محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک
۱۔ لاکھوں میں ایک
’’وہیل مچھلی کاشکارکرنے کی دیوانگی رکھنے والا شکاری کیچوے سے کام نہیں لے سکتا‘‘ ہمارے شبو بھائی کامشہور ڈائیلاگ تھا۔ وہی ڈائیلاگ ہم نے سوشیل میڈیا کی ایک بہت زیاد ہ وائرل ویڈیو کلپ کے نیچے لکھ مارا۔
کسی نے اس ڈائیلاگ کو لائیک کرتے ہوئے خودبھی لکھا’’انھیں ویورس اورلائک بڑھانے سے غرض ہے بھائی۔ یہ تو کتوں کے شکاری بھی نہیں ہیں، وہیل مچھلی کے شکاری تولاکھوںکروڑوں میں ایک ہوتے ہیں‘‘
۲۔ دعائے خوش قسمتی
’’یہ سب ہوکیارہاہے ؟ ، منااکھیلی کاہمار ادوست سیدعلی کے منہ کاآدمی ہے اور باتوں میں کوئی ایسی کوئی خاص بات بھی نہیں کہہ رہاہے لیکن ایک دنیا ہے کہ اس کے ساتھ ہے ‘‘ مجھ سے پوچھاگیاتو میں کچھ دیرتک سوچتا ہی رہ گیاکہ آخر کیاجواب دوں ؟
مجھ پر دباؤ ڈالتے ہوئے کہاگیا’’یار، اس میںسوچنے والی کیابات ہے ؟‘‘
تب میں نے کہا’’منہ اورخاص بات نہ دیکھ بھائی، قسمت دیکھ قسمت ، اچھی قسمتیں جنت کاحق دار بنادیتی ہیں۔ اسلئے اللہ سے قسمت مانگ لیاکریں،اس کے بڑوں نے بھی صرف لڑکا نہیں ، اچھی قسمت کالڑکا مانگا ہوگا‘‘
۳۔ بڑھا پا
ایک ہنگامہ کھڑا ہوگیاتھاکہ ووٹ چوری ہورہے ہیں۔ہم نے بھی چینلس دیکھے اور اخبارات پڑھے ، ہاں ووٹ چوری ہورہے ہیں۔ کوئی دوووٹ والا ڈپٹی سی ایم ہے تو کسی فیملی کے پاس42ووٹ ہیں۔ بیچارے کی بیوی نے ایک سال میں تین تین بچے پیداکئے ہیں۔
یہ سب سن پڑھ کر میرالڑکا پریشان ہواٹھا۔ اس نے مجھ سے پوچھا یہ سب کیاہے پاپا ؟میں نے کہا’’میں کیاکہہ سکتاہوں بیٹے ، بڑی مشکل سے تم پید اہوئے وہ بھی چھ سال بعد، ایک عورت اگر سال میں تین تین بچے لگاتار پید اکرتی جاتی ہے تو اس کوتو گینس بک آف ورلڈ ریکارڈ میں جگہ ملنی چاہیے اور اس کی تصویر اور ویڈیو عام ہونی چاہیے، الیکشن کمیشن کو یہ کام کرلینا چاہیے تھاپہلے ہی‘‘
میرے لڑکے نے میرے سامنے سگریٹ سلگائی اور ایک کش لے کردھواں چھوڑتے ہوئے پوچھا’’یہ ملک آخر کدھر جارہاہے پاپا ؟‘‘
میں نے کہا’’بیٹے ،تم سنسکاری بچے ہو، ملک کے لئے پریشان رہتے ہو۔ تمہارے سگریٹ کاچھوڑا ہوادھواں دیکھ رہے ہونا؟ یہ ملک اس دھویں کی طر ف جارہاہے ‘‘
وہ سمجھایانہیں پتہ نہیں لیکن میں سمجھ چکاہوں کہ اولادیں کیاگل کھلاسکتی ہیں؟میں سوچ رہاہوں ووٹوں کی طرح ملک کی آبادی بھی چوری ہورہی ہوگی ۔اس طرح تو، ہم ایک سو40کروڑ کے بجائے شاید ایک سو10 کروڑہی نکل سکتے ہیں ۔چین پھر ہم سے آگے نکل جائے گالیکن میرابڑھاپا کیسے گزرے گا؟میرالڑکا میرے سامنے سگریٹ پینے لگاہے ۔ سمجھے کہ نہیں ؟
۴۔ نئی تاریخ
وہ منتظر ہے۔ اپنی شہرت کا ۔ پھر یہ ہواکہ اس کے سامنے پیدا ہوچکے نسائی چہرے دیکھتے ہی دیکھتے ادب کے منظرنامے پر چھاگئے۔ اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے منظر عام سے غائب کردیاگیا۔
ایک خوا ب تھاکہ طلبہ اس کے افکار پڑھ کر اپنی زندگی میں تبدیلی لائیں گے ، لیکن موقع نہیں دیاگیا۔ مرنے سے پہلے اس نے تاریخی جملے کہے ۔ اس نے کہاکہ ’’دشمن تاریخ کو بدلنے سے زیادہ نئی تاریخ پر پرد ہ ڈال کر نئے چہروں کو لے آیا۔ ہائے اب کون میرے افکار پڑھے گا، کون اپنی زندگیوں میں تبدیلی لائے گا؟‘‘
۵۔بے استادی
دیوار پر لکھاتھا’’حاسدین کے حسد اور کمینوں کی کمینگی کے دوران آگے بڑھنا ہوتاہے۔ اگر تم یہ نہ کرسکے تو پھر پیچھے رہ جاؤگے ‘‘
پھر وہ پیچھے رہ گیا۔ چالیس کی عمر کے بعد اس نے ایک داؤ چل کر پردہ کے پیچھے سے نئی نسل تیار کرنی شروع کردی۔ آج پانسات ریاستوں میں اس کے شاگر دہیں اور انہیں تاکید ہے کہ کوئی استاد کی حیثیت سے اس کانام نہیں لے گا۔ ہر طرف نئے نوجوانوں کی جے جے کار ہے ۔
