تحریر: ڈاکٹر شارب مورانوی بارہ بنکی انڈیا

تعلیم انسان کی زندگی میں وہ روشن چراغ ہے جو اسے تاریکی سے نکال کر منزل کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ یہ وہ زیور ہے جو انسان کو نہ صرف معاشرے میں باعزت مقام دیتا ہے بلکہ اس کی شخصیت کو نکھار کر اسے زندگی کے ہر میدان میں کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے۔

تعلیم کا مقصد محض ڈگریاں حاصل کرنا یا روزگار کا حصول نہیں ہے، بلکہ یہ انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو جِلا بخشتی ہے۔ یہ انسان کو صحیح اور غلط میں فرق کرنا سکھاتی ہے، اس کے اندر برداشت، ہمدردی اور تنقیدی سوچ جیسی صفات پیدا کرتی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ شخص نہ صرف اپنے حقوق سے آگاہ ہوتا ہے بلکہ دوسروں کے حقوق کا بھی احترام کرتا ہے۔

آج کے مسابقتی(Competitive) دور میں تعلیم کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ جو قومیں تعلیم کے میدان میں ترقی کرتی ہیں، وہی معاشی، سماجی اور تکنیکی طور پر دنیا میں اپنا لوہا منواتی ہیں۔ جاپان، سنگاپور اور فن لینڈ جیسے ممالک ترقی یافتہ اس لیے ہیں کہ انہوں نے تعلیم پر خصوصی توجہ دی ہے۔

تعلیم غربت اور جہالت کے خلاف ایک طاقتور ہتھیار ہے۔ یہ معاشرے سے ناانصافی، فرقہ پرستی اور انتہا پسندی جیسے امراض کو ختم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ ایک پڑھا لکھا نوجوان ہی قوم کا صحیح معنوں میں سرمایہ ہوتا ہے جو ملک کی ترقی اور خوشحالی کی بنیاد رکھتا ہے۔

حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر شہر، ہر گاؤں اور ہر بچے تک معیاری تعلیم کی سہولیات پہنچائے۔ سکولز کا قیام، اساتذہ کی تربیت اور جدید نصاب کا اجراء اس سلسلے کی اہم کڑیاں ہیں۔ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم پر خاص توجہ دیں، خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم کو ترجیح دیں کیونکہ ایک تعلیم یافتہ خاتون پوری نسل کو سنوار سکتی ہے۔

خلاصہ یہ کہ تعلیم ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو فرد اور قوم دونوں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ یہ ہماری سماجی و معاشی ترقی کی کنجی ہے۔ اسے ہر شہری کا بنیادی حق سمجھتے ہوئے اس کے فروغ کے لیے ہمہ گیر کوششیں کرنی چاہئیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے