فقیر صابر عالمؔ، ورنگل
یہ کلام مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ طالبؔ صاحب کا ہے، جس میں وہ فلسف? جنون و فرزانگی، مردانہ ہمت، روحانی بغاوت اور انسان کے باطنی امکانات پر روشنی ڈالتے ہیں ؎
دنیا نے سدا سمجھا دیوانے کو فرزانہ
فرزانہ حقیقت میں تھا سب میں جو دیوانہ
ادبی تشریح:یہاں ”دیوانہ” مجازی طور پر عاشقِ حقیقی یا صاحبِ جنونِ حق کے لیے آیا ہے۔ دنیا ہمیشہ ایسے لوگوں کو پاگل سمجھتی ہے جو اپنے دور کے مروجہ خیالات کے خلاف کھڑے ہوں۔ لیکن دراصل وہی ”دیوانہ” اصل کا فرزانہ، صاحبِ عقلِ کُل ہوتا ہے۔
روحانی تشریح:قرآن میں فرمایا گیا:”إِنَّہُ یَرَاکُمْ ہُوَ وَقَبِیلُہُ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَہُمْ” (الاعراف: 27)یعنی حقائق وہ دیکھتا ہے جس پر دنیا پردہ پڑا رہتا ہے۔
صوفیا بھی کہتے ہیں:”جنوں عاشقانِ حق کی پہچان ہے، اور عقلِ عام صرف دنیاوی زندان میں قید ہے۔” ؎
اک قطرے سے عالم میں طوفان بپا کر دے
اک جرعے سے پیدا کر مئے خانے کا مئے خانہ
ادبی تشریح:یہ مبالغہ نہیں بلکہ اشارہ ہے کہ سچا انسان قلیل وسائل سے بھی انقلاب برپا کر سکتا ہے۔ ایک قطرہ پانی اگر سمندر میں مل جائے تو موجیں اٹھاتا ہے۔ اسی طرح ایک چھوٹا سا جام پورے میخانے کو سرشار کر سکتا ہے۔
روحانی تشریح:یہاں اشارہ ”ایمانِ صادق” اور ”ذکرِ الٰہی” کی قوت کی طرف ہے۔”وَمَن یَتَوَکَّلْ عَلَی اللَّہِ فَہُوَ حَسْبُہُ” (الطلاق: 3)ایک جرعہ عشقِ الٰہی کا انسان کو پوری کائنات کو بدلنے والا بنا دیتا ہے ؎
تو عالم ہستی میں جویائے سکوں کیوں ہے
اک شورش پیہم ہو اے ہمت مردانہ
ادبی تشریح:شاعر کہتا ہے کہ اس دنیا میں سکون ڈھونڈنا عبث ہے۔ یہاں ہر چیز تغیر اور شورش میں ہے۔ اس لیے مردِ حق کو بھی مسلسل حرکت اور جہدِ مسلسل کی علامت بننا چاہیے۔
روحانی تشریح:حدیث شریف میں آیا ہے: ”الدنیا سجن المؤمن وجنۃ الکافر”، دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے۔لہٰذا سکون تلاش کرنے کے بجائے مسلسل جدوجہد اور جہادِ اکبر ہی مومن کا اصل حال ہے ؎
رندوں کو پلا ساقی صہبائے جنوں پرور
وہ مے کدہ برہم کن ہر لغزش مستانہ
ادبی تشریح:یہاں ”رند” سے مراد وہ لوگ ہیں جو مروجہ رسم و رواج کو توڑ کر عشقِ حقیقی کی شراب پینا چاہتے ہیں۔ ساقی یعنی مرشد یا محبوبِ حقیقی، انہیں ایسی شراب پلائے جو پرانی جمی ہوئی زنجیریں توڑ دے۔
روحانی تشریح:یہی ”مئے” عشقِ الٰہی ہے جو انسان کے اندر بغاوت پیدا کرتا ہے اور باطل کو روند ڈالتا ہے۔ مولانا روم فرماتے ہیں ؎
”این شراب عشق را سازد خراب
ہر چہ جز معشوق باشد اندراب”
آتش ہے نہاں تجھ میں پھر شمع کی کیا حاجت
خود شعلہ تاباں بن اے سوزش پروانہ
ادبی تشریح:انسان کے اندر ہی شعلہ ء حیات اور عشقِ الٰہی کی آگ چھپی ہے۔ باہر کی شمعوں پر بھروسہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ اے پروانہ صفت عاشق! خود شعلہ بن جا۔
روحانی تشریح:یہ قرآن کے اشارہ ”وَنَفَخْتُ فِیہِ مِن رُّوحِی” (الحجر: 29) سے جڑا ہوا ہے۔ انسان کے اندر ربانی روح ہے۔ وہی اصل روشنی ہے ؎
ساقی کے تغافل سے مایوس نہ ہو رندو
خود طالب گردش ہے اب فطرت پیمانہ
ادبی تشریح:اگر ساقی (محبوبِ حقیقی) بظاہر توجہ نہ بھی دے، تو مایوس نہ ہو۔ کیونکہ پیمانے کی فطرت ہے کہ گردش چاہتا ہے۔ محبت کی طلب، طالب کو ساقی سے قریب کر ہی دیتی ہے۔
روحانی تشریح:یہاں صبر اور استقامت کا سبق ہے۔ صوفیا کہتے ہیں:”جو صبر کرتا ہے، آخر کار محبوب اس کا ہو جاتا ہے۔” ؎
ہر بت کی تجلی میں تو خود ہی درخشاں ہے
تو اپنا پجاری ہے اے صانع بت خانہ
ادبی تشریح:یہاں اشارہ اس طرف ہے کہ انسان اپنے بت خود تراشتا ہے اور پھر ان کی پرستش کرتا ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہر چیز میں اپنی ہی خواہش اور اپنی ہی خودی کو چمکتا دیکھتا ہے۔
روحانی تشریح:یہی قرآن کی تعلیم ہے:”أَفَرَأَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَہَہُ ہَوَہُ” (الجاثیہ: 23)یعنی جس نے اپنی خواہش کو ہی اپنا معبود بنا لیا ؎
کام دل و جاں پانا دشوار سہی طالبؔ
ممکن ہے اگر تجھ میں ہو جرأت رندانہ
ادبی تشریح:یہ شعر پوری نظم کا خلاصہ ہے۔ دل و جان کی حقیقی دولت (یعنی عشق و قربِ الٰہی) آسانی سے حاصل نہیں۔ اس کے لیے رندانہ جرأت، بغاوت، اور قربانی چاہیے۔
روحانی تشریح:یہی قرآن کی تعلیم ہے:”وَالَّذِینَ جَاہَدُوا فِینَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا” (العنکبوت: 69)جو ہمارے راستے میں جدوجہد کرتے ہیں ہم انہیں اپنی راہیں دکھاتے ہیں۔
خلاصہ:یہ نظم جنونِ عشقِ الٰہی، مردانہ ہمت، تسلسلِ جہاد اور اندرونی روشنی پر اعتماد کا پیغام دیتی ہے۔ دنیاوی عقل و سکون عارضی ہیں، اصل حقیقت وہ ”جنون” ہے جو باطل کے بت توڑ کر عشقِ حقیقی کی شراب سے زندگی کو تابناک بناتا ہے۔ اللہ رب العالمین سے دعاگو ہوں:اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لَہُ وَارْحَمْہُ، وَعَافِہِ وَاعْفُ عَنْہُ،وَأَکْرِمْ نُزُلَہُ، وَوَسِّعْ مَدْخَلَہُ، وَاجْعَلْ قَبْرَہُ رَوْضَۃً مِّن رِیَاضِ الْجَنَّۃِ.
یا اللہ! مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ طالبؔ صاحب پر اپنی بے پایاں رحمت فرما،ان کی لغزشوں کو معاف فرما، ان کی قبر کو نور سے بھر دے،ان کے درجات کو بلند فرما، ان کی دینی و علمی خدمات کو ان کے لیے صدقہء جاریہ بنا،اور انہیں جنت الفردوس میں اپنے نبی ﷺ کی رفاقت نصیب فرما۔ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ ثَوَابَ عِلْمِہِ وَکُتُبِہِ وَجُہُودِہِ نُورًا یَسْعَی بَیْنَ یَدَیْہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ. آمین یا ربَّ العالمین۔
