(حافظ قرآن حبیب الرحمن)
رپورٹ: مولانا ضیاء الرحمن سراجی
قرآن کریم تمام آسمانی و الہامی کتابوں میں سب سے افضل اور برتر ہے۔ یہ اللہ کا پاکیزہ کلام، غیر مخلوق اور رشد وہدایت کا سرچشمہ ہے۔
اللہ نے اپنے اس مقدس و متبرک کلام کو اپنے برگزیدہ نبی سرور رسولاں، نیر تاباں، خلد بداماں، سید البشر، أفضل الأنبياء محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور سب سے افضل اور قدر و عزت والی رات "شبِ قدر میں نازل فرمایا۔
قرآن کریم کی حفاظت کا وعدہ خود ربِ کائنات نے اپنے ذمہ لیا ہے۔ اس کی صیانت و حفاظت کاایک نرالا اور بےمثال طریقہ حفظِ قرآن ہے،جسے ہمارے نونہالان ملت کم سنی اور کم مدت میں کلام الہی کو اپنے سینے میں محفوظ کرلیتے ہیں۔اس ترقی یافتہ دور میں انسانی عقل حیران و ششدر ہےکہ تیس پاروں اور متشابہ آیات کریمات کو یہ معصوم اور ننھے منے طلبہ کیسے یاد کرلیتے ہیں؟ اور ہمہ وقت سنانے اور بتانے پر قادر بھی رہتے ہیں۔
قابل مبارک باد ہیں ملت کے ہمارے وہ تمام عزیز طلبہ جو قرآن کریم کواپنے ماہر حفاظ کرام کے زیر نگرانی تجوید کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں، پڑھنا سیکھتے ہیں اور پورے قرآن کو حفظ کرکے اپنے والدین، اہل خانہ، قرابت داروں، معزز اساتذہ کرام اور ادارے کانام روشن کرتے ہیں۔
طالب علم کے والد مولانا ضیاء الرحمن سراجی
آج میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں جس نے میرے فرزند دلِ بند عزیزم حبیب الرحمن بن ضیاء الرحمن سلمہ کودینی تعلیم حاصل کرنے کی رغبت دی اور دوسال کی قلیل مدت میں حفظ قرآن کی تکمیل کی سعادت سے سرفراز فرمایا، درحقیقت اس نمایاں اور قابل رشک کامیابی کے پیچھے اللہ کے خاص فضل کے بعد ہمارے بزرگوں کی مخلصانہ دعائیں، نیک تمنائیں، معهد عثمان بن عفان لتحفيظ القرآن الكريم کے بانی برادر محترم جناب مولانا مجیب الدین مدنی کی خصوصی الطاف و عنایات، معہد کے پرنسپل اور مشفق و مہربان استاد جناب حافظ مولانا سمیع اللہ عالیاوی کی شبانہ روز کاوشوں اور قربانیوں کا حسین ثمرہ ہے۔

معهد عثمان بن عفان لتحفيظ القرآن الكريم
اس حسیں اور پرمسرت موقع پر ہمارے بزرگوں، خیرخواہوں، مخلص رفقاء واحباب،اہل خانہ اور دیگر عزیزو اقارب بہ طور خاص میرے بڑے بھائی مولانا شفیع اللہ مدنی، مولانا وصی اللہ مدنی، میرے بڑے بہنوئی جناب جمیل احمد، وغیرھم نے میرے فرزند ارجمند کو خلوص دل سے مبارک باد پیش کرتے ہوئے اس کے روشن مستقبل کے لیے ڈھیر ساری دعائیں دیں۔
بار الہا! ہمارے نور نظر کو قرآنی تعلیمات پر عمل کرنے کے ساتھ ہمیشہ یاد رکھنے کی توفیق دے اور امت کے لیے بہتر اور نافع بنا اور اس کے ہر نیک عمل کواس کے والدین، قرابت داروں اور اساتذۂ کرام کے لیے صدقہ جاریہ بنا۔آمين۔
