مولانا ڈاکٹرمحمد فرمان ندوی
استاذ دار العلوم ندوۃ العلماء ، لکھنؤ

مقبول ومحبوب استاذ :
ابھی دار العلوم ندوۃ العلماء کے مولانا ڈاکٹر نذیر احمد ندوی کے انتقال کے چند ہی دن ہوئے کہ سوشل میڈیا میں بہت سے مضامین ومقالات نشر کئے جارہے ہیں ، اور تعزیتی جلسے منعقد کئے جارہے ہیں ، یہ مضامین لکھنے والے مولانا مرحوم کے بڑے بھی ہیں ، معاصرین بھی ہیں ، اور خورد و شاگرد بھی ہیں ، ان تمام مضامین میں قدر مشترک چیز یہ ہے کہ مولانا کا انتقال علمی و ادبی دنیا کا ایک بڑا سانحہ اور دل و دماغ کو متأثر کر نے والا واقعہ ہے ، کہا جاتا ہے کہ زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو ، اور حدیث میں آیا ہے کہ أنتم شھداء اللہ علی الأرض (صحیح بخاری) (تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو)، اور امام احمد بن حنبل ؒکا مشہور جملہ ہے کہ قولوا لأھل البدع : بیننا و بینکم الجنائز (بدعتیوں سے کہہ دو کہ ہمارے اور تمہارے درمیان جنازے فیصلہ کریں گے)، مولانا نذیر احمد ندوی کے جنازہ کی نما ز مجمع عام کی وجہ سے بڑے میدان میں ادا کی گئی ، کیونکہ مجمع اتنا زیادہ تھا کہ مسجد کی دائیں سمت مہمان خانہ کے لان میں جہاں عام طور پر نماز جنازہ ہوتی ہے ، اس کی گنجائش نہیں تھی ، جب کہ انتقال اور جنازہ کے درمیان صرف چار پانچ گھنٹے کا فرق تھا ، اس سے معلوم ہوا کہ مولانا کی شخصیت ہر خاص و عام میں بڑی مقبول ہے ، سچ ہے کہ مولانا اپنے فن میں باکمال ہونے کے ساتھ ایک بے ضرر انسان تھے ۔

جو اہل ظرف ہوتے ہیں ہمیشہ جھک کے ملتے ہیں
صراحی سر نگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ

تعمیر سیرت کے عوامل و محرکات :
کسی بھی شخصیت کی تعمیر بنیادی طور پر ان عوامل و محرکات کی وجہ سے ہوتی ہے، جو اس کے پیچھے کار فرما ہوتے ہیں، مولانا کی سیرت و کردار میں وہ بنیادی افراد جن پر ان کی ذاتی اور علمی وادبی زندگی کی عمارت قائم ہے ، والدین ہیں، ان کی توجہ کے بعد اساتذہ دار العلوم کی خصوصی عنایت و شفقت ہے، اس سے بھی بڑھ کر ندوۃ العلماء کی علمی و روحانی فضا ہے، جہاں سوا سو سال سے قال اللہ و قال الرسول کے زمزمے بلند ہوتے ہیں ، اور جس کے متعلق کہنے والے نے کہا ہے : جو دل نہ کھنچے اس کی جانب بے سوز ہے وہ، بے ساز ہے وہ ، اس ماحول میں انہوں نے پرورش پائی ، جن اساتذہ نے ان کو سنوارا نکھارا ، ان میں عناصر ثلاثہ حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی ، حضرت مولانا سید واضح رشید حسنی ندوی ، حضرۃ الاستاذ مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی قابل ذکر ہیں ، جن سے مولانا نذیر احمد ندوی بہت مانوس تھے ، انہوں نے ان کو ایسا نکھارا ، سنوارا اور صیقل کیا کہ وہ آسمان علم کے نجم درخشاں اور نیز تاباں بن کر چمکے ۔ان کے علاوہ (۱)رسوخ فی العلم کی کوشش ،(۲) مقصد کی دھن(۳) خشیت الہی (۴) صبر و ضبط نے ان کی ذات کو مزید پر کشش اور مؤثر بنادیا تھا۔

ذوقی موضوع :
مولانا نذیر احمد ندوی نے اگر چہ دار العلوم ندوۃ العلماء میں حدیث شریف میں اختصاص کیا،لیکن ان کی پوری زندگی عربی زبان و ادب کی تدریس میں گذری ، عربی زبان سے ان کو عشق کی حد تک لگاؤ تھا، انہوں نے عربی زبان کو اس لئے سیکھا اور سکھایا کہ وہ قرآن کی زبان ہے ، رسول عربی ﷺ کی زبان ہے ، اور اہل جنت کی زبان ہے ، اور یہی ان کا ذوق اور حال بن گیا تھا ، مولانا عربی زبان کی تدریس میں ایسا انداز اختیار کرتے کہ مخاطبین اور طلباء ان کے درس کو پورے طور پر ہضم کر لیتے ، الفاظ کی دلنشیں تشریح ، اور ان کے فروق کی وضاحت ، اردو محاوروں اور ضرب الأمثال کا برمحل استعمال ،، کئی زبانوں میں الفاظ کے معنی کی وضاحت، اس پر مستزاد ان کا عربی لہجہ ، انداز تکلم درس کو مؤثر بنا دیتا، اور طلباء ہمہ تن گوش ہو جاتے، انہوں نے اپنے ایک محبوب و مقبول استاذ مولانا برجیس احمد ندوی سے بہت زیادہ متأثر تھے ، وہ اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں :
’’مولانا سے ذہنی مناسبت اور قلبی یگانگت تو زمانۂ طالب علمی ہی سے رہی تھی ، لیکن رشتۂ تدریس میں منسلک ہو نے کے بعد قربت اور یکجائی کے مواقع زیادہ میسرآئے ، مولانا کو بارگاہ ایزدی سے آواز سامعہ نواز عطا ہوئی تھی ، جو دامن دل کو اپنی جانب مائل کرتی تھی ، اور ان کی پر سوز و پر کشش آواز کو سن کر بے ساختہ یہ شعر یاد آجاتا تھا :

جان رگ رگ سے کھنچی آتی ہے کانوں کی طرف
کیا قیامت کی کشش اُف تری آواز میں ہے ‘‘

تحریری و تقریری سرمایہ :
مولانا نذیر احمد ندوی کی عربی تحریروں کے نمونے تو الرائد کے صفحات پر بکھرے ہوئے ہیں ، جن سے ان کی زبان شناسی و زبان دانی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ،مولانا نے متعدد کتابوں پر مقدمے لکھے ہیں ، جو عربی میں ہیں اور ان کی انشاء و عربی دانی کا نمونہ ہیں ،مولانا کی عربی سے اردو ترجمہ کا ایک نمونہ ابھی جلد ہی شائع ہوا ہے ، وہ یہ ہے کہ ندوۃ العلماء کے ساتویں اجلاس منعقدہ عظیم آباد ۱۳۱۸ھ میں مولانا عبدالحمید صادق پوری نے ایک عربی نظم پیش کی تھی ، وہ نظم اپنے مواد و معانی کے لحاظ سے اس لائق تھی کہ اس کا ترجمہ کیا جائے،یہ سعادت مولانا نذیر احمد ندوی کے حصہ میں آئی ، اور انہوں نے بامحاورہ ترجمہ کیا۔ ذیل میں تین اشعار اور ان کے ترجمے پیش کئے جا رہے ہیں: لکم بشری وجاء کم الوفود أتم مناکم الدھر العنود (آپ کے لئے خوشی خبری ہے، اور آپ کے پاس وفود کی آمد ہوئی ہے ، اس طرح سرکش، مشکل ترین ، مخالف زمانہ نے آپ کی آرزو کی تکمیل کی ہے)۔
بحمد اللہ قد جاءت رجال من الأعلام ھم نعم الوفود بحمد اللہ ایسے معروف و ممتاز مردان کار تشریف لائے ہیں جو بہترین وفد ہیں ۔کرام أتقیاء أصفیاء یضییٔ جباھھم لیلا سجود جو شرفاء ، اہل تقوی اور اصحاب صدق و صفا ہیں ، جن کی پیشانیاں بوقت شب سجدے سے روشن ہیں (مثنوی و قصیدہ ص: ۴۸، مطبوعہ علامہ مہ سید سلیمان ندوی تحقیقات اسلامی، لکھنؤ)
مولانا نذیر احمد ندوی نے دار العلوم ندوۃ العلماء میں عا لمیت ۱۹۸۷؁ء میں کی ، اور ۱۹۸۹؁ء میں تخصص فی الحدیث سے فارغ ہوئے،ان کے تخصص کے مقالہ کا عنوان تھا : أحادیث الفتن والملاحم ، یہ مقالہ ڈھائی سو صفحات میں آج بھی کتب خانہ شبلی نعمانی کے شعبہ مقالات میں موجود ہے، مولانا نے لکھنؤ یونیورسٹی کے شعبہ عربی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، اس کا موضوع بھی أدب الفتن والملاحم فی الحدیث و النبوی الشریف ، گویا آپ نے تخصص فی الحدیث کے مقالہ کو دوبارہ مفصل انداز میں لکھا اور ۳۶۰ صفحات میں بڑے سائز میں یہ مقالہ جمع کیا گیا ہے، یہ مقالہ پروفیسر شبیر احمد ندوی سابق صدر شعبہ عربی لکھنؤ یونیورسٹی کی نگرانی میں لکھا گیا، مقالہ چار ابواب میں منقسم ہے، پہلا باب ادب اور اس کی حقیقت اور موضوع، تاریخ ، علوم ، اقسام وغیرہ پر مشتمل ہے، دوسرا باب: زمانہ نبوت کا عربی ادب، اس کی تفصیلات اس میں پائی جاتی ہیں یعنی رسول اکرم ﷺ کی ادبی خصوصیات، اصناف ادب، وغیرہ ۔ تیسرا باب ادب عربی میں حدیث نبوی کی اثر انگیزی ہے، اس میں ادبی ناحیہ سے حدیث کا مطالعہ پیش کیا گیا ہے، چوتھے باب میں فتن اور جنگ کی احادیث کا ادبی مطالعہ پیش کیا گیا ہے، جس میں عام فتنے، خاص فتنے اور قرب قیامت کی چھوٹی بڑی علامتوں کا تذکرہ مفصل اور محقق انداز میں ہے، یہ کتاب مقدمہ اور خاتمہ سے مزین ہے، اور فن اصول مقالہ نگاری سے متصف ہے ، اس مقالہ کی تیاری میں ۱۱۶؍ حوالے جات اور مراجع و مصادر کا تذکرہ ہے ۔واضح رہے کہ مقالہ نگار نے مقدمہ میں مولانا عبید اللہ فراہی سابق صدر شعبہ عربی لکھنؤ یونیورسٹی، اور مشرف مقالہ ڈاکٹر شبیر احمد ندوی کے علاوہ مولانا سید محمد واضح رشید حسنی ندوی اور مولانا محمد یعقوب ندوی استاذ دار العلوم ندوۃ العلماء کا خاص طور سے شکریہ ادا کیا ہے۔
مولانا نذیر احمد ندوی کے عربی خطابت کا انداز ان تقریروں سے ظاہر ہوتا ہے جو انہوں نے النادی العربی کے اسٹیج سے دار العلوم ندوۃ العلماء میں کئے ،ادھر کلیۃ اللغۃ کے تحت رحلات ثقافیہ و علمیہ کا سلسلہ شروع ہوا تو مولانا اس کے بنیادی افراد میں تھے، جن کے ذریعہ رحلات کے پروگراموں کو مرتب کرنے اور طلباء کو تیار کرنے میں مدد ملتی تھی، مولانا بذات خود ان میں شریک ہوتے تھے، اور متعدد پروگراموں کی صدارت بھی کرتے تھے، اور شستہ عربی میں خطاب بھی کرتے تھے۔ ابھی اسی سال اللجنۃ الثقافیۃ للنادی العربی دار العلوم ندوۃ العلماء کے تحت ان کا ایک قیمتی محاضرہ ۱۱؍ذی قعدہ ۱۴۴۷ھ ہوا، جس کا عنوان تھا: النشاطات الثقافیۃ و دورھا فی تنمیۃ المھارات اللغویۃ، اس موضوع پر مولانا کا پرمغز خطاب ہوا، مولانا نے آدھے گھنٹے تسلسل سے عربی زبان میں خطاب کیا، اور اس کے بعد سوالات کے جوابات بھی دئیے، جس سے طلباء کو بے حد فائدہ پہونچا۔
مولانا نے ابھی چند سال پہلے صدائے دل کے نام سے ایک مجموعہ جو مولانا عبدالغفار ندوی نگرامی کے اشعار پر مشتمل ہے ، مرتب کیا، اور اس میں ایک تفصیلی مقدمہ بھی لکھا ہے ، واضح رہے کہ یہ اشعار منتشر اور بکھرے ہوئے تھے، لیکن مولانا کے حسن توجہ سے یہ مرتب ہوئے، اور مکتبہ ضیاء البدر مدح گنج کھدرا سے شائع ہوئے، اس کام کے پیچھے مولانا کا وہی جذبہ احسان شناسی تھا کہ مولانا عبد الغفار ندوی( سابق استاذدار العلوم ندوۃ العلماء ) مولانا نذیر احمد ندوی کے استاد تھے، جن سے انہوں نے نحو و صرف میں خاص طور پر استفادہ کیا تھا، اور ان کی زندگی میں ان کے ممنون رہے، انتقال کے بعد ان کے صاحبزادگان مولانا حسان ندوی، اور مولانا غیاث الدین ندوی سے بھی برابر تعلق رہا۔

افراد ساز شخصیت :
غرض مولانا نذیر احمد ندوی ایک افراد ساز شخصیت تھے ، ان کے ذریعہ ہزاروں طلباء بنے ، سنوارے اور ان کو اپنی مستقبل کے سنوارنے میں بڑی مدد ملی، مولانا نذیر احمد صاحب سے طلباء درجے میں تو پڑھتے ہی تھے ، خارجی اوقات میں ان سے استفادہ کا سلسلہ رہتا، کسی کو کمرہ میں، کسی کو مسجد میں ، کسی کو راستہ چلتے یہ فیض پہونچاتے ، میں نے خود دیکھا ہے کہ لوگ ان کو اپنی کتابوں کے مسودات دیتے اور وہ ان پر نظر ثانی کرتے ، کئی پی ایچ ڈی کے مقالات کی تصحیح و ترتیب میں ان کا غیر معمولی حصہ ہے ۔ اس طرح انہوں نے پس پردہ رہ کر علم وادب کی خدمت کی اور افراد کو تیار کیا ، مولانا نے دار العلوم میں کئی سال تک ہاسٹلوں میں طلباء کی نگرانی بھی کی ، اور ان کی تربیت میں کوئی کمی نہیں کی ، ہمہ وقت فکر مند رہا کرتے تھے، اور ان کی اصلاح و تربیت کے لئے نئے نئے اسالیب اور طریقے سوچا کر تے تھے ، ان کی زیر نگرانی رہنے والے ایک طالب علم جو آج کل ینبوع سعودی عرب میں ہیں انہو ں نے مولانا کے انداز نگرانی کے بارے میں بتایا تو سن کر حیرت بھی ہوئی ، اور مسرت بھی ، یہی وجہ ہے کہ طلباء نے بھی ان سے غیر معمولی محبت کا مظاہر ہ کیا ، اور دل کے نہاں خانہ میں جگہ دی ہے ، اور صحیح معنوں میں مولانا نے اپنے حسن اخلاق ، نرم گفتار اور مثالی سیرت و کردار سے دلوں کو فتح کر لیا ۔اور سچ کہا ہے کسی کہنے والے نے :

جو دلوں کو فتح کرلے وہی فاتح زمانہ

آج بھی درجہ کے طلباء ان کے انداز تدریس ، اور شفقت بھرے انداز کو یاد کرکے اپنی عقیدت و محبت کا نذرانہ پیش کرر ہے ہیں ، اللہ تعالی ان کو غریق رحمت فرمائے، ان کی حسنات کو ان کے رفع درجات کا ذریعہ بنائے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے