تسلیم حفاظ عالی
______________

اربابِ جماعت و جمعیت کے لیے یہ انتہائی مسرت و شادمانی کا موقع تھا کہ آج جامعہ حسنہ للبنات، تلکوباڑی ارریہ (بہار) کے رئیس جناب مولانا مفیض الدین ریاضی کی پرخلوص دعوت پر جماعت کے مایہ ناز عالمِ دین جناب مولانا محمد ابراہیم مدنی حفظہ اللہ (امیر ضلعی جمعیت اہلِ حدیث، سدھارتھ نگر، یوپی) جامعہ حسنہ میں تشریف لائے۔ ان کے ساتھ جناب مولانا وصی اللہ مدنی/ حفظہ اللہ (ناظم ضلعی جمعیت اہلِ حدیث، سدھارتھ نگر، یوپی)، جناب مولانا دل محمد سلفی حفظہ اللہ (استاد جامعہ سلفیہ، بنارس) اور جناب ڈاکٹر عبد الکریم سلفی حفظہ اللہ بھی موجود تھے۔
یہ ملاقات نہ صرف ایک بابرکت لمحہ ثابت ہوئی بلکہ جماعتی رشتہ محبت، باہمی تعاون اور خدمتِ دین کے مشترکہ عزم کومزید مضبوط کرنے کابہترین ذریعہ بھی بنی۔
جامعہ کے معززاساتذہ کرام ، معلمات اور طالبات نے تمام مہمانانِ گرامی قدر کا نہایت گرم جوشی اور خلوصِ دل کے ساتھ استقبال کیا۔جامعہ کے تمام شعبہ جات کامعائنہ کرایا،اس کے بعد استقبالیہ تقریب کا باقاعدہ آغاز جامعہ کے معزز استاد مقری وسیم اکرم سنابلی حفظہ اللہ کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔اس کے بعد نہایت خوب صورت اور دل نشیں آوازوانداز. میں استقبالیہ نظم پیش کی گئی ۔
پھر جامعہ کے روحِ رواں شیخ ابو حارث مفیض الدین ریاضی حفظہ اللہ نے مہمانانِ کرام کو اعزازی مومنٹو پیش کیے اور ان کی آمد پر دلی مسرت کا اظہار کیا۔
اس کے بعد تمام مہمانان گرامی قدر کو یکے بعد دیگرے تاثراتی وتوجہیی اور نصیحتی کلمات پیش کرنے کے لیے دعوتِ سخن دی گئی ۔ سب سے پہلے جناب مولانا وصی اللہ مدنی حفظہ اللہ نے خطاب فرمایا۔ انہوں نے اپنی پرمغز گفتگو میں طالبات کو محنت، لگن، جدوجہد اور اعلیٰ اخلاق کی طرف توجہ دلائی۔ سلفِ صالحین کی مثالیں پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ کردار اور عمل ہی حقیقی کامیابی کا ذریعہ ہیں۔
اس کے بعد جناب مولانا دل محمد سلفی حفظہ اللہ نے سورہ توبہ کی ایک آیتِ مبارکہ کو اپنی گفتگو کا موضوع بنایا:
انہوں نے آیت کریمہ کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ رسولِ اکرم ﷺ کی نبوت و رسالت اللہ کی طرف سے منتخب کردہ ہے اور دینِ اسلام تمام ادیان میں کامل ترین اور برتر دین ہے۔
مزید فرمایا کہ اسلام کے علاوہ کوئی دین اللہ کے نزدیک مقبول نہیں۔ اس دینِ حق کی تبلیغ،اس کے محاسن کا بیان اور اس کی صداقت کو دنیا تک پہنچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے،خصوصاً طالبانِ علومِ نبوت کے لیے یہ شرفِ عظیم ہے۔
بعد ازاں جناب مولانا محمد ابراہیم مدنی حفظہ اللہ نے اپنے مخصوص، دل نشین انداز میں طالبات سے خطاب فرمایا۔ آپ نے علم کی قدر و قیمت اور اس کے تقاضوں پر مؤثر گفتگو کی۔
فرمایا کہ خالص نیت کے ساتھ علم حاصل کرنا ہر طالب علم کی بنیادی ذمہ داری ہےاور علم کا حقیقی ثمر عمل ہے۔
اگر کوئی شخص علم حاصل کرے لیکن اس پر عمل نہ کرے تو یہی علم اس کے لیے وبالِ جان بن جاتا ہے۔ اس لیے علم کے مطابق عمل کرنا ہر حال میں ضروری ہے۔
تقریب کے اختتام پر جامعہ کے روحِ رواں جناب مولانا ابو حارث مفیض الدین ریاضی حفظہ اللہ نے تمام مہمانانِ گرامی کا صمیمِ قلب سے شکریہ ادا کیا اور فرمایا کہ ان کی آمد، مشقتوں اور سفر کی تکالیف کا بدلہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر عطا فرمائے گا۔
انہوں نے جامعہ کے مستقبل کے منصوبوں کا بھی تذکرہ کیا، جسے سامعین نے بڑی دلچسپی سے سنا۔
یوں یہ علمی و روحانی نشست نہایت وقار اور کامیابی کے ساتھ مکمل ہوئی اور حاضرین کے دلوں میں ایک خوش گوار اور یادگار تاثر چھوڑ گئی۔صدر جامعہ نے اپنے مہمانوں کی پرتکلف ضیافت کرتے ہوئے قلبی مسرت کااظہار کیااور دوبارہ اپنے جامعہ کی زیارت کی پرخلوص دعوت دی۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جماعت کے ان مایہ نازسپوتوں کو حاسدین کے شروفتن اور باطل کی یلغار سے محفوظ رکھے اور ان کی دینی خدمات کو قبول فرماکر ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے