مفتی ہمایوں اقبال ندوی

نائب صدر، جمعیت علماء ارریہ

وطن عزیز کا یہ عجیب و غریب منظر ہے، ایک کنبہ نے اجتماعی خودکشی کرلی ہے، پانچ لوگوں کی لاشیں پڑی ہیں، غربت اور بھوک کی وجہ سے یہ قدم انہوں نے اٹھایا ہے یا اور کوئی وجہ ہے، اس کی خبر نہیں ہے اور نہ اس میں کوئی دلچسپی ہے، مگر ہاں! مدرسہ بند کرانے کی پڑی ہے، یہ ایک ہی جگہ کا ایک ہی شہر کا معاملہ ہے، ابھی گزشتہ جمعرات کو حیدرآباد میں یہ دیکھنے کو ملا کہ ایک ہندو پریوار نے ایک ساتھ خودکشی کرلی، اور سماج کے لوگ نکل گئے مدرسہ بند کرانے، انسانی جان کی حفاظت سےبڑھ کر کوئی اہم کام ایک انسان کے لیے نہیں ہوسکتا ہے، غربت اور قرض کی وجہ سے انسانی جان چلی جائے، یہ افسوسناک امر ہے، مگر اس طرف دھیان نہیں ہے، بلکہ اسی دن اسی شہر حیدرآباد میں بی جے پی لیڈر کی قیادت میں لوگ ایک مدرسہ بند کرانے نکلتے ہیں، سراپا احتجاج بن جاتے ہیں، تالیاں بجاتے ہیں اور تماشہ کرتے ہیں، نیز بغیر کسی دلیل اور وجہ کے یہ کہتے ہیں کہ مقامی ہندوں کو مدرسہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

گویا موجودہ وقت میں غربت کا خاتمہ، ملکی ترقی کے لیے دیگر امور اہم نہیں ہیں جتنا اہم اور ضروری مدرسہ بند کرانا ہے، فی الوقت مدرسہ بندی کا مرکز اتراکھنڈ بنا ہوا ہے اور اس کی نقل پورے ملک میں کی جانے لگی ہے۔

 یہی وہ پہلی ریاست ہے جہاں یکساں سول کوڈ بھی نافذ ہے، ہر سال اس ریاست کو مختلف حادثات و قدرتی آفات کا سامنا رہتا ہے، ابھی کچھ دنوں پہلے بادل پھٹنے سے یہاں بھاری تباہی ہوئی ہے، جانی و مالی کافی نقصان ہوا ہے، دھرالی گاؤں میں بیشمار گھر، مکانات و دکانات تباہ و برباد ہوئے ہیں، فوری ضرورت ان کی ازسر نو تعمیر و اصلاح و مرمتی ہے مگر حکومت مدرسہ کے خلاف تازہ بل لیکر آگئی ہے، اسمبلی میں اسے پیش کر چکی ہے، اس کا مقصد وہاں چل رہے تمام مدارس اسلامیہ کو بند کرنا ہے۔

۲۱۴/ سے زائد مدارس پہلے ہی سے بند ہیں، انہیں حکومت نے یہ کہ کر سیل کردیا یے کہ یہ رجسٹرڈ نہیں ہیں، اب مذکورہ بل کے ذریعے مدارس کے نصاب کو بدلنے کی تیاری ہے، بل میں یہ کھل کر کہا گیا ہے کہ مذہبی تعلیم شامل نصاب نہیں ہوگی، گویا اس بل کے ذریعہ درپردہ مدارس کے وجود کا صفایا مقصود ہے، وطن عزیز ایک جمہوری ملک ہے، آرٹیکل ۳۰/کے تحت مذہبی تعلیم یہ آئینی حق ہے، اسی لیے ملک کی ریاستی حکومتیں بھی مدارس کو گرانٹ دیتی ہیں، بہار مدرسہ بورڈ، الہ آباد مدرسہ بورڈ، بنگال مدرسہ بورڈ کا قیام اسی لیے عمل میں آیا ہے، اس کو چھین لینا گویا ملک کی جمہوریت کو نشانہ بنانا ہے، یہ ایک خطرناک عمل ہے، بروقت بیداری کا ثبوت پیش نہیں کیا گیا تو جمہوریت کی پٹری سے ملک کے نیچے اترنے کا اندیشہ ہے۔

اس وقت مدارس اسلامیہ کی افادیت کو بھی تحریر و تقریر کے ذریعے ملک کے انصاف پسند لوگوں کے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے، بلکہ برملا یہ کہنا ضروری ہے کہ جب سے مدارس کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا گیا ہے جبھی سے ملک کی حالت ابتر ہورہی ہے، اور انسانیت کے معنویت ختم ہوتی جارہی ہے، اخلاق و اقدار کا جنازہ اٹھ رہا ہے۔

 مذہب اسلام میں اخلاقی تعلیم کی بڑی اہمیت ہے، اچھا سماج اور بہترین معاشرہ کیسے وجود میں آجائے اس کے لیے ہی مدارس قائم کئے گئے ہیں، ہر فرد کو اس کی ذمہ داری بتلائی جاتی ہے،ایک بچہ ہے تو اسے اپنے والدین کا فرمانبردار بنایا جاتا ہے، اسے یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ جس طرح تمہارے والدین نے بچپن میں تمہاری پرورش کی ہے، تمہارا دیکھ بھال کیا ہے، تمہیں بھی یہ فرض ادا کرنا ہے، یہی قرآن میں لکھا ہے اور مذہب اسلام کہتا ہے، ایک شوہر سے اس کی ذمہ داریاں بتلائی جاتی ہیں، اپنی بیوی کی عزت و عصمت کی حفاظت کا درس دیا جاتا ہے، اس کے جذبات کے خیال کرنے کی تعلیم دی جاتی ہے، اس سے گھر میں بہترین ماحول پیدا ہوجاتا ہے، پھر گھر سے باہر کی فضا کو سازگار بنانے کے لیے پڑوسیوں اور مقامی لوگوں کے حقوق کی تعلیم مدرسہ میں دی جاتی ہے، اس میں مسلم وغیر مسلم کی کوئی تفریق نہیں کی جاتی ہے، اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کو ایمان کے لیے لازمی شرط قرار دیا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر یہ فرمایا ہے کہ: وہ صاحب ایمان اور مسلم کہلانے کا حق نہیں رکھتا ہے جس کے پڑوس میں رہنے والوں کو ان کی ذات سے تکلیف پہونچتی ہو،یہ بات حدیث شریف میں لکھی ہوئی ہے، تو یہ الزام سراسر جھوٹ پر مبنی ہے کہ اہل مدارس سے مقامی لوگوں کو تکلیف پہونچ رہی ہے۔

مدارس کو کھل کر کام کرنے کا اگر موقع دیا جائے تو ملک میں کوئی بھوکا نہیں رہ سکتا ہے، اور بھوک وغربت کی وجہ سے کوئی خودکشی کا واقعہ نہیں پیش آسکتا ہے، اس کی گارنٹی دی جاسکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے