1- دیہی علاقے کے لوگ رات رات بھر شب بیداری کرنے کو مجبور۔
2- ڈرون کیمروں، چوری اور عدم استحکام کی وجہ سے سرحدی علاقوں کے شہری کنفیوژن کے شکار۔
3-نیپال کی جیلوں سے فرار قیدیوں سے دہشت کا ماحول قائم۔
(عبدالمبین منصوری)
سدھارتھ نگر: آج کل دیہی علاقوں کے شہری ڈرون کیمروں کی وجہ سے چوری کے خوف سے رات رات بھر شب بیداری کرنے کو مجبور ہیں۔ خاص طور پر سرحدی علاقوں کا منظر کافی خوفناک ہے۔ کیونکہ آج کل ہند-نیپال سرحد کے اس پار نیپال کی قابل رحم حالت کی وجہ سے پڑوسی ملک ہندوستان کے شہری کنفیوژن کے شکار ہیں۔ کیونکہ ہندوستان اور نیپال کے درمیان روٹی بیٹی کے دوستانہ تعلقات رہے ہیں۔
نیپال میں جس طرح کی بغاوت نے پرتشدد شکل اختیار کر لی ہے اور وہاں کے لوگوں نے وہاں کی حکومت کو گرا دیا ہے اس نے ہندوستان کے شہریوں کو الجھن میں ڈال رکھا ہے۔ کیونکہ کئی طریقوں سے ہندوستان اور نیپال آپس میں دوستانہ تعلقات میں بندھے ہوئے ہیں۔
ضلع میں ان دنوں چوری کی وارداتوں کے حوالے سے انتہائی افسوسناک صورتحال ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور پولیس انتظامیہ کی جانب سے کوئی ٹھوس اقدامات نہ کیے جانے کی وجہ سے ضلع کے شہری بالخصوص دیہات کے لوگ چوری کے خوف سے رات بھر جاگ کر پہرہ دینے پر مجبور ہیں اور ضلعی انتظامیہ اور پولیس انتظامیہ کی جانب سے عام شہریوں کے تحفظ کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہ کیے جانے کی وجہ سے ضلع کے شہریوں میں بھی عدم تحفظ کی فضا قائم ہو گئی ہے۔ یہی نہیں دن اور رات میں آسمان پر نظر آنے والے ڈرون کیمروں پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کوئی ٹھوس قدم نہ اٹھانے کی وجہ سے ضلعی انتظامیہ اور پولیس انتظامیہ پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ جس کی وجہ سے ضلع بھر میں گزشتہ چند دنوں سے چوری کی وارداتوں سے شہر اور دیہات کے باشندے سخت خوفزدہ ہیں۔ بعض مقامات پر مقامی لوگوں نے خود ہی کچھ نام نہاد چوروں کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیے ہیں لیکن پولیس انتظامیہ ضلع کے لوگوں کی دہشت اور خوف سے پوری طرح بے خبر نظر آرہی ہے۔
