عبدالرحیم مونس فیضی

_____________

جماعتی حلقوں میں یہ جاں کاہ اور اندوہ ناک خبر بڑے رنج و غم کے ساتھ سنی اور پڑھی گئی کہ میرے والد گرامی الحاج جناب عبدالرؤف خاں بتاریخ :21/8/25 بروز جمعرات بہ وقت 5/بجے صبح بقضائے الہی اس دارفانی سے عالم جاودانی کو روانہ ہوگئے۔

إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، تغمده الله بواسع رحمته ورضوانه

ہر انسان موت کے آئینے میں اپنے دل کی آپ بیتی کا مرقع دیکھ لیتا ہے، اگر اس نے اپنی زندگی میں برائی کے ساتھ عہد مودت استوار رکھا ہے تو موت یہی تحائف اس کے سامنے لاکر رکھ دیتی ہے اور اگر اس نے اپنی زندگی میں خوفِ خدا، ذکر الٰہی، تلاوت قرآن، نمازِ تہجد کو شمعِ حیات بنایا ہے تو موت انہیں انوار کا گلدستہ ان کی نذر کر دیتی ہے والد محترم کا تعلق دوسرے قبیلے سے ہے۔ الحمدللہ

میرے والد محترم حاجی عبدالرؤف خاں کی پیدائش سدھارتھ نگر کے مسلم سرسبز و شاداب علاقہ کونڈرا گرانٹ، کرمہوا میں ایک دیندار، موحد گھرانے میں ہوئی اور آپ کی موت کا غم بھی یہیں محسوس کیا گیا۔

قارئین کرام! ہم نے کئی لوگوں پر مضامین و نظمیں لکھیں اور کہیں مگر آج میرے باپ کی روح جیسے مجھ سے کہہ رہی ہو بیٹا! تو اوروں پر تو بہت لکھا ہے آج کچھ اپنے باپ پر بھی لکھ دے، میں نے کہا پوری کتاب "نوادرات” آپ کے نام منسوب ہے۔ ان شاء اللہ جب تک یہ کتاب پڑھی جائے گی آپ کو ثواب ملتا رہے گا۔ پھر کانپتے ہوئے ہاتھ سے قلم اٹھایا، الفاظ ذہن و دماغ میں خیمہ زن ہونے لگے، باپ کی دل کش تصویر نظروں کے سامنے گھومنے لگی، آنکھوں سے آنسوں کاغذ پر ٹپک گئے، ذہن پریشان حال ہے ایسے میں باپ کی جدائی کا درد چھیڑوں یا آپ کے اخلاقِ حسنہ پر لکھوں، آپ کی علماء نوازی کا تذکرہ کروں کہ معصوم بچوں کے ساتھ شفقت و محبت کی حسین داستان بیان کروں، بالآخر روتے روتے داستان غم لکھنا شروع کیا۔

آہ! جس مقدس باپ نے علم و فن عطا کیا، جس ہستی محترم نے ہماری آنکھوں میں امیدوں کے چراغ روشن کئے آج وہ ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگیا۔ میں بر وقت نوگڑھ میں رہائش پذیر ہوں، والد صاحب میرے پاس آتے جاتے رہتے تھے، یہاں ان کی اچھی طرح دوا علاج بھی ہو جاتا تھا، مگر جب آبائی گھر اور خاندان کے افراد کی یاد ان کو ستاتی تو آپ کی فرمائش پر آبائی گھر گاڑی سے پہونچا دیتا، میں اکثر و بیشتر اتوار کو ان سے ملنے خیریت جاننے آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاتا تھا، میں جب جب گھر گیا ہوں جیسے ہی مجھے باہر دیکھتے چارپائی پر اٹھ کر بیٹھ جاتے۔

  سلام کرتا، پھر آپ کے قدموں کے پاس بیٹھ کر دیر تک گفتگو کرتا، پوچھتا طبیعت کیسی ہے؟ کہتے اللہ کا شکر ہے مگر کبھی کبھی مرجھائے ہوئے من سے کہتے ٹھیک ہے، میں آپ کو دلاسہ دیتا اور کہتا آپ نے تلاوت قرآن، نماز، روزہ اور تہجد میں زندگی گزاری ہے، اگر آپ نے اسے بگاڑا ہوتا جسے سنوارا ہے اور اگر اسے سنوارا ہوتا جسے بگاڑا ہے تب یقینا افسوس ہوتا مگر آپ تو کامیاب و کامران ہیں، بڑے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ آپ نے زندگی کا اکثر حصہ رب کی عبادت اور قرآن کی تلاوت میں گزارا ہے، ایک مرتبہ آپ رو رہے تھے اتفاق سے میں بھی گھر پر تھا گھر کے افراد جمع ہو گئے ہم سب سمجھے کوئی تکلیف ہے، میں نے دریافت کیا بات کیا ہے؟ کیوں اس قدر رو رہے ہیں؟ پہلے تو خاموش رہے مگر میرے اسرار پیہم پر آپ کہنے لگے آج ہماری نماز قضا ہو گئی ہم سو گئے، اللہ اللہ کتنے پیارے تھے آپ؟

آپ کی شبانہ روز کوششوں سے گاؤں کے مکتب مدرسہ مفتاح العلوم کی سنگ بنیاد بتاریخ ٢٦ مارچ بروز دو شنبہ ٢٠٠١ء بوقت ٩ بجے دن آپ ہی کے بدست رکھی گئی۔

آپ نے ایک ایک اینٹ رکھا، جس گلشن کو آپ نے سجایا تھا، اسی گلشن میں آپ کی نماز جنازہ ادا ہوئی، یہ فخر کی بات ہے۔

 مدرسہ کا پہلا تعارف نامہ آج بھی ہمارے پاس موجود ہے ۔

چھوٹے بچوں کے ساتھ آپ کا رویہ بہت مشفقانہ ہوتا تھا، بچوں کی ذرا سی رونے کی آواز پر آپ بے چین ہو جاتے، پڑوس کے ایک چار سالہ بچے کا واقعہ رقم کر دوں جو حیرت انگیز بھی ہے اور عبرت آموز بھی، پڑوس کا ایک چار سالہ بچہ روز والد صاحب کے پاس آتا آپ اسے کچھ نہ کچھ کھانے کو دیتے یہاں تک کہ اس کے لیے چھپا کر رکھتے، آپ اس بچے سے باتیں کرتے پھر وہ بچہ چلا جاتا ہے لیکن اس چار سالہ بچے کے اندر سولہ سالہ جوان کا دماغ کہاں سے آگیا؟ وہ بچہ جب والد صاحب کو سوتے یا آرام کرتے دیکھتا تو ان کے وضو کے برتن کو اٹھاتا اور کسی طرح پانی بھر کر سراہنے رکھ دیتا پھر چلا جاتا، برتن میں پانی دیکھ کر والد صاحب جان جاتے اور بچے کی اس ادا سے بہت خوش ہوتے. ایک دن اس بچے کا ہاتھ جل گیا ادھر بچہ رویا ادھر والد صاحب تڑپ گئے، بچے کو اپنے پاس منگوایا، لقمان حیات تیل لگایا اور دعا کی، قربان جاؤں دونوں کی اس ادا پر۔

