رپورٹ: ڈاکٹر جاوید کمال
سدھارتھ نگر: گزشتہ پانچ نومبر کو ادبی تنظیم تہذیب کے زیر اہتمام ایک مشاعرے کا انعقاد رسم آغاز کو نبھاتے ہوئے کیا گیا ۔ شہر کے ایک مقامی ہوٹل میں دیر شام شروع ہوئے اس مشاعرے میں صوبے کے کئی شاعروں اور کویوں نے شرکت کی۔ جن میں نوجوان شعرا کی تعداد زیادہ رہی۔ تنظیم تہذیب کا مقصد یہی تھا کہ کچھ نیے اور ابھرتے ہوئے شعراء کو سنا جائے۔ ان کی یہ کوشش کافی حد تک کامیاب بھی رہی۔ پروگرام کی خاص بات بین الاقوامی شاعر اظہر اقبال کی موجودگی رہی۔ جسے سننے کے لیے دور دور سے سامعین آئے۔ تہذیب کے اس دوسرے سالانہ پروگرام کی باقاعدہ شروعات کرتے ہوئے مشاعرے کو ایک اونچائی تک پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ اس مشاعرے میں خصوصی طور پر گورکھپور سے ڈاکٹر چیتنا پانڈے، جے پور راجستھان سے میرا دویہ سسودیا، دیوریا سے نیہا اوجھا، بلرام پور سے اکرم مر رام پوری، دہلی سے آصف بلال، گونڈا سے اروند عنایت، سدھارتھ نگر سے شاداب شبیری، شیو ساگر سحر، سنگھ شیل جھلک، ڈاکٹر فضل الرحمن، برھم دیو شاستری پنکج اور ڈاکٹر جاوید کمال موجود رہے۔ ان سبھی شعراء نے ایک سے ایک کلام پیش کیے جنہیں سامعین کی خوب واہ واہی ملی۔ دیر رات تک سامعین مشاعرے کے ساتھ جڑے رہے۔
آخر میں بین الاقوامی شاعر اظہر اقبال کی باری پر سامعین نے تالیاں بجا کر ان کا زوردار خیر مقدم کیا۔ بدھ کی سرزمین سدھار نگر کو ایک بین الاقوامی پہچان بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "میرے جیون میں کسی ورکش کی بھانتی آؤ، اپنے سائے میں رکھو اور تتھاگت کر دو”۔ اس شعر پر دیر تک تالیاں بجتی رہیں۔ اسی سلسلے میں انہوں نے آگے کہا کہ "میری مٹی کا بدن جب سے چھوا ہے اس نے، اٹھ رہی ہے میرے بدن سے گگن کی خوشبو”۔ قومی یکجہتی کے نام انہوں نے یہ شعر پڑھا- "دشمن ہی بنی بیٹھی ہے تنہائی ہماری, تم جان نہیں پاؤ گے کٹھنائی ہماری، ہے ساکشی کاشی کا ہر ایک گھاٹ ابھی تک، ہوتا تھا بھجن آپ کا شہنائی ہماری”۔ قومی یک جہتی کی جو خوبصورتی اظہر اقبال کی شاعری میں دیکھنے اور سننے کو ملی ایسا دیکھنے سننے کو کم ہی ملتا ہے۔ ان کی خاصیت یہ ہے کہ ایک ہی شعر میں اردو اور ہندی کے الفاظ کو اس خوبصورتی کے ساتھ ایک ساتھ ملا کر شعر کہتے ہیں کہ سننے والا واہ واہ کے بنا نہیں رہ سکتا۔
پروگرام کے مہمان خصوصی رضوان بلڈر رہے۔ صدارت شہر کے سینیر طبیب اور شاعر ڈاکٹر جاوید کمال نے کی۔ نظامت کا ذمہ دہلی سے آئے آصف بلاگ نے بخوبی انجام دیا۔ آخر میں مشاعرے کے منتظمین شیو ساگر سحر، شاداب شبیری اور سنگھ شیل جھلک نے سبھی کا شکریہ ادا کیا۔
