بنگلورو: 2؍اگست(محمدیوسف رحیم بیدری): 11؍ اگست سے منعقد ہونے والے مانسون اجلاس میں نفرت انگیز تقاریر کنٹرول بل کو منظور کیا جانا چاہئے اور اسے جلد از جلد لاگو کیا جانا چاہئے، ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کرناٹک کے ریاستی صدر ایڈوکیٹ طاہر حسین نے مطالبہ کیا۔ایک پریس نوٹ جاری کرکے انھوں نے آگے کہا کہ بل میں موجود دفعات سے نفرت کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے میں مدد مل سکتی ہے، لیکن اسے محض سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور اسے سیاسی خرابی کے لیے استعمال کیے بغیر معاشرے میں پھیلی نفرت کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے شکایت کی کہ منگلورو میں حالیہ سلسلہ وار قتل کے بعدریاست میں کچھ ڈیجیٹل میڈیا مسلسل جعلی خبریں پھیلانے اور ایک مخصوص کمیونٹی کے خلاف نفرت پھیلانے میں ملوث ہیں۔حال ہی میں، ریاستی اپوزیشن لیڈر آر اشوک کی طرف سے دھرمستھلا معاملے میں ایک کمیونٹی کو نشانہ بناتے ہوئے نفرت انگیز تقریر نے سماج میں کافی الجھن پیدا کر دی تھی۔ آر اشوک، جو ایس آئی ٹی کی تحقیقات کے دوران ایک ذمہ دار عہدے پر ہیں، اس طرح کے نچلے درجے کا بیان دینا ان کے عہدے کی شایان شان نہیں۔ اتنے بڑے عہدے پر فائز کوئی اس طرح نفرت پھیلاتا ہے تو اس کی پیروی کرنے والے کس حد تک جا سکتے ہیں؟ اس لیے اگر اس بل کو جلد از جلد لاگو کر دیا جائے تو یہ معاشرے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سود مند ثابت ہو گا۔اسی طرح جناب طاہر حسین نے مطالبہ کیا ہے کہ گاؤ ذبیحہ امتناع ایکٹ اور 2B ریزرویشن کو آئندہ مانسون اجلاس میں دوبارہ نافذ کیا جائے اور ریاست کی کانگریس حکومت کو یہ کرنا چاہئے جیسا کہ پارٹی نے کرنے کاوعدہ کیاتھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے