شرف الدین سیّد
پچھلے چند سال سے حیدرآباد کرناٹک علاقہ میں ۱۷ ستمبر کو یوم آزادی منانے کا نیا دروازہ کھل گیا ہے ۔ جسے سمجھنے کے لیے کرناٹک کی جغرافیائی اور تاریخی تصویر کے بارے میں معلومات درکار ہیں ۔ ریاست کرناٹک کو جغرافیہ کی بنیاد پر پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ مثلاً ملناڈ کرناٹک، میسور کرناٹک، ساحلی کرناٹک، کتور کرناٹک اور کلیان (حیدرآباد) کرناٹک ۔ چونکہ یہاں موضوع کے اعتبارسے کلیان کرناٹک کے بارے میں چند معروضات پیش کرنے ہیں، اولاً یہ واضح کردوں کہ ریاست کا ملناڈ علاقہ سب سے امیر اور ترقی یافتہ ہے اور کلیان کرناٹک سب سے پسماندہ خطہ ہے۔ ہاں ضرورکہیں کہیں قومی شاہراہوں، کچھ عمارتوں، رہائشی مکانات، گاڑیوں کو سیاسی بنیادوں پر ترقی ملی ہے لیکن حقیقت میں یہ صرف کاغذی اورسطحی ترقی ہے۔ سچ یہی ہے کہ یہ خطہ ہزار سرکاری دعوؤں کے باوجود پسماندہ ہی ہے۔ بنیادی طور پر کلیان کرناٹک کے لوگ معصوم، نرم دل اور محنتی ہیں۔ اس علاقے کے ساتھ نہ صرف سیاسی تاریخ بلکہ ارباب اقتدار نے بھی تعصب سے کام لے کر ظلم کیا ہے۔
سیاسی پہلو کی طرح حیدرآباد ۔کرناٹک کی تاریخی حیثیت پر بھی ایک نگاہ ڈالنا ضروری اور حق بجانب ہے ۔جسے اب کلیان کرناٹک کانام دیا گیا ہے ، تو آئیے سمجھنے کی کوشش کریں۔ ہندوستان کی آزادی کی تاریخ سے واقفیت رکھنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ انگریزوں نے ہندوستان اور پاکستان کو اس کی موجودہ ہئیت میں اپنے چنگل سے آزاد نہیں کیا تھا۔بلکہ حکومت برطانیہ کی جانب سے 1947ء میں تیارکردہ Indian Independence Act کے تحت ہندوستان کے کچھ علاقوں کا انضمام بعد میں ہواتھا۔انڈین نیاشنل کانگریس،مسلم لیگ ،نیز سکھ برادری نے اس وقت کے وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیاٹن کے ساتھ ایک معاہدئہ مفاہمت پر اتفاق کرلیاتھا۔جس کے تحت اس وقت کے 562 پرنسلی اسٹیٹ کے ساتھ ہوئے سمجھوتے کی بنیاد پر ان تمام نوابی ریاستوں اور رجواڑوں کو یہ اختیارحاصل تھا کہ و ہ اپنی صوابدید پر اپنی اپنی ریاستوں کاالحاق ہندوستان یا پاکستان کے ساتھ کرلیں۔یاپھر وہ خودمختار رہ لیں۔آزاد ہندوستان کے پہلے وزیراعظم کی حیثیت سے پنڈت جواہرلال نہرو اور نائب وزیراعظم کے طورپرسردار ولبھ بھائی پٹیل نے اقتدار سنبھالا۔شروعات میں میسور سمیت 565 صوبوں کے راجاؤںنے ہندوستان کے ساتھ ضم ہو جانے کی تجویز کی مخالفت کی۔حیدرآباد سمیت چند ریاستیں شروع میںہچکچاہٹ کا شکار رہیں۔مگر عوام کے سخت دباؤ کے نتیجے میں انضمام کی تجویز کو تسلیم کرلینی پڑی۔اور آخرکار وہ بھی بھارت یا پاکستان کے ساتھ جڑ گئیں۔ ان میں مسلم کثیرالآباد ریاست کشمیر کے راجاسری ہری سنگھہ ہندو تھے۔ اور ہندو کثیرا لآباد جوناگڈھ اور حیدرآبادکی ریاستوںکے سربراہ نواب مہابت خان اور نواب میر عثمان علی خان ، نظام دکن ،علی الترتیب مسلمان تھے۔ حالانکہ ان راجا ،نوابوںنے بھی خود سے اس نئے ہندوستان کے ساتھ جانے سے گریز کیا۔تاہم Standstill Agreement (اسٹانڈسٹیل )معاہدے پر دستخط کیاگیاتھا۔یہ ایک عارضی معاہدہ تھا۔اسی اسٹانڈ سٹیل معاہدے کے مطابق ،مسٹرکے ایم منشی کو حیدرآباد میں ہندوستان کا ایجنٹ مقرر کیا گیا۔تقسیم ِہند کے پس منظر میںملک کے سیاسی حالات میں کافی اتھل پتھل آگیا۔ہر شہر ہر گاؤں میں افراتفری کا عالم تھا۔ حالات بے قابو ہوئے جا رہے تھے۔ بالخصوص حیدرآباد میں بدامنی پھیلنے لگی ، اکثریت میں ہونے کے سبب ہندو عوام کا بڑا طبقہ نظام حکومت کا خاتمہ چاہتاتھا۔اور ہندوستان کے ساتھ شامل ہوجانا پسند کرتاتھا۔ چناںچہ کانگریس لیڈروں کی سرپرستی میں اس تحریک کو کافی بڑھاوا ملا۔ اسی وقت نظام حیدرآبادآصف جاہ VIIنے اپنی خودمختاری کودرپیش خطرے سے نمٹنے کی غرض سے قاسم رضوی کی زیرقیادت رضاکارتنظیم کا سہارا لینا چاہا۔جو کہ درست فیصلہ نہیں تھا۔جس کا عوام کوبہت بھاری خمیازہ بھگتناپڑا۔تقسیم ہند کی بربریت کے نتیجے میں جابجا مارکاٹ،لوٹ کھسوٹ،غارت گری اور بدامنی سے ہندوستان کی ساری بستیاں لہولہان ہونے لگیں تھیں۔ جس کا سیدھا اثر یہ ہواکہ نظام دکن کے اقتدار والے حیدرآباد کرناٹک علاقوں میں بھی طوائف الملکی کا دور برپاہوگیا۔افراتفری ،بدامنی اور اشانتی پھیلانے کے اس کام میں دونوں ہی فرقے سے تعلق رکھنے وا لے شامل تھے۔ظاہر ہے یہ علاقہ ہندو اکثریت والا تھا ،لہٰذا مسلمانوں کو بھاری جانی اور مالی نقصان سے دوچار ہوناپڑا۔میرے والدماجد حضرت مشایخ سید جعفر اشرفی ؒ ، اُن دنوں یادگیر میں سرکارعالیہ کے ایک اسکول میں زبان ِفارسی کے مدرس تھے ۔ خاص کریادگیرسے قریب،شاہ پور،سگر، گوگی،گرمٹکل ،شوراپور نیز افضل پور،جیورگی سمیت کئی مضافاتی علاقوں میں مسلمانوں کے قتل عام اور مسلمان عورتوں کی بے حرمتی کے رونگٹھے کھڑے کردینے والے ایسے واقعات کا ذکر کرتے جن کے وہ خود شاہدتھے۔جب کبھی اس ہولناک پولیس ایکشن والے زمانے کو یاد کرتے تھے ،گویاان پر رقت طاری ہوجاتی تھی ،اور وہ بتایاکرتے کہ ان متاثرہ علاقوںکی آب و ہوا تک متعفّن ہوچکی تھی ،اوروہاںپرایک لمبے عر صہ تک انسانوں کے گلے سڑے گوشت کی مسموم بدبو کا اثر تھا۔ان علاقوںکا شاید ہی کوئی ایسا کنواںباقی رہا ہو جہاںپر کوئی گلی سڑی لاش پائی نہ گئی ہو۔حتیٰ کہ کئی کئی مہینوںتک لوگوں کے لئے ان کنوؤں کا پانی قابل استعمال نہیں تھا۔
الغرض ہندوؤں کی ایک خاص ذہنیت کی جانب سے تیارکی گئی کانگریس کی رپورٹ کو بنیاد بناکراس وقت کے نائب وزیر اعظم اور وزیرداخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے حیدرآباد میں پولیس ایکشن کا حکم صادر کیاتھا۔حالانکہ Agreement Standstill معاہدے کی معیاد سے قبل ہی ہندوستانی حکومت نے کارروائی کا آغاز کیا تھا۔آپریشن پولو نامی اس یکطرفہ کاروائی کی سرپرستی جنرل جے ین چوہدری نے کی تھی۔ایسا کہا گیا ہے کہ کاروائی 13 ستمبر سے شروع ہوئی اور 18 ستمبر کوختم ہوئی پھر ہندوستانی فوج نے حیدرآباد میں اپنا جھنڈا گاڑدیاتھا۔سچ تو یہ ہے کہ اس دعویٰ کی کہیں کوئی تاریخی شہادت نہیں ملتی، جسے سقوط حیدرآباد کا نام دیا جاسکتاہو۔
مگر اب یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر کیوں کر17 ستمبر کو حیدرآباد کرناٹک میں کچھ لوگ لبریشن ڈے کے طور پر جشن مناتے ہیں۔ جب کہ محققین کا یہ کہناہے کہ 17 ستمبر کو حیدرآباد کے ساتویں نظام آصف جاہ میر عثمان علی خاں بہادر نے دکن آکاش وانی ریڈیو پر،کے یم منشی کی جانب سے تیارکردہ ایک بیان پڑھاتھا۔جس میںحکومت پرسے اپنی دستبرداری سے متعلق وضاحت دے دی گئی تھی۔اس واقعے سے ہٹ کر 17 ستمبر کی اہمیت کے بارے میں کہیں سے کوئی تاریخی شہادت نہیں ملتی۔معروف محقق ڈاکٹر چرنجیوی کونوری نے ،17ستمبرایک بڑا فریب ؛نامی اپنی تصنیف میںان خیالات کا کھل کر اظہارکیاہے۔ڈاکٹر موصوف نے 17ستمبر کو حیدرآباد کے لئے لبریشن ڈے تسلیم کرنے سے بھی صاف انکار کیا ہے۔19ستمبر 1948سے 1949 تک ہندوستانی فوج نے حیدرآبادکا راج بھار سنبھالا تھا۔ تاریخ دان محمدحیدر کا کہنا ہے کہ حکومت ہندنے اقتدار کی منتقلی کی اس کارروئی کو انجام تک پہنچانے میں فوج کو کھلی چھوٹ دے رکھی تھی۔ جس کے سبب انسانیت کو شرمسار کردینے والے ایسے ہزاروں واقعات رونماہوئے۔اور ان سارے گھناؤنے کام یا تو خود ہندوستانی فوج نے یا پھر فوج کی ایماء پر شرانگیزوں نے انجام دیئے۔جسے ایک مخصوص طبقہ کے خلاف کھلی سازش کے سواء کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
مزیدغورطلب اورقابل ذکر سچائی یہاں یہ بھی ہے کہ ہندوستانی حکومت کی جانب سے نئے طور سے الحاق پانے والی سبھی ریاستوں کے لئے اس تحریک میں حصہ لینے والے کارکنوں یا لیڈروں کو وزیراعلیٰ نامزد کرنے والی کانگریس پارٹی نے حیدرآباد کے اہم قائد رمانند تیرتھ کو وزیراعلیٰ مقرر نہیں کیا بلکہ یکم دسمبر کو آئی اے ایس افسر کے ایم ویلودی کو وزیراعلیٰ بنادیا۔بعدازاں 5مارچ 1952 کے انتخابات کے ذریعہ راماکرشناراؤوزیراعلیٰ بنے۔
اس حقیقت کو چھپایاجاتاہے کہ ڈاکٹربھیم راؤ امبیڈکرکی سرپرستی میں ہندوستان کا آئین ابھی زیرتدوین تھا،کہ نظام دکن نے ہندوستانی آئین کوحکومت حیدرآباد میں بھی نافذالعمل بنانے کے اپنے موقف کا اعلان کردیاتھا۔اس طرح 26 جنوری 1950ء کو ریاست حیدرآباد کاہندوستانی وفاق میںانضمام ہوچکا تھا۔اسی لئے توحکومت ہندوستان نے حضور نظام میر عثمان علی خاں کوحیدرآباد کاپہلا گورنر (راج پرمکھ) مقررکیا۔لیکن یکم نومبر 1956ء کو جب لسانی بنیادوں پرریاست حیدرآباد کو تین حصوں میں منقسم کیاگیا تب حضور نظام نے خود ہی ریاست کا گورنر بنے رہنے سے انکار کردیاتھا۔
1948کے پولیس ایکشن کی روئدادنہایت دردناک ،دلوں کو دہلادینے والا اورانسانیت کے نام پر انمٹ ، دائمی اوربدنما داغ ہے، ۔جسے دھویا یابھلایا نہیں جاسکتا۔اس میں کئی ہزار کمیونسٹ کارکن موت کی گھاٹ اتاردئیے گئے ۔یاہزاروں کمیونسٹ کارکنوں کو بھارتی فوج نے قید کرلیا۔بی بی سی کی ایک رپورٹ کے تحت لاتعداد مسلمانوں کا بے رحمانہ قتل عام کیا گیا۔جن میں مرد عورت جوان بوڈھے اور بچے سبھی شامل تھے۔عورتوں کی اجتماعی عصمت دری عام ہوچکی تھی۔ظالموں نے شیرخوار بچوں کو ماوؤں کی گودیوں سے کھینچ کھینچ کرقتل کرڈالااور ننھی مسلی ہوئی نعشوں کاترشول کی نوکوں پر گلی کوچوں میں گشت کرایاگیا۔پولیس ایکشن گویاکہ قیامت صغریٰ کی شکل میں ہرجانب برپا تھا۔اس انتہائی شرمناک اور انسانیت سوز واقعہ کی جانچ کے لئے اس وقت کے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے سندرلال بہوگنا اورقاضی عبدالغفار کی قیادت میں ایک انکوئری کمیشن کاقیام کیا ۔کمیشن کے اہم رکن مسٹر بہوگنا نے دسمبر 1948کے دوران تین ہفتوں تک اس متاثرہ علاقہ کا دورہ کرتے ہوئے پنڈت نہرو سے کہا تھا کہ کیا تم نے مجھے لاشوں کی گنتی کرنے کے لئے یہاں روانہ کیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 13 ستمبر سے 17 ستمبر صرف چار دنوں میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ ہلاک کردئے گئے۔ ایک انگریز تخمینہ کار ولیم ڈالرمپل کے مطابق ہلاکتوں کا پیمانہ انتہائی ڈراؤناتھا۔ مگر نائب وزیراعظم اور وزیر داخلہ سردار پٹیل کو اس جانچ رپورٹ پر شدید اعتراض ہونے کے سبب اس رپورٹ کو عام نہیں کیا گیا۔بلکہ سردار پٹیل نے توکمیشن کے رکن قاضی عبدالغفار کو خط لکھ کر یہ پوچھاتھا کہ تم کو کس نے رپورٹ تیار کرنے کو کہا تھا۔الغرض ایک گھناؤنی سچائی دنیا کے سامنے ظاہر نہیں کی جا سکی۔کہاجاتارہاکہ یہ رپورٹ نئی دہلی میں واقعے تین مورتی ہاؤس کے نہرو میموریل میوزیم میں واقع لائبریری میں رکھی گئی ہے۔پچھلے کچھ سالوں میں پانڈو رنگاراؤ نامی ایک تاریخ دان نے اس رپورٹ کی کاپیRTI کے ذریعہ طلب کی تھی ۔جس پرانہیںجواب ملا کہ وہ رپورٹ دستیاب نہیں ہے۔
ہندوستان کے نامور مورخ اور مصنف اے جی نورانی نے اپنی کتاب HYDERABAD DESTRUCTION میں لکھا ہے کہ عثمان آباد،لاتھوڑ،ناندیڑ، بیڑ، گلبرگہ، بیدر اور رائچور کے اضلاع میں کئی ہزار مسلمانوں کا بہیمانہ قتل کیا گیا ۔صرف نورانی کی ایک کتاب کا مطالعہ کرلینا ہی کافی نہیںہوگا۔اس پولیس ایکشن کی ایک طرفہ کارروائی کو سمجھنے اوراس وقت کے عام حالات کو جاننے کے لئے خودمسٹر کے ایم منشی کی تحریر کردہ END OF THE ERAکتاب بھی پڑھنی ہوگی۔تب ہی تاریخ کا کڑوا سچ نگاہوں کے روبرو آئے گا۔
کرناٹک کے سابق وزیراعلیٰ شری جے ایچ پٹیل نے (1998ء) اپنے دور حکومت میںاس وقت کے لیجسلیٹیو کونسل چیرمین ڈی بی کلمنکر (جن کا تعلق گلبرگہ سے ہے) کے دباؤ میں آکر17 ؍ ستمبر کوحیدرآباد لبریشن ڈے کی شکل میں ایک جشن منانے کااعلان کیا تھا۔اوربس اس سے زیادہ 17ستمبر اور اس دن کے تقریبات کی کوئی تاریخی حیثیت نہیں ہے۔دردوالم سے بھرے،ان انسانیت سوز و اقعات کو ایک جشن کے طور پر منانے پرایک طبقے کو سخت اعتراض ہے،جن کی یہ بات بھی کافی مدلل اور حق کے قریب لگتی ہے کہ اپنے وطن کی آزادی کے لئے دودن 15 آ گسٹ اور 17ستمبر مقرر کرنے اور جشن منانے کے ذریعہ آخرحکومت سماج کو کیا پیغام دیناچاہتی ہے۔؟ حالانکہ حیدرآباد کے بعد بھی ہندوستانی وفاق میں ضم ہونے والی کئی ریاستیں ہیں ۔ٹرا ونکورکے ہندوراجہ نے اس معاہدے کی سختی سے مخالفت کی ،اور ان کی مخالفت 1949تک جاری رہی مگر حکومت ہند نے اس راجا کے خلاف کوئی پولیس ایکشن یا فوجی کارروائی نہیں کی۔نہ وہاں پراس طرح سال میںدو مرتبہ آزادی کے جشن منائے جاتے ہیں۔دراصل یہ جشن سیاسی نوعیت کا حامل ہے۔ جو فرقہ وارانہ رنگ دینے اورایک مخصوص طبقے کوذہنی تناؤمیں جھونکنے کی غرض سے منعقدکئے جاتے ہیں۔ویسے توآج کل یہ ایک عام بات ہوگئی ہے کہ سیاسی مقصدبراری کے لئے کسی بھی واقعہ کابڑی آسانی سے استحصال کیا جائے۔ حالانکہ لوگ جانتے ہیںکہ تحقیق کے بغیر تاریخ کے جھوٹ پر اپنی سیاسی دکان چمکانا افسوسناک فعل ہے۔اس کے باوجوداکثر لوگ بہک ہی جاتے ہیں۔کاش عوام ایسے سیاسی شعبدہ بازوں سے چوکنا رہنے اور ان سے باز رہنے کا ہنرہی سیکھ لیں!!!!
