گورکھپور: انجمن تعلیمات دین گورکھپور کے آفس سکریٹری وجمعیت علماء گورکھپور کے صدر مولانا محمد اطہر صدیقی قاسمی نے مدرسہ آغوش حمیدیہ گھاسی کٹرہ گورکھپور کا معاینہ کیا۔ آغوش حمیدیہ کے ذمہ دار حافظ محمد یعقوب نے بتایا کہ اس ادارے کی خصوصیات میں سے یہ ہے کہ بچے تفہیم کے فن سے بھی مہارت رکھتے ہیں اور جو کچھ یاد کر لیتے ہیں اس کو سمجھ کر پڑھنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں میں نے محمد حسن، محمداشہد اور محمد ہاشم سے نحووصرف کے چند سوالات کرکے اطمینان کا اظہار کیا۔
حافظ محمد ایوب صاحب کے درسگاہ میں 21 بچے موجود ملے۔ درسگاہ کا حسن انتظام سے دل باغ باغ ہوا، موسم کے اعتبار سے ضرورت کی چیزیں موجود تھیں جس سے طلباء کو سکون مل رہا تھا۔ محمد احمد صاحب کے حفظ کے درجہ میں 16 بچے جبکہ حافظ صفی اللہ صاحب کے درسگاہ میں 16 بچے موجود ملے۔ حافظ سبحان اللہ صاحب کے درسگاہ میں 21 بچے ناظرہ قرآن کے طلباء موجود رہے۔ یہ سارے بچے اقامتی تھے جوحافظ محمد یعقوب صاحب کی نگرانی میں رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ غیر اقامتی درسگاہ کا سروے کیا جہاں عبداللہ ہاشمی صاحب نے بتایا کہ ہمارے پاس 22 بچے حفظ کے ہیں اور 20 بچے ناظرہ قرآن کے ہیں، جو آتے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ مولانا حافظ محمد الیاس صاحب سے ملاقات ہوئی جن سے گفتگو کے بعد پتا چلا کہ اس مدرسہ میں شعبہ انگریزی بھی ہے جو بہت عمدہ طور پر کام کر رہا ہے۔
میں نے اس درسگاہ کا سروے کیا جہاں بچوں نے انگریزی میں گفتگو کرکے ثابت کردیا کہ اس شعبہ میں بھی عمدہ طور پر کام ہو رہا ہے۔ مولانا الیاس صاحب نے بتایا کہ یہ دو سالہ کورس ان بچوں کے لئے ہے جنھوں نے حفظ مکمل کرلیا ہے اور ان کی عمریں کم ہیں ان کو دوسالہ کورس کرانے کے بعد انگلش میڈیم سے ہائی اسکول کرادیتے ہیں چنانچہ یہ بچے اس سال ہائی اسکول پاس کر لیں گے۔ میں نے محمد حذیفہ، عابد انصاری اور احمد فراز سے سوال وجواب کروا کر انگریزی گفتگو کو سنا، دل باغ باغ ہوگیا اور دعا کیا کہ اللہ تعالی اس ادارے کو ہر طرح کے شرور و فتن سے محفوظ رکھے اور اساتذہ کو خلوص و محبت سے کام کی تو فیق عطا فرمائے۔ طلباء کے ساتھ حسن سلوک اور پیار ومحبت کے ساتھ رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
