سہارنپور( احمد رضا): عالم دین آل انڈیا دینی مدارس بورڈ کے سربراہ مولانا محمد یعقوب بلند شہری نے ایک گفتگو کے دوران ملت اسلامیہ کی حالت زار پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ*بندوں کو دنیا میں اچھے اعمال کرنے اور احکام خدا وند کریم کی فرما برادری کے لئے یعنی کہ آخرت کی تیاری کرنے کے لئے ہی پیدا کیا گیا ہے* کیا یہ سچ نہیں کہ پندرہویں صدی ہجری میں بھی مومن بندے اطاعت خدا وند ی بھول کر دنیا کی تیاری میں مگن ہیں سب کچھ جانتے اور پہچانتے ہوئے بھی آخرت سے غافل بنے ہوئے ہیں پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبتدلوں میںکم ہونے لگی ملت اسلامیہ خد غرضی اور مفاد پرستی میں الجھ گئی ہے، اعمال حسنہ کا اجر وثواب تو آخرت میں عطا فرمایا جاتا پے، لیکن حسن عمل کے سبب اللہ تعالی دنیا میں بھی بندوں کو نعمت ورحمت عطا فرماتا ہے* اللہ تعالی نے مومن بندوں سے وعدہ فرمایا ہے کہ مومن بندوں کو اطاعت خداوندی پر دنیا کی خلافت وحکومت عطا فرمائی جائے گی، مقدس کلام اللہ شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں فرماتا * آج ہماری حکومت و سلطنت بھی نہیں اور اپنے مرکزی مقام یعنی عرب دنیا میں بھی ہم پر ایسے سخت مظالم ڈھائے جا رہے ہیں کہ اللہ کی پناہ مذہب اسلام کا آغاز عرب سے ہوا آج اسی عرب دنیا میں عراق،شام،لبنان وفلسطین میں مسلمانوں پر یہود ونصاری جو قہر ڈھا رہے ہیں،وہ دنیا والوں سے پوشیدہ نہیں عراق ، لیبیا، افغانستان،بوسینیا ومیانمار میں ڈھایا جانے والا ظلم وستم بھی پوری دنیا کو یاد ہے! عالم دین مولانا محمد یعقوب بلند شہری نے زور دیتے ہوئے کہا کہ عہد رسالت ہی میں سارا عرب اسلام کے زیر نگیں ہو چکا تھااللہ تعالی نے مسلمانوں کو خلافت وحکومت عطا فرمائی۔عہد رسالت کے بعد خلافت راشدہ،اس کے بعد سلطنت بنی امیہ،پھر بنو عباس کی خلافت وحکومت،پھر مصر کی ایوبی سلطنت،اس کے بعد ترکوں کی عثمانی سلطنت سال 1914:سے 1918 تک پہلی جنگ عظیم جاری رہی اسی عہد میں سلطنت عثمانیہ ختم ہو گئی۔یعنی آج سے ایک سو سات سال قبل مسلمانوں کی عظیم الشان سلطنت کا خاتمہ ہو گیا۔تاریخوں میں مرقوم ہے کہ سلطنت عثمانیہ کے عہد عروج میں دنیا کے تین حصوں پر مسلمانوں کی حکم رانی قائم تھی اور دیگر بہت سے ممالک سلطنت عثمانیہ کے باج گزار تھے۔پھر حکومت و سلطنت ہم سے چھین لی گئی اور ہم محکوم و مظلوم اور مجبور و مقہور قوم بن گئے1918 میں سال ہجری 1336 اور 1337 تھا یعنی چودہویں صدی ہجری کے نصف اول میں ہم اس زوال کی طرف دھکیل دیئے گئے کہ اس کے بعد آج تک زوال ہی ہمارا مقدر ہے۔بھائیو! طاعت خداوندی اختیار کرو،اپنے رسول سے سچی محبت کرو،ورنہ اسی طرح بے یار ومدد گار مارے مارے پھرو گے۔آج دنیا میں تمہاری کیا وقعت ہے،تمیں بخوبی معلوم ہے۔
اپ بھی دیکھ رہے ہیں اور میں بھی دیکھ رہا ہوں،کیا مسلمان موجودہ حالت میں خلافت الہیہ کے مستحق ہیں؟ کیا وہ طاعت الہٰی پر کار بند ہیں؟کیا ایسے سوالوں کا جواب اثبات میں دیا جا سکتا ہے؟ چودہویں صدی ہجری میں ہم عالمی پیمانے پر زوال سے دو چار ہوئے۔ہمیں سنبھل جانا چاہیے تھا،لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ مسلمان پندرہویں صدی ہجری میں اللہ ورسول(عزوجل وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم)سے اور بھی دور ہو گئے۔ہر شخص اپنی حالت پر غور کرے اور خود ہی فیصلہ کر لے۔اگر چند لوگ نیک بھی ہوں تو قانون الہی ہے کہ جب افت آتی ہے تو نیک وبد سب کو سمیٹ لیتی ہے،کیوں کہ نیک لوگ دوسروں کو نیک بنانے کی طرف متوجہ نہ ہوئے اور برے تو برے ہی تھے۔۔۔۔
سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
قرآن مقدس میں ارشاد الٰہی ہے: وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ۪-وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًاؕ-یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْــٴًـاؕ-وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ(سورہ نور:آیت55)
ترجمہ۔۔۔ اللہ تعالی نے تم میں سے ایمان والوں اور اچھے اعمال کرنے والوں سے وعدہ فرمایا ہے کہ ضرورضرور انہیں زمین میں خلافت دے گا جیسی ان سے پہلوں کو خلافت دی ہے اور ضرورضرور اِن کے لیے اِن کے اُس دین کو جما دے گا جو ان کے لیے پسند فرمایا ہے اور ضرور ضروران کے خوف کے بعد ان( کی حالت)کو امن سے بدل دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے، میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گے اور جو اس کے بعد ناشکری کرے تو وہی لوگ نافرمان ہیں آیت کریمہ سے واضح ہے کہ بندے طاعت خداوندی کریں گے تو ان کو دنیا کی خلافت و سلطنت بھی عطا کی جائے گی اور ان کا دین بھی مستحکم کر دیا جائے گا۔یہود ونصاری نے عثمانی سلطنت کو بھی نیست ونابود کر دیا اور دین اسلام کو تباہ وبرباد کرنے کے واسطے ہمارے آپسی مسلک اور ہمارا غرور کا فی حد تک زمہ دار ہے ابھی وقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر قائم رہتے ہوئے سیرت النبی سے ہدایت لیں اور پھر سے دین اسلام کی سلطنت کے قیام کے لئے جدوجہد کریں ؟
