علاقہ کے عوام کو ان کاحق دلانے کی ایک کوشش ہے، عوام تعاون کرے: ایڈوکیٹ طاہر حسین
بیدر۔ 21؍ستمبر (محمدیوسف رحیم بیدری): آ نے والے ماہ کی 6؍تاریخ سے WPI کرناٹک دراصل کلیان کرناٹک علاقہ کے تقریباًتمام اضلاع میں کارواں نکالنے جارہی ہے تاکہ اس علاقے کے عوام کے مسائل حل ہوسکیں جس ضلع میں کارواں پہنچے گاوہاں کے خصوصی مقامی مسائل سے ایڈریس کیاجائے گا۔یہ بات ویلفیرپارٹی آف انڈیا (WPI)کے ریاستی صدر جناب طاہر حسین ایڈوکیٹ نے کہی۔ وہ آج بیدر میں WPIکے کیڈر سے خطاب کررہے تھے۔ انھوں نے آگے کہاکہ ڈاکٹر اجے سنگھ چیرمین KKRDBنے ایک پریس کانفرنس میں کہاکہ حکومت نے 5ہزار کروڑ بجٹ علاقہ کلیان کرناٹک کو دیاہے اچھی بات ہے اور وہ بھی رقم جاری ہونا چاہیے لیکن WPI کو حیرت ہے کہ اس کا 20فیصد پیسہ بھی جاری نہیں کیاگیا۔یہاں پیپر پر فنڈ جاری کرنے کااعلان ہورہا ہے۔لیکن گراؤنڈ پر عوام کو کچھ نہیں مل رہاہے۔ کوویڈ کے زمانے میں 300کروڑ روپئے بی جے پی کے ایک قائد نے حاصل کئے۔ اور اس کو اپنی فکرکے پسندیدہ اسکولوں میں تقسیم کردیا۔ عوامی سطح پر اس رقم کی تقسیم اور ترسیل نہیں ہوسکی۔ پیسہ آرہاہے مبینہ طورپرسیاست دانوں کی جیب میںچلا جارہاہے۔یاپھر حقیقی مستحقین تک پہنچ نہیں پارہاہے۔ 300کروڑ سے متعلق آرٹی آئی ڈالی گئی ہے ، تفصیلات ابھی تک ہاتھ نہیں آئی ہیں ، تفصیلات آتے ہی بتادیاجائے گاکہ اس رقم کاکیاہوا؟۔ جناب طاہر حسین ایڈوکیٹ نے بتایاکہ 30ہزار کروڑ سے زائد رقم کلیان کرناٹک علاقہ کیلئے گذشتہ 13سال میں جاری کی گئی لیکن وہ رقم کہاں گئی پتہ نہیں ، چوں کہ عوام سوال نہیں کرتی ہے ، اسلئے جواب دہی نہیں ہوتی ۔ آرٹیکل 371(J)لانے کیلئے ایک کامیاب تحریک ضرور چلائی گئی لیکن اس کے نفاذ کیلئے کچھ نہیںکیا گیا۔ انھوں نے بتایاکہ ہمارے اس کاروان کے دوران سوشیل جسٹس کے بنیادی ایشو حکومت اورعوام کے سامنے لائے جائیںگے۔حکومت پیسہ جاری کررہی ہے لیکن عوام تک پیسہ نہیںپہنچ رہاہے۔اس سمت میں کام کرنے کی ضرورت ہے کام نہیں کریں گے اورصرف جھنڈا لہرائیں گے تو پارٹی زندہ نہیں رہ سکتی۔موصوف نے ذات پات سے متعلق کل سے ہونے والے سروے کے بارے میں بتایاکہ اس کاسٹ سروے کے بعد سیاسی نقشہ بدل جائے گا۔ 2014-15کے سروے کا ڈاٹالیک ہواتو اس کو تیزی سے دبادیاگیا۔کیوں کہ اس سروے میں بتایا گیاتھاکہ 70%اوبی سی کرناٹک میں ہیں۔اورفل میجارٹی کے ساتھ اس ریاست میں اوبی سی حکومت کرسکتے ہیں۔ کل سے جو سروے ہونے والا ہے ، وہ اسی کاریویو ہے۔ اس کے بعدریزرویشن پالیسی میں تبدیلیاں آسکتی ہیں۔ ہمیں اس سروے کو سنجیدگی سے لیناہے۔ سروے کے بعد جو نقشہ بدلے گا، ریاست میں لوگ سیاسی متبادل تلاش کریں گے۔ ہم کوشش کرسکتے ہیں اس کے لئے۔لہٰذا دیگر ذات کے افراد سے ہماری پارٹی کے مضبوط تعلقات ہوں ۔ جناب مبشرسندھے ضلع صدر WPIبیدر نے بتایاکہ بلاری سے نکلنے والا یہ کارواں بیدر ضلع کے مختلف مقامات تک پہنچے گا۔جیسے بسواکلیان ، بھالکی ، اوراد، ہمناآ باد، بگدل ، کمٹھانہ اور بیدر مستقرپر اختتام پذیر ہوگا۔ انھوں نے اس کی تفصیل بتاتے ہوئے کہاکہ بیدر میں 11اور12اکٹوبر کوکارواں رہے گا۔ بیدر میں پریس میٹ ۔اور بائیک ریلی کے علاوہ امبیڈکر چوک پر پروگرام ہوگا۔کمٹھانہ میں پروگرام کرکے بگدل جائیں گے۔ پدیاترا اور پبلک پروگرام ہوگا۔ رات میں ریاستی ذمہ داران کا قیام بیدر میںہوگا۔ پھر 12؍اکٹوبر کو بیدر میں گاوان چوک پر پروگرام ہوگا۔ بیدر سے بھالکی جائیں گے جہاں کارنر میٹ ہوگی۔پھر بسواکلیان جائیں گے۔ جہاں بائیک ریلی ، کارنر میٹنگ اور رات میں پبلک پروگرام ہوگا۔وہاں سے 13؍ستمبر کو گلبرگہ جائیں گے۔ جناب مجاہد پاشاہ قریشی ریاستی نائب صدر WPIنے بھی اس تعلق سے رہنمائی کی اور بتایاکہ بلاری سے 6؍اکٹو بر کو کارواں نکلے گا۔کارنرمیٹنگ ہوگی وہاںسے ہوس پیٹ جائیں گے ۔ پھر کپل ، رائچور ، یادگیر کے بعد بیدر کادورہ ہوگا۔ اور 13؍اکتوبرکو گلبرگہ میں کارواں اپنے اختتام کو پہنچے گا۔ شہ نشین پر گرام پنچایت بگدل کے نائب صدر جناب محمد ضمیرالدین بھی موجودتھے۔
