شرالکپہ۔ 2؍ ستمبر (محمدیوسف رحیم بیدری): جماعت اسلامی ہند، شِرالکوپہ یونٹ کی جانب سے یکم ستمبر کو شکاری پور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی گئی۔ اس موقع پر ریاست گیر سیرتؐ مہم ”انصاف کے علمبردار پیغمبر محمد ﷺ” (3 ستمبر تا 14 ستمبر 2025ء) کے تعلق سے تفصیلات میڈیا کے سامنے پیش کی گئیں۔ پریس کانفرنس میں جناب محمد حسین (امیرِ مقامی)، جناب ذکی احمد خان، جناب عبدالغفور، جناب امین الحسن، جناب انیس احمد اور جناب نظام الدین (SIO) شریک رہے۔ اس موقع پر ’’محمد ﷺ یارو(کون؟)‘‘ کتاب کے کنڑا ترجمہ کا اجراء بسواشرم کی ماتے شرنامبیکے کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ کتاب کے اجرا کے بعد ماتے شر نامبیکے نے کہا: ’’ہم سب ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں۔ اس دنیا میں صرف دو ہی ذاتیں ہیں — ایک مرد اور ایک عورت۔ یہی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ جماعت اسلامی ہند انسانیت کو ایک ساتھ لانے اور بھائی چارے کو مضبوط بنانے کا شاندار کام کر رہی ہے۔” انہوں نے جماعت کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ: ”میں نے جماعت اسلامی کی کتابوں میں نبی اکرم ﷺ کی زندگی اور ان کی تعلیمات کو نہایت جامع اور واضح انداز میں پایا ہے۔ یہ کام معاشرے کو قریب لانے اور دوسروں کے مذاہب کو سمجھنے میں نہایت اہم ہے۔” اس دوران مقامی جماعت نے میڈیا کے سامنے اپنے منصوبے رکھے:1. کپڑا بینکنگ مہم — جس کے ذریعے یتیموں اور ضرورت مندوں کے لیے اچھے کپڑے جمع کر کے ان تک پہنچائے جائیں گے۔ 2. نوجوانوں کی اصلاح — ڈرگس اور نشہ آور چیزوں کے خلاف جدوجہد، اور قرآن و سنت کی تعلیمات کو نوجوانوں تک پہنچا کر انہیں برائیوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔مزید یہ کہ 29 اگست بروز جمعہ بعد نماز عصر ملت کے تمام افراد کو لے کر شرالکپہ میں ایک خصوصی میٹنگ بھی منعقد کی گئی تھی۔ اس میٹنگ کا مقصد ملت کے افراد کو جوڑنا اور آئندہ کے پروگراموں کے سلسلے میں مشاورت کرنا تھا۔ ذمہ داران نے مزید کہا کہ اس مہم کے دوران عوامی اجتماعات ملت کے افراد اور برادر وطن کے لیے، مضمون نویسی کے مقابلے، خون کا عطیہ کیمپ، ہاسپٹل پہنچ کر مریضوں کی عیادت اور انہیں پھل تقسیم کیا جائے گا اور دیگر پروگرام بھی منعقد ہوں گے۔ ”یہ مہم صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے۔ مقصد یہ ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کے پیغامِ عدل و انسانیت کو سماج کے ہر طبقے تک پہنچایا جائے، غلط فہمیوں کو دور کیا جائے اور آپسی تعلقات کو مضبوط بنایا جائے۔”اس بات کی اطلاع جماعت اسلامی ہند شرالکپہ نے ایک پریس نوٹ کے ذریعہ دی ہے۔
