دارالعلوم جلیلیہ فرقانیہ جرول میں ٢/ روزہ جلسۂ دستار بندی میں 255 علماء اور حفاظ کی ہوئی دستار بندی

نان پارہ، بہرائچ (محمد رضوان گوہرندوی): پہلے تعلیم و ثقافت سے گھروں میں اجالا اور دل و دماغ میں روشنی پیدا ہوتی تھی، اب تعلیم کے اندر بھی سیاست داخل ہو گئی،اس لئے جمہوری ملک میں بھی گندی سیاست ثقافت اور تعلیم کے نام پر کفر و شرک کو فروغ دے رہی ہے، آج ایسے داعیوں کی ضرورت ہے جو مختلف زبان پر مہارت کے ساتھ مزاج شناس بھی ہوں، باریکی کے ساتھ اپنے خلاف ہو رہی سازشوں کو سمجھنے والے ہوں اور بھرپور تیاری کے ساتھ معقول جواب دینے کی ہمت اور صلاحیت رکھتے ہوں ، بیمار ہم ہیں تو علاج بھی ہمیں کو تلاش کرنا ہے، اس سلسلے میں فکر مند ہونا وقت کی ضرورت ہے، ان خیالات کا اظہار دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے استاذ حدیث مولانا عامر بیگ ندوی نے دارالعلوم جلیلیہ فرقانیہ جرول قصبہ، بہرائچ (ملحقہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ) میں منعقد دو روزہ جلسہ دستار بندی کو خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انھوں نے زور دے کر کہا کہ تعلیم بہت اچھی چیز ہے لیکن اگر تعلیم کفر و شرک کی طرف ہمارے نونہالوں کو لے جائے تو وہ تعلیم فتنہ ہے، جو تعلیم اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات سے دور کردے وہ سنگین فتنے سے کم نہیں ہے، موجودہ دور میں ہمیں بہت سمجھ بوجھ کر فیصلہ لینے کی ضرورت ہے. دو روزہ اجلاس میں تقریباً 255 علماء کرام اور حفاظ کی دستار بندی کی گئی، آخر میں مدرسہ کے اساتذہ، ملازمین، ذمہ داران کی بھی شال پوشی اور گل پوشی کرکے ان کی خدمات کا اعتراف کیا گیا. پہلے دن مولانا عمران ندوی جرولی نے اور دوسرے دن ابو شحمہ ندوی نے اجلاس کی نظامت کی، دار العلوم جلیلیہ کے مہتمم رئیس القراء قاری عبد المعید کی تلاوت سے اجلاس کا آغاز ہوا، حمد و نعت کا نذرانہ حافظ خلیل الرحمن نے پیش کیا، مولانا احسان ندوی کا تحریر کردہ ترانہ جلیلیہ کافی پسند کیا گیا۔

اس موقع پر مہمان علماء نے تعلیم کی ضرورت اور قرآن کی اہمیت کے ساتھ معاشرے کے تقاضوں پر تفصیل سے روشی ڈالی، مولانا کوثر ندوی نے کہا کہ عالم انسانیت کی سعادت و ترقی اور کامیابی قرآن کے اچھے سلوک میں پوشیدہ ہے، جہاں قرآن کے ساتھ شایان شان معاملہ نہیں ہوگا عزت و عظمت اور ترقی وہاں سے دور چلے جاتے ہیں، دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے استاذ تفسیر و ادب مولانا سلمان نسیم ندوی نے کہا کہ قرآن ایک دستور ہے، اس کے مطابق زندگی گزارنے کی ضرورت ہے، صرف حفظ قرآن کافی نہیں ہے؛ حلال و حرام کی تمیز کے بغیر سب ناقص ہے، قرآن کے مطابق عمل کرنے والے شخص کو قیامت کے دن تاج پہنایا جائے گا، قرآن ایک انقلابی کتاب ہے، انھوں نے کہا کہ زندگی کے ہر موڑ پر حکمت و دانائی کو ملحوظ رکھیں، جوش میں ہوش کھونا مناسب نہیں ہے، شیخ الحدیث مولانا خالد غازی پوری نے اپنے خطاب میں کہا کہ جواپنے اندر عاجزی اور فروتنی پیدا کرتا ہے ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے، مفتی محفوظ الرحمن قاسمی نے کہا کہ بعثتِ نبوی کے بہت سے مقاصد مکاتب و مدارس سے پورے ہوتے ہیں، اس لیے مدارس کا قیام ان کی حفاظت اور ان کے سربلندی کے لیے مسلمانوں کو ہر طرح کا تعاون پیش کرنا وقت کی ضرورت ہے. مولانا عبد الرحیم ندوی أستاذ تفسیر و ادب ندوۃ العلماء نے عقائد، عبادات، معاملات و معاشرت کے شعبوں اور اخلاقیات پرجب کہ مولانا غفران ندوی نے علم دین کی اہمیت، قرآن مجید کی اثر پذیری پر روشنی ڈالی۔

جمعیۃ علماء ہند یوپی کے ذمہ دار امین الحق عبد اللہ قاسمی کانپوری نے موبائل و انٹرنیٹ کے ذریعے پھیلے فتنوں پر خطاب کیا اور کہا کہ پوری سازش اور تیاری کے ساتھ ہماری نئی نسل کو فلموں، ڈراموں، سیریلون اور کھیلوں میں پھنسا دیا گیا ہے، جدید چیلنجز کا مقابلہ بغیر تیاری اور بغیر بصیرت ناممکن ہے۔

اجلاس دستار بندی میں دور دور سے علماء اور حفاظ سمیت عوام و خواص کی بڑی تعداد شریک ہوئی، جس میں مولانا احمد علی ندوی،مولانا علی مرتضیٰ ندوی، قاری عبد المعید، مولانا صابر ندوی، مفتی محمد طیب قاسمی، مفتی محفوظ الرحمن قاسمی، مولانا منیر احمد ندوی، مولانا محمد رضوان ندوی نان پاروی، مفتی زبیر احمد ندوی، ودھائک آنند کمار یادو، ماسٹر کلیم الدین انصاری، ماسٹر مبشر حسین ،شکیل احمد ندوی، مولانا محمد سلمان ندوی، صحافی کمال احمد، ڈاکٹر ابو طلحہ ندوی سیتاپوری، محمد اعظم ندوی، مولانا محمد سرور قاسمی،ابو علقمہ محفوظ ندوی، قاری شریف احمد ،مولانا محمد احسان ندوی، شفیق الرحمن ندوی ، مولانا یحییٰ ندوی، قاری شفقت، قاری مبین، مولانا اطہر ندوی، مولانا رئیس ندوی وغیرہ کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے