بیدر۔ 24؍نومبر(محمدیوسف رحیم بیدری): تلنگانہ اردو اکیڈیمی کی جانب سے شہر حیدرآباد کے تین ممتاز شعراء کرام کو باوقار اعزاز سرفراز کئے جانے پر کل شب ایوانِ حضرت بقاؔ واقع بیگم پیٹ سکندرآباد میں ایک شاندار تہنیتی تقریب کا انعقاد عمل میں آیا۔ داعیء محفل معروف شاعر سیفؔ نظامی نے ممتاز شاعر، ادیب و صحافی ڈاکٹر محسنؔ جلگانوی کو مولانا آزاد قومی ایوارڈ، سنیر شاعر و ادیب مصحفؔ اقبال توصیفی کو مخدوم ایوارڈ اور ممتاز شاعر و ناظم مشاعرہ ظفرؔ فاروقی کو کارنامہء حیات ایوارڈ ملنے پر پُر خلوص تہنیت پیش کی۔ بنگلور سے تشریف لائے نامور ادیب شاعر و نقاد ڈاکٹر راہیؔ فدائیؔ اور ریاست مہاراشٹرا کے شہر اکولہ سے تشریف لائے سابق سیشن جج و ممتاز شاعر منظور ندیمؔ نے اس تقریب میں بحثیت مہمانان خصوصی شرکت کی۔ ڈاکٹر راہیؔ فدائی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اہل علم و فن کی ان کی حین حیات میں قدر و منزلت ہونی چاہئے نیز ان کی خدمات کا اعتراف ان کے حوصلوں کو مزید تقویت پہنچاتا ہے۔ انہوں اس تقریب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک یادگار نشست ہے جہاں صرف اہل علم و دانش موجود ہیں۔ بہترین شعراء نے اپنا معیاری کلام پیش کرکے آج دل موہ لیا۔ اگرچہ کہ فی زمانہ مشاعروں میں شاعری کم اور ڈرامہ بازی زیادہ نظر آتی ہے نہ کلام میں معنویت ہوتی ہے نہ زبان میں ندرت۔ادب کے شائقین کے لئے یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ سطحی کلام اور تک بندی کی حوصلہ افزائی کریں اس سے ادب کا بہت نقصان ہوتا ہے۔ شاعری زبان و ادب کے فروغ کا ذریعہ ہوتی ہے شاعر کو سامعین کی سطح پر نہیں اترنا چاہئے بلکہ سامعین کو اپنی سطح پر لانا شاعر کا کام ہے۔
ایوراڈ یافتگان کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر راہیؔ فدائی نے کہا کہ یہ ایوارڈ حاصل کرنا ان کے لئے باعث افتخار نہیں بلکہ ایوارڈ دینے والوں کے لئے اعزاز کا باعث ہے۔ انہوں نے تلنگانہ اردو اکیڈیمی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اس سال جس طرح ایوارڈز دیئے گئے وہ بالکل حق بجانب ہیں آئندہ بھی تلنگانہ اردو اکیڈیمی اسی طرح غیر جانب داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مستحقین کو اعزازات عطا کرے۔ایک اور مہمان سابق سیشن جج مہاراشٹرا منظور ندیمؔ نے کہا کہ اس طرح کی معیاری ادبی محافل کا فقدان ہوگیا ہے ایسے میں سیفؔ نظامی اس کا احیا کر کے قابل تحسین و قابل تقلید کام سر انجام دے رہے ہیں ملک کے دیگر شہروں میں بھی ایسی محفلیں منعقد ہونی چاہئے عموماََ دیکھا گیا ہے کہ جہاں معیاری شعراء ہوتے ہیں وہاں معیاری سامعین نہیں ہوتے لیکن ایوانِ حضرت بقاؔ میں شعراء اور سامعین دونوں معیار کے اُونچے مقام پر براجمان ہیں۔
ڈاکٹر محسن جلگانوی نے اس تہنیتی تقریب کے انعقاد پر داعی محفل کے ساتھ ساتھ حاضرین کا بھی شکریہ ادا کیا۔بعد ازاں پروفیسر رحمتؔ یوسف زئی کی صدارت میں ایک فقیدالمثال مشاعرہ منعقد ہوا۔ ممتاز شاعر ارشدؔ شرفی نے بحسن و خوبی نظامت کے فرائض انجام دئے۔صدر مشاعرہ کے علاوہ مصحفؔ اقبال توصیفی، ڈاکٹرمحسنؔ جلگانوی،ڈاکٹر راہیؔ فدائی، ڈاکٹر فاروق شکیلؔ،سیفؔ نظامی، ارشدؔشرفی، قاضی اسدؔ ثنائی، ظفرؔ فاروقی، نویدؔ جعفری، ڈاکٹر علیمؔ خان فلکی، شکیلؔ حیدر اور سعداللہ خان سبیلؔ نے اپنا مرصع کلام پیش کرکے داد و تحسین پائی۔
اس موقع پرانجینئر نعیم بشیر، محمد ہاشم صدر بزم محبان تلنگانہ، این آر آئی صلاح الدین، معروف غزل گلوکار عدنان سالم، شیخ نعیم ، جناب سید مقصود قومی صدر راشٹریہ مسلم مورچہ موجود تھے۔ تمام شعراء اور حاضرین کے لئے پُرتکلف عشائیہ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ داعی ء محفل سیفؔ نظامی کے شکریہ پر رات دیر گئے اس خوشگوار محفل کا اختتام عمل میں آیا۔
