ظییرآباد 8/ڈسمبر (مشرقی آوازجدید): مفتی محمد سراج احمد قاسمی امام وخطیب مسجد عبد الحکیم جمالی کی اطلاع کے مطابق ظہیرآباد میں جمیع علماء کرام و حفاظ عظام ظہیرآباد کے زیر اہتمام پہلا بین المکاتب مسابقہ “تفہیمِ اسلام (کوئز)” اور تقسیمِ انعامات و اسنادات کا عظیم الشان و پُروقار جلسہ مدرسہ جامعہ عربیہ دارالقرآن، بنک کالونی موسی نگر میں نہایت کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا۔ صبح 11 بجے پروگرام کا آغاز ہوا اور نمازِ ظہر تک نہایت نظم و ضبط کے ساتھ جاری رہا۔ اجلاس کی علمی و دینی شان اس وقت مزید دوبالا ہوگئی جب ظہیرآباد کے ممتاز و جید اور علماء کرام نے اس کی سرپرستی فرمائی، جن میں حضرت مولانا فاروق قاسمی مدظلہ، حضرت مولانا عبدالمجیب قاسمی، حضرت مولانا عتیق احمد قاسمی، حضرت مولانا مفتی نذیر احمد حسامی، حضرت مولانا مفتی عبد الصبور قاسمی خصوصی طور پر شامل رہے۔

پروگرام کی نگرانی:مفتی محمد سراج احمد قاسمی، مفتی معین احمد قاسمی ترجمان: جمیع علماء کرام و حفاظ عظام ظہیرآباد ۔

مفتی عبدالواسع رحمانی (ناظم مدرسہ جامعہ عربیہ دارالقرآن) نے نظامت کے فرائض نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ ادا کیا جبکہ صدارت مفتی محمد خلیل احمد قاسمی نے انجام دی۔ جلسہ کا آغاز محمد ایان (طالب علم دارالقرآن) کی پُرسوز تلاوتِ قرآن مجید سے ہوا۔ بعد ازاں حافظ سجاد خیری نے عقیدت و احترام سے بھرپور نعتِ پاک پیش کی۔ اس کے بعد اکابر علماء کرام نے نہایت مفید، مدلل اور بیدار مغز خطابات کیے جن میں اسلام کی حقانیت، دینی تعلیم کی اہمیت، طلبہ کی ترغیب، اور معاشرے میں اصلاحی کردار پر جامع گفتگو کی گئی۔ مولانا عرفان صاحب ندوی کا خطاب حاضرین میں بے حد پسند کیا گیا۔ پروگرام میں شہر کے معروف سماجی رہنما پیر صابر خلیق صاحب جنرل سیکرٹری جمعیتہ العلماء تلنگانہ نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ انہوں نے بچوں کی دینی تعلیم کی اہمیت، مکاتب کے کردار اور علماء کی خدمات پر نہایت مفید نکات پیش کیے۔ بعد ازاں ان کی شاندار تہنیت بھی کی گئی۔ نیز مسابقہ میں حصہ لینے والے کامیاب طلباء میں انعامات کی تقسیم بھی عمل میں آئی۔واضح رھےکہ مدرسہ جامعہ عربیہ دارالقرآن کے تین طلباء نے ناظرہ قرآن کریم کی باقاعدہ تکمیل کی،جن کی شاندار حوصلہ افزائی کی گئی اور ان کی کارکردگی کو سراہا گیا۔

اس اجلاس میں خواتین و حضرات کی کثیر تعداد موجود تھی. جو اس بات کی علامت ہے کہ عوام میں دینی شعور اور مکاتب کے تئیں گہرا جذبہ موجود ہے۔ جلسے کا اختتام حضرت مولانا فاروق احمد صاحب قاسمی کی پُراثر دعا پر ہوا، نظامت کے فرائض انجام دینے والے مفتی محمد خلیل احمد قاسمی نے آخر میں تمام ذمہ داران، معاونین، محبین دین، اساتذہ اور کفیل حضرات کا شکریہ ادا کیا۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے