تالیکوٹ: ٹیپو سلطان دلیری، شجاعت اور بہادری کی علامت تھے۔ وطنِ عزیز کے لیے انگریزوں کے خلاف بے خوف ہوکر لڑتے ہوئے شہادت پانے والے یہ عظیم رہنما آج کے نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ بننا چاہیے  یہ بات مسلم مذہبی رہنما سید شکیل احمد قاضی نے کہی۔
جمعہ کے روز شہر کے ٹیپو سرکل میں حضرت ٹیپو سلطان رکشا کمیٹی کی جانب سے منعقد یومِ پیدائش کی تقریب کی صدارت کرتے ہوئے انہو نے کہا ۔اور اسی موقع پر رہنما روشن ڈونی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے دفاع کے لیے انگریزوں سے کوئی سمجھوتہ نہ کرتے ہوئے اپنے بچوں تک کو داؤ پر لگا کر لڑنے والے بہادر بادشاہ ٹیپو سلطان کا حب الوطنی بھرپور قابلِ تقلید ہے۔
رہنما عبدالرزاق منگولی نے کہا کہ ٹیپو سلطان کثیرالمذاہب ہم آہنگی رکھنے والے تھے۔ انہوں نے کبھی ذات پات کی بنیاد پر امتیاز نہیں کیا۔ ان کے دربار میں ہر مذہب اور ہر طبقے کے لوگ موجود تھے۔ ملک کی کئی مندروں کو انہوں نے دل کھول کر عطیات دیے تھے۔ ان کی سیرت و شخصیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
بلدیہ کے سابق رکن پربھو گوڈا مدرکل نے کہا کہ ٹیپو سلطان عظیم و شان حکمران تھے۔ انہوں نے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے بے شمار کام انجام دیے۔ صرف ان کی سالگرہ منانا کافی نہیں بلکہ ان کی زندگی کے اصولوں کو اپنانا ضروری ہے۔ رہنما پَرَشُورام تنگڑگی اور سائل مورال نے بھی خطاب کیا۔
اسی دوران یومِ پیدائش کے موقع پر منعقدہ خون دان کیمپ میں خون دینے والوں کو سند پیش کرکے اعزاز دیا گیا۔ ابتدا میں حضرت ٹیپو سلطان رکشا کمیٹی کے صدر عمر فاروق منگولی نے پرچم کشائی کی۔
تقریب میں کمیٹی کے نائب صدر ریاض ڈونی، سیکریٹری اللہ بخش چلّی گِدّا، شہر کے معززین سیدن گوڈا پاٹیل (ناودگی)، سکندر  وٹھار، ملیکاارجن پٹن شیٹی، محبوب چورگشتی، مصطفیٰ چودھری، فیاض اُتنال، منجور بیپاری، خواجہ حسین کٹّی، حسین کورتی، مینو بیپاری، نبی چورگشتی، بوران کلاسی، شفیق انعامدار، آصف کیمباوی، اور کمیٹی کے ارکان صدام ھونلی، محبوب لاہوری، عبد الرحمن وٹھار، صدام بیپاری، راجو چیترگی، ایان مکاندار، امتیاز استاد اور دیگر موجود تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے