مجیب الرحمٰن فلاحی
اٹوا، سدھارتھ نگر
جشن عید میلادالنبی کی ابتداء ابو سعید کوکبوری بن ابی الحسن علی بن محمد الملقب الملک المعظم مظفرالدین اربل المتوفی 18 رمضان 630 نے کی۔ یہ بادشاہ محفلوں میں بے دریغ پیسہ خرچ کرتا اور آلات لہو لعب کے ساتھ راگ ورنگ کی محفلیں منعقد کرتا تھا۔
بادشاہ بھانڈوں اور گانے والوں کو جمع کرتا اور گانے کے آلات سے گانا سنتا اور خود ناچتا۔ایسے شخص کے فسق اور گمراہی میزن کوئی شک نہیں ہے۔اس جیسے فعل کو کیسے جائز اور اسکے قول پر کیسے اعتماد کیا جا سکتا ہے۔اسکی ایجاد کردہ بدعت یہ ہے کہ مجلس مولود میں بیس قبے لکڑی کے بڑے عالیشان بنواتا اور ہر رقبہ میں پانچ پانچ طبقے ہوتے۔ابتداۓ ماہ صفر سے ان کو مزین کرکے ہر طبقہ میں ایک ایک جماعت راگ گانے والوں ٹپہ خیال گانے والوں باجے کھیل تماشے اورناچ کود کرنے والوں کی بٹھائی جاتی اور بادشاہ مظفرالدین خود مع اراکین وہزار ہا مخلوق قرب وجوار کے ہر روز بعد از عصران قبوں میں جاکر رگن وغیرہ سن کر خوش ہوتا اور خود ناچتا ۔پھر اپنے قبہ میں تمام رات رنگ لہو ولعب میں مشغول رہتا اور قبل دو روز ایام مولود کے اونٹ گائیں بکریاں بے شمار طبلوں اور آلات گانے و لہو کے ساتھ جتنے اسکے یہاں تھے نکال کر میدان میں ان کو ذبح کراکر ہر قسم کے کھانوں کی تیاری کراکر مجالس لہو کا کھلاتا اور شب مولود کی کثرت سے راگ قلعہ میں گواتا تھا ۔یہ تو تھا اک موجد ۔اور جہاں تک اس کے جواز کا فتوی دینے والے شخص کا نام ہے تو وہ ہے ابو الخطاب عمر بن الحسن المعروف بابن وحیتہ کلبی متوفی 633ھجری۔
