تمام شریعتوں کو منسوخ کرتی ہے۔
سورہ کافرون اور دین کی تفریق کا قرآنی حکم
"ماڈرن دینِ ابراہیمی” کے دعوؤں کے بالکل برعکس، قرآن مجید نے مشرکین اور اہل کتاب سے عقائد کے معاملے میں واضح تفریق کا حکم دیا ہے۔ اس کی سب سے نمایاں مثال سورہ کافرون ہے، جس کا پس منظر اور مفہوم اس وقت کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
سورہ کافرون کا پس منظر:
مکی دور میں، جب نبی اکرم ﷺ نے توحید کی دعوت دی تو قریش کے سرداروں نے آپ ﷺ سے مختلف سمجھوتے کی پیشکشیں کیں۔ ایک موقع پر انہوں نے پیشکش کی کہ ایک سال وہ (مشرکین) آپ کے معبود کی عبادت کریں اور ایک سال آپ (محمد ﷺ) ان کے معبودوں کی عبادت کریں۔ اس پیشکش کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے سورہ کافرون نازل فرمائی۔
سورہ کافرون کا مفہوم:
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ وہ کافروں سے واضح طور پر کہہ دیں:
"قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ” (1) ترجمہ: "کہہ دیجیے اے کافرو!”
"لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ” (2) ترجمہ: "میں نہیں پوجتا جس کو تم پوجتے ہو۔”
"وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ” (3) ترجمہ: "اور نہ تم پوجتے ہو اس کو جس کو میں پوجتا ہوں۔”
"وَلَا أَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدتُّمْ” (4) ترجمہ: "اور نہ میں پوجوں گا جس کو تم پوجتے رہے ہو۔”
"وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ” (5) ترجمہ: "اور نہ تم پوجو گے جس کو میں پوجتا ہوں۔”
"لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ” (6) ترجمہ: "تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین ہے۔”
یہ سورت عقائد اور عبادات کے معاملے میں مکمل تفریق اور قطعیت کا درس دیتی ہے۔ یہ واضح کرتی ہے کہ دین حق (اسلام) اور باطل کے درمیان کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ "تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین” کا مطلب مذہبی رواداری ضرور ہے، لیکن یہ قطعی طور پر "وحدت ادیان” یا "بین المذاہب ہم آہنگی” کے اس فریب زدہ تصور کی نفی کرتی ہے جس میں عقائد کو خلط ملط کیا جائے۔ اسلام دوسروں کے عقائد کا احترام سکھاتا ہے، لیکن انہیں حق تسلیم کرنے یا ان کے ساتھ اپنے دین کو ملا کر ایک نیا "مخلوط دین” بنانے کی اجازت نہیں دیتا۔
مسئلہ فلسطین اور "ماڈرن دینِ ابراہیمی” کی چال
فلسطین کا مسئلہ صرف ایک علاقائی یا سیاسی تنازع نہیں ہے، بلکہ یہ اسلامی عقیدے اور تاریخی ورثے سے جڑا ہوا ہے۔ مسجد اقصیٰ، جو مسلمانوں کا پہلا قبلہ اور نبی اکرم ﷺ کے معراج کا مقام ہے، اسلامی تقدس کی علامت ہے۔
"ماڈرن دینِ ابراہیمی” اس مسئلے کو کئی طرح سے متاثر کرتا ہے:
مسجد اقصیٰ کی اسلامی مرکزیت کو ختم کرنا: اس نظریے کی آڑ میں ایک بڑا صہیونی منصوبہ یہ ہے کہ بیت المقدس (یروشلم) کو ایک "عالمی روحانی مرکز” بنا دیا جائے، جہاں یہودی، عیسائی اور مسلمان ایک ساتھ عبادت کر سکیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مسجد اقصیٰ کی اسلامی مرکزیت اور اس کی منفرد حرمت کو ختم کر کے اسے دیگر ادیان کے عبادت خانوں کے برابر کر دیا جائے۔
فلسطینی مزاحمت کو "مذہبی انتہاپسندی” قرار دینا: "ماڈرن دینِ ابراہیمی” کے پیروکار فلسطینیوں کی جدوجہد کو، جو اپنی سرزمین اور مقدس مقامات کے دفاع کے لیے ہے، "مذہبی انتہاپسندی” کا نام دیتے ہیں۔ اس سے یہودی آباد کاریوں کو قانونی جواز فراہم کیا جاتا ہے۔
صہیونی دعوؤں کو مذہبی جواز فراہم کرنا: یہودیوں کا یہ دعویٰ کہ فلسطین ان کی "ارضِ موعود” (The Promised Land) ہے، جو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے وعدہ کیا تھا، اس "ماڈرن دینِ ابراہیمی” کے ذریعے مزید تقویت حاصل کرتا ہے۔
اسلامی نظریات سے بنیادی انحراف کے دیگر پہلو
توحید اور دینِ واحد کی خلاف ورزی: اسلام کا بنیادی اور مرکزی عقیدہ توحید ہے۔ "ماڈرن دینِ ابراہیمی” یہ تاثر دیتا ہے کہ موجودہ یہودیت اور عیسائیت بھی (تحریف شدہ شکل میں ہونے کے باوجود) اللہ کے ہاں مقبول ہو سکتی ہیں۔ یہ عقیدہ براہ راست قرآنی احکامات کی نفی اور توحید خالص کے تصور کو مجروح کرتا ہے۔
شریعت کی بالا دستی کی نفی: اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں تمام پہلوؤں کے لیے شریعت کی شکل میں رہنمائی موجود ہے۔ "ماڈرن دینِ ابراہیمی” اس بات پر زور دیتا ہے کہ مذہبی قوانین "ذاتی انتخاب” ہیں اور حلال و حرام کا کوئی عالمی معیار نہیں۔
مسلمانوں کے بنیادی عقائد پر گہرے اثرات اور تاریخ کی عبرت
اس نظریے کے مسلمانوں کے عقائد پر درج ذیل گہرے اور تباہ کن اثرات ہو سکتے ہیں:
ایمان میں کمزوری اور تشکیک: یہ تصور کہ تمام مذاہب برابر ہیں، مسلمانوں کے ایمان میں شک پیدا کرے گا۔
امت مسلمہ کی شناخت کا خاتمہ: یہ امت کو ایک "بین المذاہب امت” میں تحلیل کرنے کی کوشش ہے جہاں عقائد کی سرحدیں مٹا دی جائیں گی۔
دینی غیرت اور حمیت کا فقدان: اس سے مسلمانوں میں اپنے دین کی حفاظت اور اشاعت کی دینی غیرت کم ہو جائے گی۔
الحاد اور لادینیت کی راہ ہموار ہونا: "نظریاتی اضافیت” (Relativism) کا فلسفہ کہ تمام سچائیاں برابر ہیں، بالآخر الحاد اور لادینیت کی طرف لے جاتا ہے۔
دعوتِ دین کے فریضے کا تعطل: یہ فریضہ، جو امت مسلمہ کی بنیادی ذمہ داری ہے، مفلوج ہو جائے گا۔
مفتی صاحب کا یہ استدلال کہ "ماڈرن دینِ ابراہیمی” کی جڑیں ماضی کے ایک ناکام تجربے، اکبر بادشاہ کے "دینِ الٰہی” میں پیوست ہیں، انتہائی وزنی ہے۔ حضرت مجدد الف ثانیؒ نے اس فتنے کا علمی اور عملی رد کر کے اسلامی عقائد کو محفوظ رکھا۔ آج کا "دینِ ابراہیمی” اسی فکری انحراف کا عالمی، جدید اور سفارتی ایڈیشن ہے۔
کون ہیں پیچھے؟ عالمی سازشی نیٹ ورک اور فکری خطرات
اس نظریے کی پشت پر طاقتور عالمی ادارے اور قوتیں ہیں جن میں UNESCO، Vatican، WCC (World Council of Churches) اور عالمی میڈیا شامل ہیں۔ یہ ادارے اور ذرائع ابلاغ ایک خاص عالمی نقطہ نظر کو فروغ دے رہے ہیں جو مذہبی حدود کو دھندلا دیتا ہے اور اسلام کو شدت پسندی سے جوڑتا ہے۔
"ماڈرن دینِ ابراہیمی” کے تصور سے جنم لینے والے تعلیمی ادارے اور بین الاقوامی نصاب نوجوانوں کے ذہنوں میں "Relativism”، "Deism” اور الحاد کو فروغ دے رہے ہیں۔ یہ خیالات اسلامی عقیدے کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں، کیونکہ اسلام میں حق و باطل، حلال و حرام کے واضح پیمانے موجود ہیں۔
مسلمانوں کی غفلت اور نرمی: ایک خطرناک سستی اور علماء و صحافت کا فرض
مفتی صاحب بعض اسلامی حکومتوں کی اس فتنے میں شمولیت پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں، جو اسے "تہذیبی پل” سمجھ کر قبول کر رہی ہیں۔ یہ محض "تہذیبی پل” نہیں بلکہ دینی خودکشی اور سیاسی غلامی ہے۔
اس سنگین صورتحال میں علماء کرام، مدارس، اور صحافت پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے:
علماء کرام: جمعہ کے خطبات اور دروس میں اس فتنے کی حقیقت کو واضح کریں اور اس کے مضمرات سے عوام کو آگاہ کریں۔
مدارسِ دینیہ: اپنے نصاب میں "وحدتِ ادیان” کے خطرے پر مستقل کورس شامل کریں اور فرقِ باطلہ پر تحقیق کو فروغ دیں۔
صحافت اور میڈیا: اخبارات، رسائل، اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اس فتنہ کا علمی رد شائع کریں اور نوجوان نسل میں شعور بیدار کریں۔
حتمی نتیجہ: اسلام کو نظام سے "مذہب” تک محدود کرنا
یہ فکری فتنے درج ذیل اہم اہداف حاصل کرنا چاہتے ہیں:
اسلام کو صرف "مذہب” بنا کر پیش کرنا، "نظام” نہیں۔
شریعت کو "اختیاری اخلاقی رہنمائی” کہنا، قانون نہیں۔
امت کو "بین المذاہب امت” میں تحلیل کرنا۔
یہ تمام کوششیں ایک فکری زہر ہیں جس کی مہذب بوتل پر "امن” کا لیبل لگا ہے۔ مسلمانوں کو اس کی حقیقت کو سمجھنا اور اس کا علمی، فکری، اور عملی مقابلہ کرنا ہوگا۔
اے اللہ! ہمیں اس خوشنما فتنہ سے محفوظ فرما۔ ہمارے عقائد، نسلوں اور مسجد اقصیٰ کی حفاظت فرما۔ ختم نبوت کے پرچم کو ہمیشہ بلند رکھ، اور ہمیں ایمان پر موت نصیب فرما، آمین۔