والد گرامی صوم و صلاۃ کے ساتھ ساتھ تہجد گزار، تلاوت قران کے پابند اور باعمل انسان تھے۔ اسی تقوی پرہیزگاری اور عمل کی وجہ سے اپنوں و غیروں میں عزت و احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے اور ہر انسان کی عزت و سربلندی کا پنہاں راز اسی عمل صالح پر رکھا گیا ہے، عالم باعمل ہونا دینی تعلیم کا اولین فریضہ ہے، اگر عمل کا یہی مقصد فوت ہو جائے اور عالم بے عمل ہو جائے تو سارے بلند خطاب و القاب بےکار ہیں۔ ایک بات اور عرض کر دوں میرے بڑے بھائی محمد شعیب نے والد محترم کی جو خدمت کی ہے اسے بھلایا نہیں جا سکتا، رات ہو یا دن آپ ہمیشہ ان کی خدمت میں لگے رہے، اپنا حق خوب خوب ادا کیا، اللہ آپ کو لمبی عمر دے اور سلامت رکھے۔ آج آپ کی وفات کے ساتھ ساتھ آپ کی شفقت، عنایت، محبت، ہمدردی سب چلی گئی اب تو ہر طرف دھوپ ہی دھوپ دکھائی دیتی ہے۔ زندگی میں یہ دوسری بار احساس ہو رہا ہے کہ صدمہ اور رنج و غم کسے کہتے ہیں؟ اب تو ہم یتیم ہو گئے۔ الہی تو نے اگر زخم دیا ہے تو اس سے زیادہ صبر کا مرہم بھی میرے تڑپتے دل پر رکھ دے تاکہ بے قرار دل کو قرار آ جائے۔

آج میں آپ کے تہذیب و اخلاق ذکر و اذکار اور اعمال حسنہ کو اپنی وراثت سمجھتا ہوں۔

حسب اعلان نماز ظہر کے بعد بہ وقت دوبجے دن ضلعی جمعیت اہلِ حدیث سدھارتھ نگر ، یوپی کے ناظم اور جامعہ سراج العلوم السلفیہ، جھنڈا نگر، نیپال کے باوقار استاد فضیلۃ الشیخ وصی اللہ عبدالحکیم مدنی کی اقتداء میں نماز جنازہ ادا کی گئی اور باعمل اللہ والے کو نم آنکھوں سے سپرد خاک کیا گیا۔

سچ کہہ دوں والد محترم جس آن بان شان سے اس آب وگل میں رہے، اسی آن بان شان کے ساتھ اس دارفانی سے رحلت فرما گئے، جس طرح جنازے میں لوگوں کی شرکت ہوئی انسانی سروں اور توحید کے متوالوں کی بھیڑ رہی اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے دلوں میں بستے تھے، میری نظروں نے دیکھا گاؤں کی عید گاہ اور باہر ہجوم عاشقاں کا منظر تھا ہر وہ فرد جو جنازے میں شامل ہوئے وہ سب ان کی جدائی کا داغ لیے رنجور دل کے ساتھ حاضر تھے، میں بےحد ممنون ہوں اپنے دیرینہ رفیق جماعت کے ادیب اریب، ماہر فنون ادب، متعدد کتابوں کے مصنف و مؤلف جناب سہیل انجم صاحب کا جو اپنے مصاحبین کے ہمراہ میری تعزیت کرتے ہوئے مجھے صبر و شکیبائی کی تلقین کی اور جنازے میں شرکت فرمائی، اسی طرح قرب و جوار کے معززین، دینی و سماجی شخصیات نے بھی شرکت کی اور میرے والد گرامی کے لیے بصد خلوص دعائیں کیں، بعض سرکردہ اور نمایاں شخصیات کے اسمائے گرامی یہ ہیں:

مولانا مطیع اللہ سلفی، مولانا محمد علی فیضی، مولانا صلاح الدین سلفی، مولانا رفیع احمد ندوی، مولانا عتیق الرحمن سراجی، مولانا ثمر صادق فیضی، مولانا امیراللہ یوسفی، جناب محمد فاروق، مولانا عبدالقیوم فیضی، نیپال، مولانا ظفرالدین سلفی، مولانا عیسی بلال فیضی، مولانا شکیل احمد رؤفی، مولانا حمید الدین یوسفی، مولانا محمد امین قاسمی وغیرہ۔

اللہ! تمام لواحقین و پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے اور آپ کی بشری لغزشوں کو درگذر کرتے ہوئے ان کی بال بال مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین!

یا الٰہی! تجھ سے ہے رات دن دعا میری

ان کی قبر پر برسے ابر تیری رحمت کا

التجاء ہے مونس کی، والدین کے حق میں

دے انعام تو ان کو، یا الٰہی جنت کا

 آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے