طاقت کے کھیل میں نظرانداز ہونے والے کردار
از: عبدالحلیم منصور
ہندوستان کی سیاست میں مسلمانوں کی موجودگی ہمیشہ سے اہم رہی ہے۔ ہر انتخاب میں ان کے ووٹ کا وزن بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، منشور میں ان کے لیے وعدے کیے جاتے ہیں، اور انتخابی جلسوں میں ان کے مسائل پر لمبی تقریریں ہوتی ہیں۔ لیکن اقتدار حاصل ہونے کے بعد یہی طبقات اکثر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں، گویا ان کا کام صرف ووٹ ڈال کر خاموش ہو جانا ہے۔کرناٹک کی حالیہ سیاست اس رویے کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔ ریاست میں ایک طرف ایسے حساس واقعات رونما ہوتے ہیں جن میں مسلم برادری انصاف کی توقع کے ساتھ حکومتی دروازے کھٹکھٹاتی ہے، لیکن جواب میں یا تو خاموشی ملتی ہے یا محض رسمی بیان بازی۔ دوسری طرف، جب کسی بااثر طبقے کے خلاف کوئی بات ہوتی ہے تو فوری کارروائی، نوٹس اور سیاسی دباؤ نظر آتا ہے۔ یہ تضاد بتاتا ہے کہ طاقتور کے لیے اصول الگ اور کمزور کے لیے الگ ہیں۔کانگریس، جو خود کو سیکولر اقدار کی علمبردار کہتی ہے، ماضی سے لے کر آج تک مسلمانوں اور دیگر کمزور طبقات کو اپنے سیاسی ایجنڈے کا لازمی حصہ تو بناتی رہی ہے، لیکن عملی اقدامات میں ان کے لیے وہ حساسیت کبھی نہیں دکھائی جو ان کے ووٹ کے وقت دکھائی جاتی ہے۔ یہ طرزِ عمل محض ایک جماعت تک محدود نہیں، مگر کانگریس کا معاملہ اس لیے زیادہ نمایاں ہے کہ برسوں سے یہ پارٹی خود کو ان طبقات کی واحد "فطری نمائندہ” کے طور پر پیش کرتی رہی ہے۔
کرناٹک کی سیاست میں حالیہ دنوں کے واقعات نے ایک بار پھر اس سوال کو زندہ کر دیا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ اصل میں سیاسی جماعتیں، خاص طور پر کانگریس، کس قدر مخلص ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران برابری، انصاف اور سیکولرزم کے دعوے تو خوب سننے کو ملتے ہیں، مگر جب عملی امتحان کا وقت آتا ہے، تو رویہ بدل جاتا ہے۔ ریاست کے ساحلی علاقے میں دو مسلم نوجوانوں کے قتل نے مقامی سطح پر ہلچل مچا دی۔ انصاف کی امید میں آواز اٹھانے والوں میں کانگریس کے اپنے ضلع اقلیتی سیل کے صدر شاہ الحمید سمیت دیگر اقلیتی لیڈران اور کارکنان بھی شامل تھے۔ لیکن یہ آواز پارٹی کے لیے ناپسندیدہ ثابت ہوئی۔ مقتولین کے خاندان کو انصاف دلانے کے بجائے، پارٹی نے اپنے رہنما کو ہی نوٹس تھما دیا، گویا سوال اٹھانا ہی جرم ہو۔یہ قدم اس وقت مزید معنی خیز ہو جاتا ہے جب ہم دوسری طرف دیکھتے ہیں۔ سری رنگا پٹنہ کے ایک کانگریس رکنِ اسمبلی نے سرعام اعلان کیا کہ اگر کسی افسر نے مخصوص فرقے (مسلمانوں) کو زمین الاٹ کی تو اسے پھانسی پر لٹکا دیا جائے گا۔ یہ بیان نہ صرف غیر آئینی تھا بلکہ دھمکی آمیز بھی، مگر حیرت انگیز طور پر اس پر پارٹی نے مکمل خاموشی اختیار کی۔ کوئی نوٹس، کوئی تنبیہ، کوئی کارروائی — کچھ بھی نہیں۔
اسی دوران، کانگریس کے ایک لیڈر جیوی سیتا رام نے ایک بااثر طبقے کے خلاف نازیبا جملہ کہا۔ انہوں نے معافی بھی مانگی، لیکن پارٹی نے فوراً انہیں عہدے سے ہٹا دیا۔ یعنی جہاں بااثر طبقے کا تعلق ہو، وہاں فوری ایکشن؛ اور جہاں کمزور یا اقلیتی طبقے کا تعلق ہو، وہاں یا تو خاموشی یا الٹا دباؤ۔
یہ تضاد محض تین مختلف واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک پرانی روش کی عکاسی کرتا ہے۔ کانگریس کی تاریخ میں مسلمانوں، دلتوں اور دیگر کمزور طبقات کو ہمیشہ ایک "پکے ووٹ بینک” کے طور پر دیکھا گیا۔ وعدے، منشور، اور انتخابی جلسوں میں جذباتی تقریریں — مگر جب عملی اقدامات کا وقت آئے تو رویہ بدل جاتا ہے۔ ان کے ووٹ کا حق تو ہے، مگر ان کے حقوق کی لڑائی لڑنا؟ نہیں، وہ سیاسی خطرہ ہے جس سے بچنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔سوال یہ ہے کہ آخر یہ دوہرا معیار کب تک جاری رہے گا؟ کیا مسلمانوں کی سیاسی حیثیت صرف ووٹ ڈالنے تک محدود رہنی چاہیے؟ کیا انہیں اپنے نمائندوں سے یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ ان کے ساتھ ہونے والے مظالم پر آواز بلند کیوں نہیں کی جاتی؟ اور جب ان کے اپنے رہنما انصاف کا مطالبہ کریں تو انہیں سزا کیوں ملتی ہے؟
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرزِ عمل کے پیچھے ایک صاف حکمت عملی ہے — طاقتور طبقے کو ناراض نہ کرنا، اور کمزور طبقے کو صرف وعدوں سے خوش رکھنا۔ لیکن اس حکمت عملی کا اصل نقصان انہی طبقات کو ہو رہا ہے جو اندھی وفاداری میں بار بار انہی جماعتوں کو ووٹ دیتے ہیں۔اب وقت آ گیا ہے کہ مسلمان اور دیگر پسے ہوئے طبقات اپنی سیاسی حکمت عملی پر نظرثانی کریں۔ صرف جلسوں میں شرکت اور انتخابی نعرے لگانے سے کچھ نہیں بدلے گا۔ جب تک یہ طبقات اپنے ووٹ کی قیمت پہچان کر سیاسی جواب دہی کا مطالبہ نہیں کریں گے، تب تک وہ اسی "استعمال کے بعد نظرانداز” والی فہرست میں شامل رہیں گے۔
یہ مضمون محض ایک جماعت کی خامیوں کی نشاندہی نہیں کرتا، بلکہ ایک وسیع سیاسی حقیقت کو اجاگر کرتا ہے — کہ ہندوستانی سیاست میں ووٹ بینک کا کھیل کب ختم ہوگا؟ اور کیا مسلمان کبھی محض ووٹ کی گنتی سے آگے بڑھ کر حقیقی اقتدار میں شراکت دار بن سکیں گے؟اگر آج یہ سوال نہ اٹھایا گیا، تو کل پھر یہی ہوگا — ایک جلسہ، کچھ وعدے، ایک ووٹ، اور پھر پانچ سال کی طویل خاموشی۔ مسلمانوں کو طے کرنا ہوگا کہ وہ تاریخ کے اس چکر کو توڑیں گے، یا پھر ہمیشہ کے لیے سیاست کے "استعمال شدہ اور چھوڑ دیے جانے والے” کی فہرست میں شامل رہیں گے۔
