اسدگنج گوپن پلی میں جلسہ میلادالنبی سے علماء اکرام کا خطاب
ظہیرآباد 22/ستمبر(مشرقی آواز جدید): منڈل مگڑم پلی کے موضع اسد گنج گوپن پلی میں درگاہ حضرت سید نور الانوار حقیقت نما شاہ قادری چشتی افتخار ی رحمت اللہ علیہ میں کے احاطے میں عظیم الشان پیمانے پر جشن عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔ اس مقدس جلسہ کی سر پرستی و مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت وخصوصی خطاب کرتے حضرت مولانا سید عزیز اللہ قادری صاحب سابق شیخ المعقولات جامعہ نظامیہ حیدرآباد نے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کل کائنات کو ضلالت اور گمراہی سے بچا کر ہدایت کے نور سے منور کرنے اور لوگوں کو جنت کا مستحق بنانے کے لئے تشریف لائے ہیں مولانا نے مفصل و پر اثر انداز میں خطاب کرتے ہوئے کہا امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صیام وصال رکھنا شروع کیے یعنی آپ نے سحری کے وقت کچھ کھاتے اور نہ افطار ی کے وقت کچھ تناول فرماتے متواتر روزے سے رہتے صحابہ کرام کو بھی اداء محبوب پسند آئی۔ اور انہوں نے بھی اسی طرح روزے رکھنا شروع کر دیے جس کی وجہ سے وہ کمزور ہو گئے رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے غلاموں کی کمزوری کو دیکھا تو ان کو ایسے روزے رکھنے سے منع فرمایا۔ ایک صحابی نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تو ایسے روزے رکھتے ہیں اور ہمیں منع فرماتے ہیں اس پر آپ نے ارشاد فرمایا تم میں سے میری مثل کون ہے میں تو رات کو سوتا ہوں تو میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے تو جب صحابہ کرام حضور کی مثل نہ بن سکے پھر تم کون ہو جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مثل ہونے کا دعویٰ کرتے ہو ۔حضرت مولانا محمد یوسف علی صوفی قادری صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان مجھے معلوم کروایں کہ یہ تمام مخلوقات میں سب سے پہلے خداے تعالیٰ نے کس چیز کو پیدا فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے جابر اللہ تعالیٰ نے کل مخلوقات سے پہلے تمہارے نبی کے نور کو اپنے نور سے پیدا فرمایا اور وہ نور قدرت باری تعالیٰ سے جہاں چاہے پھرتا تھا ۔اس وقت نہ لوح تھی نہ قلم نہ دوزخ تھی نہ جنت نہ فرشتے تھے نہ زمین و آسمان نہ آفتاب نہ مہتاب نہ جن نہ انس اور جب اللہ تعالٰی نے مخلوق کی خلقت کا ارادہ فرمایا تو اس نور کے چار حصے فرماے پہلے حصے سے قلم بنایا دوسرے حصے سے لوح بنایا تیسرے حصے سے عرش بنایا اور چوتھے کے چار حصے کیے پہلے سے حاملین عرش کو پیدا کیا۔ دوسرے سے کرسی اور تیسرے سے باقی فرشتے اور چوتھے کے چار حصے فرمایا اور پہلے سے آسمان بنایا اور دوسرے سے زمین تیسرے سے جنت و دوزخ پھر چوتھے کے تین حصے فرمایا پہلے سے اہل ایمان کی بصیرتوں کا نور بنایا دوسرے سے ان کے دلوں کا نور بنایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کرے اور تیسرے سے ان کے سانس کا نور بنایا اور وہ تو حید ہے یعنی لا الہ الااللہ محمدرسول اللہ۔واضح رھےکہ اس مقدس جلسہ کی نگرانی حضرت مولانا خواجہ محمد اعجاز علی شاہ قادری چشتی افتخار ی انوار ی سجادہ نشین بارگاہ حضرت سید نور الانوار حقیقت نما شاہ قادری چشتی افتخاری قبلہ رحمت اللہ علیہ اسد گنج نے فرمائی اس جشن عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا آغاز حضرت مولانا محمد یوسف علی صوفی قادری کی قرأت کلام پاک سے ہوا جب کہ مولوی سید سلیم الہامی حیدرآباد حمد و نعت شریف سنانے کی سعادت حاصل فرمایا۔جلسہ میں حیدرآباد ،کرناٹک مہاراشٹرا کے علاوہ مقامی مرد حضرات و خواتین نے کثیر تعداد میں شرکت فرمائی۔بعد جلسہ کے محفل سماع کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔۔۔
